چین کے صدر شی جن پنگ تقریباً سات سال میں شمالی کوریا کے اپنے پہلے دورے پر روانہ ہونے والے ہیں۔ یہ ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے اور کم جونگ اُن کو ان تیزی سے جارحانہ ہوتی ہوئی خارجہ پالیسی کو پیش کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔
یہ دورہ پیانگ یانگ کی اپنے روایتی سرد جنگ کے اتحادیوں کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے کی حکمت عملی کو اجاگر کرتا ہے۔
جبکہ توقع ہے کہ شمالی کوریا کے لیے اہم اقتصادی شہ رگ کی حیثیت رکھنے والا بیجنگ ایک ایسی حکومت پر اپنا اثر و رسوخ دوبارہ قائم کرے گا جس کا جھکاؤ حال ہی میں روس کی طرف رہا ہے۔
پیر کو شروع ہونے والا یہ تین روزہ دورہ، ستمبر 2025 میں دوسری عالمی جنگ کی ایک تقریب کے لیے کم کے دورہ بیجنگ کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلا براہ راست رابطہ ہے۔
توقع ہے کہ اس انتہائی اہم بات چیت میں دونوں ممالک کے مختلف جیو پولیٹیکل اور اقتصادی مقاصد پر غور کیا جائے گا۔
کم جونگ ان کو کیا حاصل ہو سکتا ہے؟
روس کو ترجیح دینے کے ایک عرصے کے بعد، جس میں شمالی کوریا نے یوکرین پر ماسکو کے حملے کی حمایت کے لیے ہزاروں فوجی اور گولہ بارود بھیجا، کم اب چین کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کے خواہاں ہیں۔
اس اقدام کا مقصد بین الاقوامی تنہائی سے مزید باہر نکلنا، ’نئی سرد جنگ‘ کے تصور کو اپنانا، اور پیانگ یانگ کو امریکہ کے خلاف ایک متحدہ محاذ کے حصے کے طور پر کھڑا کرنا ہے۔
تاریخی طور پر، شمالی کوریا نے بیجنگ اور ماسکو کے درمیان ’مساوی فاصلے‘ کی پالیسی برقرار رکھی ہے، جو ایک ایسی حکمت عملی ہے جسے پچھلے رہنماؤں نے اپنے دو اہم سرپرستوں سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا تھا۔
اگرچہ وہ روس کی جنگی کوششوں کی حمایت کرنے پر اس سے اہم مدد حاصل کر رہے ہیں، جس میں ممکنہ طور پر فوجی ٹیکنالوجی اور امداد شامل ہے، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ کم چین کی خاطر خواہ اقتصادی امداد کے بغیر اپنے عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کا وعدہ پورا نہیں کر سکتے۔
سیئول کے انسٹی ٹیوٹ آف نیشنل یونیفکیشن کے سابق صدر کوہ یو ہوان وضاحت کرتے ہیں کہ ’شمالی کوریا ایک خود انحصار اقتصادی نظام کو برقرار رکھنے اور اپنی ایٹمی صلاحیتوں کو آگے بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنے کا عہد کرتا ہے، لیکن حقیقت میں صرف اندرونی وسائل کو بروئے کار لا کر معیار زندگی کو بلند کرنا تقریباً ناممکن ہے۔‘
کم جونگ ان اور شی جن پنگ ملاقات کے دوران ممکنہ بات چیت میں شمالی کوریا کے لیے چینی سیاحت کی بحالی اور دریائے یالو پر واقع اس پل کو کھولنا شامل ہو سکتا ہے، جو مکمل ہونے کے بعد سے برسوں تک استعمال نہیں ہوا۔
دونوں رہنما شمالی کوریا، چین اور روس کے مشترکہ سرحدی علاقوں میں اقتصادی ترقی کے مشترکہ منصوبوں کا بھی جائزہ لے سکتے ہیں۔
یہ دورہ اس حوالے سے بھی سوالات اٹھاتا ہے کہ آیا کم واشنگٹن کے ساتھ دوبارہ بات چیت کے لیے اپنی بہتر سفارتی حیثیت کا فائدہ اٹھائیں گے؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کی پچھلی بات چیت 2019 میں شمالی کوریا پر پابندیوں سے متعلق اختلافات کی وجہ سے ناکام ہو گئی تھی۔
پیانگ یانگ نے امریکی صدر کے اپنی دوسری مدت میں داخل ہونے کے بعد ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی پیشکشوں کو مسترد کر دیا ہے، اور اس بات پر اصرار کیا ہے کہ واشنگٹن پہلے ایک شرط کے طور پر شمالی کوریا کے ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کا اپنا مطالبہ ترک کرے۔
