سوویت دور کے اسلحے کی مرمت کے لیے طالبان۔روس معاہدہ

روس ایک نئے معاہدے کے تحت افغانستان میں موجود سوویت دور کے ہتھیاروں کی مرمت شروع کرے گا جس سے طالبان کی فوجی طاقت میں اضافہ ہو گا۔

افغانستان کے لیے روس کے صدارتی نمائندے ضمیر کابلوف نے کہا ہے کہ اس معاہدے پر گذشتہ ہفتے ماسکو میں انٹرنیشنل سکیورٹی فورم میں دستخط کیے گئے۔

یہ معاہدہ صدر ولادی میر پوتن کی طالبان کے ساتھ سفارتی اور فوجی تعلقات مضبوط کرنے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو 2021 میں نیٹو کی حمایت یافتہ حکومت سے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مغرب سے الگ تھلگ ہیں۔

طالبان کو سینکڑوں پرانے ٹینک، ہیلی کاپٹر اور فوجی گاڑیاں وراثت میں ملیں جو ایک دہائی کے قبضے اور لڑائی کے بعد 1989 میں سوویت افواج ملک سے نکلتے وقت پیچھے چھوڑ گئی تھیں۔ اس لڑائی میں کم از کم 13700 سوویت فوجی جان سے گئے اور 40000 سے 50000 زخمی ہوئے تھے۔

روسی ریاست سوویت یونین کی قانونی جانشین ہے۔

2021 میں جب امریکہ کی زیر قیادت نیٹو افواج نے عجلت میں انخلا کیا تو طالبان کے قبضے میں خاصی تعداد میں جدید مغربی فوجی ساز و سامان بھی آ گیا تھا۔

روسی خبر رساں ایجنسی ریا نووستی نے ضمیر کابلوف کے حوالے سے بتایا کہ ’افغان شراکت دار بنیادی طور پر روس کے تیار کردہ مختلف فوجی ساز و سامان کی مرمت اور بحالی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔‘

 انہوں نے مزید کہا کہ یہ نئے معاہدے پر عمل درآمد کی جانب ’پہلا عملی قدم‘ ہے۔

وزارت دفاع کے مطابق افغانستان میں سوویت دور کے ہتھیاروں میں ٹی-55 اور ٹی-62 ٹینک، پیادہ فوج کی جنگی گاڑیاں بی ایم پی-ون اور بی ایم پی-ٹو اور ایم آئی-17 اور ایم آئی-24 ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔

نیٹو کی حمایت یافتہ حکومت میں فوجی ساز و سامان کے انتظامات دیکھنے والے ایک سابق افغان سکیورٹی اہلکار احمد شجاع جمال نے کہا کہ وزیر دفاع ملا محمد یعقوب کا ماسکو کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنا ستم ظریفی ہے۔ ملا یعقوب طالبان کے بانی ملا محمد عمر کے بیٹے ہیں۔

انہوں نے کہا: ’نام نہاد وزیر دفاع کے والد سمیت طالبان کے کئی رہنما سوویت فوج یا جنہیں افغانستان میں اکثر روسی کہا جاتا ہے، کے خلاف لڑتے ہوئے جوان ہوئے ہیں۔ اب ان کے بیٹے اسی دشمن کے ساتھ معاہدے کر رہے ہیں جسے ان کے اجداد نے جہاد میں مارنے کی قسم کھائی تھی۔‘

احمد شجاع جمال نے انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’یہ ایک ایسی ستم ظریفی ہے کہ اگر آپ طالبان کو جانتے ہوں تو آپ کو اس پر کوئی حیرت نہیں ہو گی۔ طالبان ایک تضاد کا نام ہیں کیوں کہ وہ ایک طرف تو سختی سے نظریاتی ہیں اور دوسری طرف بے شرمی کے ساتھ مفادات کا لین دین بھی کرتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت کے پاس ممکنہ طور پر چند ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر موجود ہیں جو برسوں سے دیکھ بھال نہ ہونے کے باوجود اب بھی کارآمد ہو سکتے ہیں۔

سوویت دور کے دو انجن والے دیوہیکل فوجی ٹرانسپورٹ طیاروں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ’استعمال نہ ہونے والے کچھ اے این-26 طیارے بھی موجود ہیں، لیکن ان کی تعداد اتنی نہیں کہ وہ کوئی بڑی تبدیلی لا سکیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’جو چند طیارے ہمارے پاس تھے، انہیں ہم نے ناکارہ کر کے ان کے پرزے نکال لیے تھے کیوں کہ ہم نظام کو آپس میں مربوط کرنے کے لیے امریکہ کے تیار کردہ فضائی اثاثوں کی جانب منتقل ہو رہے تھے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی افواج نے ہیلی کاپٹروں، ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں سمیت اس ساز و سامان کو تباہ یا ناکارہ بنانے کی کوشش کی تھی جو وہ پیچھے چھوڑنے پر مجبور ہو گئی تھیں، اور یہ معلوم نہیں تھا کہ آیا طالبان اس میں سے کسی کو استعمال کرنے کے قابل ہوئے یا نہیں۔

نیٹو کی حمایت یافتہ حکومت میں نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی کے سربراہ احمد ضیا سراج نے کہا کہ مغربی ساز و سامان طالبان کے انحصار کے لیے مناسب نہیں تھا۔ 

انہوں نے انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’یہ ساز و سامان بہت مہنگا، دیکھ بھال میں مشکل اور فعال رکھنا ناممکن ہے، جب تک کہ آپ کو نیٹو کی حمایت حاصل نہ ہو۔

’لہٰذا، تقریباً 18 ماہ قبل طالبان کے رہنما نے سوویت دور میں پیچھے رہ جانے والے روسی ساز و سامان اور سابق حکومت کی جانب سے خریدے گئے روسی ہیلی کاپٹروں جیسے کچھ سامان کی مرمت اور بحالی کا حکم دیا تھا۔‘

ان کا دعویٰ ہے کہ مقامی سطح پر پرانے ساز و سامان کی مرمت کی کوششوں میں ناکامی کے بعد نئی حکومت نے مدد کے لیے روس کا رخ کیا۔

احمد ضیا سراج نے دعویٰ کیا: ’طالبان نے پرانے ٹینکوں اور دیگر قسم کے بھاری ساز و سامان کی مرمت کے لیے سابق حکومتوں کے دوران وزارت دفاع میں کام کرنے والے تقریباً تمام تکنیکی ماہرین کو قندھار میں اکٹھا کیا۔ لیکن روس سے نئے پرزے خریدے بغیر یہ ایک مشکل کام معلوم ہوتا تھا۔ طالبان نے اس نوعیت کا زیادہ تر ساز و سامان قندھار منتقل کر دیا ہے۔‘

احمد شجاع جمال نے کہا کہ اگر پرانے روسی ہتھیاروں کی کامیابی سے مرمت ہو گئی تو طالبان کا اسلحہ خانہ ’ایم 16 اور ایم 4 جیسے امریکہ کے تیار کردہ چھوٹے ہتھیاروں اور سوویت ورثے کے بھاری ساز و سامان کے کچھ حصے کا ایک عجیب امتزاج‘ بن جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’طالبان کو ٹی 52 اور بی ایم پی گاڑیاں چلانے کے لیے کافی افغان مل سکتے ہیں۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *