اسلام آباد انتظامیہ نے اتوار کو کفایت شعاری مہم میں چند روز کی نرمی کے بعد ایک مرتبہ پھر سے دارالحکومت میں یکم جون سے تمام دکانیں، بازار اور شاپنگ مالز کو رات آٹھ بجے بند کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق گذشتہ احکامات میں جزوی ترامیم کی گئی ہیں۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور آبنائے ہرمز کے بند ہونے کے بعد سے پاکستان حکومت نے ملک میں کفایت شعاری مہم کا آغاز کیا تھا جس کے تحت بازاروں، دکانوں اور شاپنگ مالز کو رات آٹھ بجے بند کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
تاہم گذشتہ ماہ عید الاضحیٰ کے دوران ان پابندیوں کو اٹھا لیا گیا تھا جنہیں اب دوبارہ نافذ کیا جا رہا ہے۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق 18 مئی 2026 کے سابقہ نوٹیفکیشن میں جزوی ترمیم کرتے ہوئے کفایت شعاری اقدامات کے پیش نظر دارالحکومت میں تمام دکانیں، بازار اور شاپنگ مالز ہفتے کے ساتوں دن رات 8:00 بجے بند کرنے کے احکامات جاری کیے جا رہے ہیں۔
پابندی کا اطلاق کس پر ہوگا
دکانوں، بازاروں اور شاپنگ مالز کے علاوہ تمام ریسٹورنٹس، فوڈ آؤٹ لیٹس، تنور، کریانہ سٹورز، گوشت کی دکانیں، پھل (خشک میوہ جات سمیت) کی دکانیں، سبزی فروش اور بیکریز رات 10:00 بجے بند ہوں گے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
البتہ ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری سروسز پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔
شادی ہالز، مارکیز اور دیگر تمام تجارتی مقامات جہاں تقریبات منعقد ہوتی ہیں، پورا ہفتہ رات 10:00 بجے بند ہوں گے۔ یہی اوقات نجی گھروں یا پرائیویٹ مقامات پر ہونے والی تقریبات پر بھی لاگو ہوں گے۔
کس کو استثنیٰ حاصل ہے
نوٹیفیکیشن کے مطابق فارمیسیز / میڈیکل سٹورز، میڈیکل سپلائی سٹورز، میڈیکل لیبارٹریز اور ہسپتال، پیٹرول پمپس اورسی این جی سٹیشنز، دودھ / ڈیری شاپس، کھیلوں کی سہولیات بشمول جم اور پیڈل کورٹس، کال سینٹرز اور بین الاقوامی کلائنٹس کے ساتھ کام کرنے والی آئی ٹی کمپنیوں کو پابندی سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔
تاجر برادری کی دھمکی
دوسری جانب اسلام آباد کے تاجر کفایت شعاری مہم کے تحت کاروباری مراکز پر حکومتی پابندیوں، راول پنڈی اور اسلام آباد میں سکیورٹی، غیر ملکی وفود کی آمد و رفت اور کرکٹ میچوں کی وجہ سے اہم شاہراہوں کی بندش پر سراپا احتجاج ہیں۔
پاکستان میں تاجروں کی سینٹرل ایسوسی ایشن کے صدر کاشف چوہدری نے اتوار کو ایک ویڈیو پیغام میں ملک گیر احتجاج کی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یکم جون کے بعد سے ملک میں کسی بھی قسم کی مارکیٹ یا کاروبار کی بندش ’معاشی دہشت گردی‘ کے مترادف ہوگی۔
تاجروں نے حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ توانائی کی بچت کے لیے لگائی گئی کاروباری پابندیوں کو مستقل طور پر ختم کیا جائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یکم جون کے بعد دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تو ہم ملک گیر احتجاجی تحریک دوبارہ شروع کریں گے۔
