کیا انٹرنیٹ صرف آپ ہی استمعال کر رہے ہیں؟

ٹیکنالوجی کمپنی کلاؤڈ فلیئر کی ایک رپورٹ کے مطابق، مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی بوٹس نے ویب سائٹس تک رسائی اور انٹرنیٹ ٹریفک لانے میں انسانوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، اور یہ سنگ میل توقع سے کہیں پہلے حاصل کر لیا گیا۔

کلاؤڈ فلیئر کے چیف ایگزیکٹیو میتھیو پرنس نے کہا: ’اے آئی بوٹس ٹریفک اتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ انٹرنیٹ کی تاریخ میں پہلی بار بوٹس نے انسانی ٹریفک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ میں سمجھتا تھا کہ یہ 2027 کے آخر یا پھر 2027 کے آغاز میں ہوگا، لیکن یہ میری توقع سے کہیں پہلے ہو گیا۔‘

کلاؤڈ فلیئر کی رپورٹ کے مطابق، انٹرنیٹ سے ڈیٹا اکٹھا کرنے اور ویب سائٹس کا جائزہ لینے کے لیے خودکار سافٹ ویئر پروگراموں کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث اب ویب سائٹس تک رسائی کی تقریباً 58 فیصد درخواستیں  اے آئی ایجنٹس اور بوٹس کی جانب سے کی جا رہی ہیں۔

یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ایک دہائی کے دوران انٹرنیٹ پر موجود ویب سائٹس کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے۔

پیو ریسرچ سینٹر (Pew Research Center ) کی ایک رپورٹ کے مطابق، 2013 میں موجود تقریباً 40 فیصد ویب سائٹس 2023 تک قابل رسائی نہیں رہیں۔ یا تو انہیں ڈیلیٹ یا غیرفعال کر دیا گیا ہے۔

اس کے برعکس ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی  سے چلنے والی ویب سائٹس کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

میتھیو پرنس نے این بی سی نیوز کو بتایا: ’ہم نے ویب کی غیر معمولی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی ترقی دیکھی ہے، جہاں تخلیقی اور دلچسپ چیزیں سامنے آ رہی ہیں، اور اس ترقی کو اے آئی طاقت فراہم کر رہا ہے۔‘

کلاؤڈ فلیئر کی رپورٹ سے قبل سکیورٹی کمپنی امپروا نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ 2017 میں ویب ٹریفک کا نصف سے زیادہ حصہ بوٹس پیدا کر رہے ہیں۔

امپروا نے ایک لاکھ ویب ڈومینز پر تقریباً 17 ارب وزٹس کا تجزیہ کیا اور پایا کہ ٹریفک پیدا کرنے میں بوٹس انسانوں سے آگے نکل چکے تھے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم رپورٹ میں خبردار کیا گیا تھا کہ ویب ٹریفک کا تقریباً 30 فیصد حصہ نقصان دہ ’اٹیک بوٹس‘ پر مشتمل تھا۔

 سائبر سکیورٹی ماہر ایگل زیف مین (Igal Zeifman ) نے اس وقت ایک بلاگ پوسٹ میں لکھا تھا: ’گذشتہ پانچ برسوں کے دوران ہر تیسرا ویب سائٹ وزیٹر ایک اٹیک بوٹ تھا۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’سادہ الفاظ میں، اچھے بوٹس آپ کی ویب سائٹ کو انڈیکس کریں گے جب کہ برے بوٹس اسے ہیک کرنے کی کوشش کریں گے، چاہے وہ انسانوں میں کتنی ہی مقبول کیوں نہ ہو۔‘

یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اے آئی ایجنٹس اور بوٹس نے انسانی سرگرمیوں کو نمایاں طور پر کب پیچھے چھوڑا۔

میتھیو پرنس کے مطابق: ’شاید گذشتہ چند ماہ کے دوران۔ ڈیٹا کچھ حد تک پیچیدہ ہے لیکن اب واضح طور پر توازن دوسری جانب جا چکا ہے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *