پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال کی درخواست پر نیشنل سائبر کرائم ایجنسی (این سی سی اے) نے ہراسانی کے الزامات کی تحقیق کے بعد مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے خلاف پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت مقدمہ درج کر لیا، تاہم عدالت نے ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرتے ہوئے ان کی گرفتاری روک دی۔
مومنہ اقبال نے کئی روز قبل رکن صوبائی اسمبلی پر ہراسانی کا الزام لگایا تھا، جس کے بعد یہ معاملہ کئی دن میڈیا پر چلتا رہا۔ اداکارہ نے این سی سی آئی کو مقدمے کی درخواست دی تھی، جس پر ایجنسی نے ثاقب چدھڑ کو طلب کر کے بیانات ریکارڈ کیے۔
این سی سی اے کو دی گئی درخواست میں مومنہ اقبال نے الزام عائد کیا کہ ن لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ سائبر ہراسانی، بلیک میلنگ، مجرمانہ دھمکیوں، ہتک عزت اور نجی ویڈیوز کے مبینہ غیر قانونی استعمال کے مرتکب ہوئے ہیں اور ان پر شادی کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
دوسری جانب ثاقب چدھڑ نے بھی لاہور میں مقدمہ درج کروا رکھا ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ مومنہ اقبال نے اپنے دوست کے ذریعے انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔
ثاقب چدھڑ کے وکیل علی اشفاق نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’مومنہ اقبال 2021 سے ثاقب کی دوست ہیں۔ دونوں نے نہ صرف ایک ساتھ وقت گزارا بلکہ بیرون ملک سفر بھی کیے۔ اتنے سال دوستی کے دوران انہیں ہراسانی کی شکایت نہیں ہوئی۔ اب وہ جھوٹے الزامات لگا کر ایم پی اے کی شہرت کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وکیل نے مزید بتایا کہ ’این سی سی اے نے مقدمہ تو درج کر لیا لیکن عدالت میں الزام ثابت کرنا مشکل ہوگا۔ ہم نے ایڈیشنل سیشن جج عرفان احمد شیخ کی عدالت سے 24 جون تک ضمانت منظور کروا لی ہے۔‘
ملزم کے خلاف درج ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ پیکا کی متعلقہ دفعات اور پاکستان پینل کوڈ کی متعدد دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔ ان دفعات کا تعلق سائبر ہراسانی، نجی معلومات کے غیر قانونی استعمال، دھمکیوں، ہتک عزت اور دیگر مبینہ جرائم سے ہے۔
این سی سی آئی حکام کے مطابق شکایت کنندہ مومنہ اقبال نے الزام لگایا کہ ملزم نے ان کی ایک نجی اور حساس ویڈیو غیر قانونی طور پر حاصل کی اور بعد ازاں اسے مختلف افراد کے ساتھ شیئر کیا۔ اس مواد کو انہیں دباؤ میں لانے، بلیک میل کرنے اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا گیا۔
این سی سی اے کو شکایت کنندہ کی جانب سے فراہم کردہ بیان میں کہا گیا کہ انہیں مسلسل ذہنی دباؤ، دھمکیوں اور سماجی بدنامی کا سامنا کرنا پڑا، جب کہ ان کے ذاتی اور خاندانی معاملات کو بھی متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔
تحقیقات کے دوران این سی سی اے نے شکایت کنندہ اور دیگر متعلقہ افراد سے ڈیجیٹل شواہد حاصل کیے، جن میں موبائل فونز اور یو ایس بی ڈیوائسز شامل ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق یہ تمام مواد ضابطے کے مطابق قبضے میں لے کر تکنیکی اور فرانزک جانچ کے لیے بھجوایا گیا جبکہ تفتیش کے دوران موبائل نمبرز، کال ڈیٹا ریکارڈ اور متعلقہ موبائل ڈیوائسز کے استعمال کا بھی جائزہ لیا گیا۔
مزید کہا گیا کہ بعض شواہد سے مختلف موبائل نمبرز اور ڈیوائسز کے مشترکہ استعمال کی نشاندہی ہوئی ہے جبکہ بعض ڈیجیٹل مواد کے حذف کیے جانے کے پہلوؤں کا بھی مشاہدہ کیا گیا۔
این سی سی اے تحقیقات میں یہ الزام بھی سامنے آیا کہ شکایت کنندہ کی بعض ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کی گئی اور انہیں ہراساں کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ ایف آئی آر کا اندراج ابتدائی شواہد اور شکایت کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور ملزم کے خلاف عائد الزامات کا حتمی فیصلہ عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد اور مکمل عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔
