ایران نے پیر کو کہا ہے کہ امریکہ سے جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستانی ثالثی میں ہونے والی کوششیں اب بھی جاری ہیں۔
یہ بات ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتائی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’سفارتی مشاورت اور رابطے فطری طور پر ہر قسم کے حالات میں جاری رہتے ہیں۔‘
ایران اور اسرائیل نے اتوار اور پیر کو جنگ بندی کے بعد پہلی مرتبہ ایک دوسرے پر براہ راست حملے کیے ہیں۔
یہ حملے ایک ایسے وقت میں دوبارہ شروع ہوئے ہیں جب پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کوششیں بھی تیز کر دی گئی ہیں۔
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی ان دنوں تہران میں موجود ہیں جہاں انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے ’خاص خط‘ پہنچایا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے اس دورے کے دوران ایرانی ہم منصب کے علاوہ وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کی اتوار کو پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، سے لبنان میں اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں پر بات چیت ہوئی ہے۔
ایسے میں اب ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ سے جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستانی ثالثی میں کوششیں جاری ہیں۔
تاہم انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’رات بھر پیش آنے والی حالیہ پیش رفت امریکہ کے ساتھ سفارتی عمل کی پہلے سے موجود افراتفری اور پیچیدگی کو مزید بڑھا دے گی۔‘
ان کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں دوبارہ لڑائی شروع ہونے کے نتیجے میں خطے میں امن کے قیام کے لیے امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات متاثر ہوں گے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’یہ بالکل فطری بات ہے کہ اس مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کے لیے شروع کیا گیا سفارتی عمل متاثر ہوگا۔‘