کم نے 2018 اور 2019 میں سنگاپور اور ویتنام میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے سربراہی اجلاسوں سے قبل شی سے ملاقات کی تھی، ان اقدامات کو وسیع پیمانے پر ان کی سودے بازی کی پوزیشن کو مضبوط بنانے کی کوششوں کے طور پر دیکھا گیا۔
سیئول کی ایوا یونیورسٹی کے پروفیسر پارک وون گون نے بتایا: ’شمالی کوریا کے نقطہ نظر سے، یہ مانا جاتا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے وقت چین کی حمایت حاصل ہونے سے سکیورٹی اور اعتماد کا احساس ملتا ہے۔‘
شی جن پنگ کے مقاصد
چین کے لیے یہ دورہ ایک روایتی اتحادی کو اپنے دائرہ اثر کے مزید قریب لانے کا موقع فراہم کرتا ہے، جو ممکنہ طور پر اقتصادی مراعات اور خوراک کی امداد کی پیشکش کے ذریعے ہو سکتا ہے، یہ امداد کی وہ روایتی شکلیں ہیں جو بیجنگ شمالی کوریا کو فراہم کرتا رہا ہے۔
سی این این کے سابق صحافی اور مصنف مائیک چنائے نے کہا کہ ’میرے خیال میں چینی نجی طور پر کم جونگ ان اور ولادی میر پوتن کے بڑھتے ہوئے تعلقات پر قدرے بے چین ہیں، کیوں کہ شمالی کوریا کا جھکاؤ واقعی بہت زیادہ روس کی طرف ہو گیا ہے۔ شی جن پنگ کے ہدف کا ایک حصہ اس توازن کو درست کرنا ہے۔‘
شی جنگ پنگ کا یہ دورہ 2026 میں ان کی بیرون ملک پہلی مصروفیت ہے، وہ عالمی وبا کے بعد سے سرکاری دوروں کے بارے میں کافی محتاط ہو گئے ہیں۔
ٹرمپ اور پوتن دونوں کے ساتھ الگ الگ مصروفیات کے بعد، اس دورے کے وقت کو سٹریٹجک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
جارج ایچ ڈبلیو بش فاؤنڈیشن فار یو ایس چائنہ ریلیشنز کے ایک سینیئر فیلو سیونگ ہیون لی نے تبصرہ کیا ہے کہ ’یہ دورہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ان کی رضامندی کے بغیر کوئی بھی جزیرہ نما کے سکیورٹی ڈھانچے کو نئی شکل نہیں دے سکتا۔‘
بیجنگ بھی کم کے واضح جوہری عزائم کے حوالے سے زیادہ حقیقت پسندانہ رویہ اپناتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
اپریل میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے پیانگ یانگ کے دورے کے دوران، مبصرین نے سرکاری بیان سے ’ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے‘ کے لفظ کی نمایاں غیر موجودگی کو نوٹ کیا، جو جزیرہ نما کوریا کے ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کی وکالت کرنے والے چین کے معمول کے موقف سے انحراف ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
لی نے مزید وضاحت کی کہ ’اس دورے کی سب سے نمایاں علامت ایک خاموشی ہو سکتی ہے: اگر چین کے سرکاری بیان میں ’ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے‘ کے لفظ کو چھوڑ دیا جاتا ہے، تو بیجنگ نے عملی طور پر شمالی کوریا کو ایک ایٹمی ملک تسلیم کر لیا ہے، اور اس مسئلے کو امریکہ کے خلاف اپنی وسیع تر بفر حکمت عملی کا حصہ بنا لیا ہے۔‘
اس کے بدلے میں، چین دریائے تومن کے دہانے تک زیادہ رسائی حاصل کر سکتا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان سرحد کا حصہ بنتا ہے، اور جزیرہ نما کوریا کے مشرقی ساحل کے پانیوں میں جہاز رانی کے حقوق طلب کر سکتا ہے۔
اگرچہ توقع ہے کہ کم شی کا شاندار اور پرتپاک استقبال کریں گے، ماہرین کا خیال ہے کہ چین کے لیے تیزی سے پر اعتماد ہوتے ہوئے شمالی کوریا کے رہنما سے اہم مراعات حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
مائیک چنائے نے کہا کہ ’وہ شی جن پنگ کا اپنے ایک دیوہیکل پڑوسی ملک کے سربراہ مملکت کے شایان شان استقبال کرنے والے ہیں، لیکن وہ ایک فرمانبردار ’چھوٹے بھائی‘ کا کردار ادا نہیں کریں گے۔‘
