جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں میں سات اموات

اسرائیلی فوج نے جمعے کو جنوبی لبنان کے علاقوں پر حملے کیے ہی جن میں تاحال سات اموات ہو چکی ہیں جبکہ مزید کئی علاقوں کو خالی کرنے کی وارننگ بھی جاری کی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق لبنانی سول ڈیفنس نے بتایا ہے کہ سرائیلی فوج نے جمعرات اور جمعے کی درمیانی رات صور کے علاقوں پر حملے کیے جن مین سات افراد جان سے جا چکے ہیں۔

جبکہ جمعے کو اسرائیلی فوج نے سرافند کے رہائشیوں کو، جو صور اور صیدا کے درمیان ساحلی شاہراہ پر واقع ہے، فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کی ہدایت کی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائے ادرعی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی اور اسرائیل کے اندر حملوں کے باعث فوج کو سخت کارروائی کرنا پڑ رہی ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں۔

انہوں نے سرافند اور سکسکیہ سمیت چھ قصبوں اور دیہاتوں کا ذکر کیا اور کہا کہ ’آپ کی سلامتی کے پیش نظر، آپ کو فوری طور پر اپنے گھروں کو خالی کرنا چاہیے اور دریائے زہرانی کے شمال کی جانب منتقل ہو جانا چاہیے۔‘ 

یہ دریا سرحد سے تقریباً 40 کلومیٹر (25 میل) دور ہے۔ یہ صورت حال ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب امریکہ کی ثالثی میں واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے بعد جاری مشترکہ بیان کے مطابق اسرائیل اور لبنان نے بدھ کو جنگ بندی پر عمل درآمد کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

 تاہم اس کے لیے حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا ’مکمل خاتمہ‘ ضروری قرار دیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق دونوں فریق، جن کے درمیان باقاعدہ سفارتی تعلقات موجود نہیں، اس بات پر بھی متفق ہوئے کہ ایسے ’پائلٹ زونز‘ قائم کیے جائیں گے جہاں لبنانی مسلح افواج علاقے کا ’مکمل اور خصوصی کنٹرول‘ سنبھالیں گی اور وہاں کسی بھی غیر ریاستی گروہ کی موجودگی نہیں ہوگی۔

تاہم حزب اللہ، جو اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہِ راست مذاکرات کو مسترد کرتی ہے، نے اس اعلان پر تاحال کوئی ردِعمل نہیں دیا، جبکہ اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

اسرائیل نے گذشتہ ہفتے دریا کے جنوب میں واقع تمام علاقوں کو ’جنگی زون‘ قرار دیا تھا۔ جمعرات کو اس سے قبل اسرائیلی فوج نے کہا کہ شمالی اسرائیل میں فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے۔

ایک واقعے میں ’مشکوک فضائی ہدف‘ کی اطلاع ملی تھی، جسے بعد میں نمٹا لیا گیا، جبکہ دوسرے واقعے کو فالس الارم قرار دیا گیا۔

دوسری جانب اعلان سے قبل حزب اللہ نے کہا تھا کہ اس نے جمعرات کی صبح جنوبی لبنان میں داخل ہونے والے اسرائیلی فوجیوں پر راکٹوں اور ڈرونز سے حملے کیے۔

واشنگٹن میں مذاکرات کے بعد امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں کہا گیا تھا کہ جنگ بندی کا انحصار حزب اللہ کی جانب سے فائرنگ کے ’مکمل خاتمے‘ اور جنوبی لبنان سے اس کے جنگجوؤں کے انخلا پر ہوگا۔

واشنگٹن میں ہونے والے یہ مذاکرات لبنانی اور اسرائیلی سفارت کاروں کے درمیان براہِ راست بات چیت کا چوتھا دور تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ مذاکرات دو مارچ کو شروع ہونے والی لڑائی کے بعد ہوئے، جب حزب اللہ نے ایران کی حمایت میں اسرائیل پر حملے دوبارہ شروع کیے تھے۔

بیان کے مطابق، دونوں فریق جون کے آخری ہفتے میں مزید مذاکرات کریں گے تاکہ ’جامع معاہدے‘ تک پہنچا جا سکے۔

یہ بھی کہا گیا کہ تمام ممالک نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان تعلقات کے مستقبل کا فیصلہ دونوں خودمختار حکومتیں کریں گی اور کسی بھی ریاستی یا غیر ریاستی فریق کی جانب سے لبنان کے مستقبل کو یرغمال بنانے کی ہر کوشش کو مسترد کر دیا گیا۔

اس سے قبل بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ لبنان کے تنازع پر ہونے والے مذاکرات کو ایران کے ساتھ جنگ سے متعلق بات چیت سے الگ رکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم تہران کا اصرار ہے کہ دونوں تنازعات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا تھا کہ بیروت پر کسی بھی حملے کی صورت میں جنگ ’مکمل شدت‘ سے دوبارہ شروع ہو جائے گی۔

لبنان میں لڑائی روکنے کے لیے 17 اپریل سے جنگ بندی نافذ ہونا تھی، لیکن اس پر کبھی عمل نہیں ہوا اور دونوں فریق ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں کا الزام لگا کر اپنے حملوں کا جواز پیش کرتے رہے ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *