صدر ٹرمپ کو وزن کم کرنے کی ضرورت ہے: ہیلتھ رپورٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ طبی معائنے کے نتائج کے مطابق، اگرچہ 79 سالہ صدر کا وزن بڑھا ہے، لیکن وہ ’بہترین صحت‘ میں ہیں۔ تاہم رپورٹ میں ان کے گلے پر حالیہ خارش (ریش) کا ذکر نہیں کیا گیا۔

پچھلے میڈیکل معائنوں کی طرح، وائٹ ہاؤس کے معالج ڈاکٹر شان باربیبیلا نے بھی ٹرمپ کی مجموعی صحت کے بارے میں مثبت رائے دی اور کہا کہ وہ ’مکمل طور پر فٹ‘ ہیں اور ان کی دل، پھیپھڑوں، اعصابی نظام اور جسمانی کارکردگی مضبوط ہے۔

ٹرمپ کا وزن 238 پاؤنڈ ہے، جو اپریل 2025 کے آخری معائنے کے مقابلے میں تقریباً 14 پاؤنڈ زیادہ ہے۔ ڈاکٹر باربیبیلا نے انہیں وزن کم کرنے کے لیے زیادہ جسمانی سرگرمی اور خوراک میں تبدیلی کی تلقین کی ہے۔

اس کے باوجود رپورٹ میں صدر کی مجموعی صحت کو بہت اچھا قرار دیا گیا ہے۔ حالانکہ عوام میں ان کی ذہنی اور جسمانی حالت کے حوالے سے خدشات موجود ہیں۔

صدر اکثر ہاتھوں پر نیل (چوٹ کے نشانات) کے ساتھ نظر آتے ہیں، جو مسلسل اسپرین لینے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ ان کی ٹانگوں میں سوجن بھی رہتی ہے، جو دائمی وینس ناکافی (خون کی رگوں کی بیماری) کا نتیجہ ہے، اور حال ہی میں جِلد پر خارش کا مسئلہ بھی سامنے آیا۔

رپورٹ میں اگرچہ ان کی رگوں کی بیماری اور اسپرین کے استعمال کا ذکر کیا گیا، لیکن مارچ میں ان کے گلے پر ظاہر ہونے والی خارش کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ اس وقت ڈاکٹر باربیبیلا نے اسے ایک ’عام کریم‘ کے استعمال کا ضمنی اثر قرار دیا تھا، جو جلد کی حفاظت کے لیے لگائی جاتی ہے۔

صدر کے جلد کے معائنے والے حصے میں بھی نہ تو اس خارش کا ذکر ہے اور نہ ہی اس کریم کا۔

ڈاکٹر باربیبیلا نے ایک بار پھر کہا کہ ٹرمپ کے ہاتھوں پر آنے والے نیل زیادہ ہاتھ ملانے اور اسپرین لینے کے باعث معمولی ٹشو پر اثر کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ ااسپرین کا استعمال دل کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے کیا جا رہا ہے، تاہم انہوں نے اس کی خوراک کم کرنے کی سفارش کی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رپورٹ میں حالیہ خارش یا اس کے علاج کا ذکر نہ ہونا اس بات پر مزید بحث کو جنم دیتا ہے کہ ٹرمپ ماضی میں بھی اپنی صحت کے مسائل کو عوام کے سامنے کم ظاہر کرتے رہے ہیں۔

ماضی میں بھی ٹرمپ اپنی میڈیکل معلومات شیئر کرنے سے گریز کرتے رہے ہیں۔ 2024 کے انتخابی مہم کے دوران انہوں نے اپنے طبی ریکارڈ جاری کرنے سے انکار کیا تھا۔

2015 میں جب وہ صدارتی امیدوار تھے تو ان کے سابق ڈاکٹر ہیرالڈ بورنسٹین نے ایک خط جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ٹرمپ ’اب تک کے سب سے صحت مند صدر‘ ہوں گے۔ تاہم بعد میں ڈاکٹر بورنسٹین نے کہا کہ یہ خط خود ٹرمپ کے کہنے پر لکھا گیا تھا۔

2020 میں جب ٹرمپ کو کووڈ-19 کے دوران ہسپتال میں داخل کیا گیا تو ان کے ڈاکٹروں پر یہ الزام لگا کہ انہوں نے ان کی حالت کے بارے میں مکمل شفافیت نہیں دکھائی۔ ان کے سابق معالج شان کونلی نے تسلیم کیا تھا کہ انہوں نے صورتحال کو ’مثبت انداز‘ میں پیش کرنے کی کوشش کی۔

اب بھی، ہاتھوں پر نیل کی وضاحت ہونے کے باوجود، ٹرمپ اکثر انہیں چھپانے کے لیے میک اپ یا بینڈ ایڈ استعمال کرتے ہیں، جس سے ان کی مجموعی صحت کے حوالے سے مزید سوالات اٹھتے ہیں۔

ٹرمپ کے ذہنی توازن کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ کچھ لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ وہ کابینہ اجلاسوں اور اوول آفس میں پریس کانفرنسز کے دوران اونگھتے نظر آتے ہیں، تاہم ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ صرف بوریت کی وجہ سے آنکھیں بند کرتے ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ/اے بی سی نیوز/ایپسوس کے ایک سروے کے مطابق، 59 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ ٹرمپ میں صدر کے طور پر کام کرنے کی ذہنی صلاحیت نہیں ہے، جبکہ تقریباً 55 فیصد کا کہنا ہے کہ وہ جسمانی طور پر بھی اس ذمہ داری کے لیے کافی صحت مند نہیں ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *