وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مخلص ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے یہ بات جمعرات کی شب اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے میں امریکہ کی 250 ویں سالگرہ کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب میں کہی۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملوں کا آغاز کیا جس کے بعد ایران کی طرف سے جوابی حملے شروع ہو گئے اور پھر جنگ کا دائرہ خطے میں پھیل گیا۔
پاکستان مسلسل جنگ بندی کے لیے کوشاں رہا اور ثالثی کی بھی کوششیں کرتا رہا۔ انہی کوششوں کے سبب 8 اپریل کو امریکہ اور ایران میں عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہوا جس کے بعد 11 اپریل کو پاکستان کی میزبانی میں دونوں ممالک کے درمیان براہ امن مذاکرات بھی ہوئے لیکن وہ نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئے۔
پاکستان کی طرف سے اب بھی امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری ہیں۔
شہباز شریف نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ’انتھک کوششوں کو بھی سراہا‘ جس کے ذریعے وہ علاقائی امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مخلص ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے۔ اعتماد کے اظہار پر امریکہ اور ایران کے شکر گزار ہیں۔‘
انہوں نے گزشتہ ہفتے نائب وزیراعظم اور امریکی وزیر خارجہ کے درمیان واشنگٹن میں مثبت ملاقات کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ اس میں دو طرفہ تعلقات اور علاقائی تعاون پر بہترین گفتگو ہوئی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
شہباز شریف نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں قیام امن کے لیے امریکی صدر کے کردار کے ہمیشہ شکر گزار رہیں گے اور صدر ٹرمپ کو ’امن کے داعی‘ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے مابین طویل شراکت داری ہے۔ ’ہمارے تعلقات آٹھ دہائیوں پر محیط ہیں اور اس کا دائرہ انسداد دہشت گردی، تجارت، سرمایہ کاری سے لیکر زراعت ، تعلیم ، صحت ، عوام کے مابین رابطوں اور توانائی سمیت مختلف شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان سب سے مضبوط پل 10 لاکھ پاکستانی نژاد امریکی ہیں جبکہ 80 بڑی امریکی کمپنیاں پاکستان میں کام کر رہی ہیں۔ وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ صدر ٹرمپ کی بروقت مداخلت سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی۔
