ایران میزائل حملوں کے بعد اسرائیل کا بھی فوجی اہداف نشانہ بنانے کا دعویٰ

امریکہ اور ایران میں جنگ کے تناظر میں مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی لائیو اپ ڈیٹس


ایرانی میزائل حملوں کے بعد اسرائیل کے بھی فضائی حملے

اسرائیل نے ایرانی میزائل حملوں کے جواب میں پیر کی صبح وسطی اور مغربی ایران پر فضائی حملے کیے ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ایران کے سرکاری ٹی وی نے اصفہان، تبریز اور تہران میں دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کی اطلاع دی ہے تاہم فوری طور پر اس کی مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی۔

تاہم ایران نے ملک کے مرکزی تہران کے امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے اطراف میں فضائی حدود بند کر دی ہیں۔ 

اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فوج نے پیر کو کہا کہ اس نے مغربی اور وسطی ایران میں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیل ڈیفنس فورسز نے ٹیلی گرام پر پوسٹ میں کہا کہ ’کچھ دیر قبل، اسرائیلی فضائیہ نے مغربی اور وسطی ایران میں ایرانی دہشت گرد حکومت کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔‘

ان حملوں سے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ میں مستقل جنگ بندی کی کوششیں مزید متاثر ہوئی ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے قبل ایران نے اسرائیل پر میزائل داغے تھے، جو اپریل کے اوائل میں ایک کمزور جنگ بندی کے نفاذ کے بعد اس طرح کی پہلی بمباری تھی۔

حملوں کے اس تبادلے نے دوبارہ شدید لڑائی شروع ہونے کے امکانات کو بڑھا دیا ہے، جس سے جنگ کے خاتمے کے لیے جاری ثالثی کی کوششیں پیچیدہ ہو گئی ہیں۔


ایرانی، اسرائیلی حملوں کا امن مذاکرات پر اثر نہیں پڑے گا: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا ہے کہ اسرائیل اور ایران کے نئے حملوں کا ان کی انتظامیہ کے تہران کے ساتھ امن مذاکرات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو ’فیصلے نہیں کرتے۔‘

اے پی کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ لبنان میں اپنے حملے روکے تاکہ ایران کے ساتھ وسیع تر جنگ کے خاتمے کے معاہدے کی راہ ہموار ہو سکے، جس میں گذشتہ ہفتے ایک فون کال میں نیتن یاہو کو ڈانٹنا بھی شامل ہے۔

تاہم، اسرائیل نے اتوار کی صبح بیروت کے علاقے میں حملے کیے، جو گذشتہ ہفتے امریکہ کی جانب سے لبنان کے لیے جنگ بندی کے منصوبے کے اعلان کے بعد پہلا واقعہ ہے۔

ایران نے جوابی کارروائی میں اسرائیلی اہداف پر کئی میزائل داغے، جس سے امریکہ اور ایران کے امن مذاکرات خطرے میں پڑ گئے۔ لیکن ٹرمپ نے اس بات پر اصرار کیا کہ وسیع تر جنگ کے خاتمے کا معاہدہ ابھی بھی ان کی پہنچ میں ہے۔

ٹرمپ نے فنانشل ٹائمز کو بتایا، ’اس کا معاہدے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ میں فیصلے کرتا ہوں۔ میں تمام فیصلے کرتا ہوں۔ وہ فیصلے نہیں کرتا۔‘

ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل داغے جانے کے پانچ گھنٹے بعد تک، نتن یاہو نے اس حملے پر عوامی سطح پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ایران کے پاسداران انقلاب نے کہا کہ انہوں نے ناصرہ کے قریب رامات ڈیوڈ ایئر بیس کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ایران سے داغے گئے میزائلوں کی نشاندہی کر لی اور اس کے دفاعی نظام نے انہیں راستے میں ہی تباہ کر دیا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *