یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور کاجا کالاس پیر کو اسلام آباد پہنچیں اور آٹھویں ’پاکستان-یورپی یونین سٹریٹجک ڈائیلاگ‘ میں شرکت کی جس میں دوطرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا گیا۔
یہ سٹریٹجک ڈائیلاگ دونوں فریقوں کے درمیان اعلیٰ سطح کا باضابطہ فورم ہے، جس میں ’پاکستان-یورپی یونین سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان 2019‘ کے تحت تمام شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
یہ ڈائیلاگ ہر سال منعقد ہوتا ہے اور اس کا آخری اجلاس نومبر 2025 میں اسلام آباد میں ہوا تھا۔
Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 met with the EU HR/VP Ms. Kaja Kallas @kajakallas, today in Islamabad.
During the meeting, both sides acknowledged the positive trajectory of Pakistan-EU ties and agreed to further strengthen the… pic.twitter.com/xJAVuE3MG0
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 1, 2026
ملاقات کے دوران دونوں فریقوں نے ’پاکستان-یورپی یونین‘ تعلقات کے مثبت رجحان کو سراہا اور اس باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی صورت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
یورپی یونین کی سفارتی سروس ’یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس‘ اور پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق، کالاس نے اس اجلاس کی مشترکہ صدارت پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ کی۔
دفتر خارجہ کے مطابق جب کاجا کالاش وزارت خارجہ پہنچیں تو اسحاق ڈار نے ان کا استقبال کیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس کے مطابق، اپنے دورے کے دوران کالاس ؎صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ملاقات کریں گی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس دورے کے دوران وہ تھنک ٹینکس اور تعلیمی اداروں کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گی۔
پاکستان یورپی یونین کو خاص اہمیت دیتا ہے کیونکہ یہ اسلام آباد کا ایک بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جہاں پاکستان کی 30 فیصد سے زائد برآمدات ’جی ایس پی پلس‘ سکیم کے تحت جاتی ہیں۔
جی ایس پی پلس سکیم کے تحت ممالک کو یورپی منڈی تک ڈیوٹی فری رسائی دی جاتی ہے، بشرطیکہ وہ 27 بین الاقوامی بنیادی معاہدوں، جن میں انسانی اور شہری حقوق کے معاہدے بھی شامل ہیں، پر عمل درآمد کریں۔ پاکستان اس سکیم سے فائدہ اٹھانے والے ممالک میں شامل ہے۔
