ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ کا آغاز دھماکے دار طریقے سے ہوا، یعنی فروری میں اسرائیلی انٹیلی جنس کی مدد سے ایک ہمہ جہت حملے کی صورت میں، جس نے آیت اللہ علی خامنہ ای کو مار کر اپنا پہلا ہدف حاصل کیا۔
تاہم، اب یہ مہم ماند پڑ چکی ہے اور ایک ایسے ممکنہ معاہدے کی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے جس کے تحت موجودہ غیر یقینی جنگ بندی کو باضابطہ طور پر 60 دنوں کے لیے بڑھایا جا سکتا ہے۔
لیکن اس سے امریکی دفاعی عقاب (شدت پسند) خوش نہیں، جو یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ یہ مشن مذہبی لیڈروں کی حکومت پر گرفت، جوہری افزودگی اور غیر قانونی میزائل پروگرام کو تباہ کر دے گا۔
نہ ہی یہ (معاہدہ) معاشی طور پر انتہائی اہم آبنائے ہرمز اور عالمی جہاز رانی کے راستوں کو خطرے میں ڈالنے کی تہران کی صلاحیت کا کوئی پائیدار حل فراہم کرتا ہے اور نہ ہی وائٹ ہاؤس اور تہران اس پر دستخط کرنے میں جلدی دکھانا چاہتے ہیں۔
اگرچہ دونوں کے پاس ایسا کرنے کی ٹھوس وجوہات موجود ہیں۔
ایران نے جنگ بندی میں توسیع کے لیے آمادگی کا اشارہ دیا ہے کیونکہ اس کی بندرگاہوں پر سے ناکہ بندی ہٹانے اور پابندیوں میں چھوٹ دینے سے حکومت پر معاشی دباؤ کم ہو جائے گا، جس سے وہ تیل برآمد کر سکے گی اور اپنے بجٹ خسارے کو بہتر بنا سکے گی۔
اس کا باہمی فائدہ یہ ہے کہ بین الاقوامی توانائی کی مارکیٹ پر دباؤ کم ہو جائے گا (جس سے برطانیہ جیسی حکومتوں کو ریلیف ملے گا جو مستقبل میں قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے بے چین ہیں)۔
پھر بھی اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ اب اس جنگ کو روکنے کے لیے تہران سے سودے بازی کر رہا ہے جو اس نے خود شروع کی تھی۔
یہ علاقائی بالادستی کو کچلنے کے ان ’ایپک فیوری‘ (شدید غیظ و غضب) والے وعدوں سے بہت دور کی بات ہے۔
مشہور ’آرٹ آف دی ڈیل‘ اس معاملے میں ’آرٹ آف دی ریٹریٹ‘ کا معاملہ بن چکی ہے۔
ٹرمپ عوامی طور پر کبھی یہ تسلیم نہیں کریں گے کہ یہ معاملہ ایرانی جارحانہ طاقت کو اس طرح کمزور کرنے میں ناکام رہا جیسا کہ ان کا ارادہ تھا۔
لیکن جیسا کہ ان کے سابق قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے مجھے چند ہفتے پہلے بتایا تھا کہ ٹرمپ کے پاس ’جنگ سے باہر نکلنے کی حکمت عملی کا سراسر فقدان تھا۔‘
جنگ بندی کی توسیعی شرائط پر آبنائے ہرمز کو کھولنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ’وہ (ایران) یہ یقین کرنے لگیں گے کہ وہ آبنائے کو لائٹ سوئچ کی طرح جب چاہیں آن اور آف کر سکتے ہیں۔‘
اگر ٹرمپ کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اس حقیقت نے کہ جنگ کے اہداف اور اس سے نکلنے کی حکمت عملی مبہم تھی، انہیں یکطرفہ طور پر پینترا بدلنے اور ممکنہ طور پر ایک ایسے معاہدے پر پہنچنے کے قابل بنایا جسے تہران قبول کر سکتا ہے۔
فی الحال پینٹاگون کے تخمینوں کے مطابق اس لڑائی پر 29 ارب ڈالر کی لاگت آئی ہے اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں صارفین پر پڑنے والے بھاری اثرات اور نومبر میں ہونے والے وسطی مدت انتخابات میں صرف پانچ ماہ باقی رہ جانے کے باعث صدر پچھلے کچھ ہفتوں سے اس صورتحال سے باہر نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔
تقریباً 60 فیصد امریکی اب اس لڑائی کو جاری رکھنے کے مخالف ہیں، جو اس تنازعے میں ماگا (MAGA) کے حامیوں کو اپنے پیچھے لانے کی صدر کی کمزور ہوتی ہوئی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ وہ کمزوری ہے جسے انہیں مڈ ٹرم امتحان سے پہلے دور کرنے کی ضرورت ہے۔
روایتی رپبلکنز اور ماگا کے درمیان اختلافات ڈیموکریٹس کی ان امیدوں کو ناکام بنانے کے امکانات کو کمزور کرتے ہیں کہ وہ ہاؤس (ایوان نمائندگان) اور اس سے بھی اہم بات، سینیٹ دونوں پر دوبارہ قبضہ کر لیں، جس سے ٹرمپ کے ہاتھ کئی قانون سازی کے شعبوں میں بندھ جائیں گے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایک اور متاثرہ فریق اسرائیل ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مجوزہ ’مفاہمت کی یادداشت‘ سے اسے باہر نکال دیا گیا ہے۔
جہاں دائیں بازو کے جھکاؤ رکھنے والے اخبار ’ٹائمز آف اسرائیل‘ نے آج رپورٹ کیا کہ ’ایسے خدشات ہیں کہ جن خطرات کو نتن یاہو نے طویل عرصے سے ’وجود کے لیے خطرہ‘ قرار دیا ہے، ان کا مناسب تدارک نہیں کیا جائے گا۔‘
یہ اسرائیل کو لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں سے روکتا ہے، جو انسانی ہمدردی کے پہلو سے تو خوش آئند ہے لیکن اس بات کو نمایاں کرتا ہے کہ ایرانی نواز عسکریت پسند ملیشیا کو ناکارہ بنانے کا ہدف پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔
چنانچہ صدر نے بنیادی طور پر اسرائیل کے مقابلے میں امریکی مفادات کو ترجیح دی ہے۔
ممکنہ طور پر اس لیے کہ وہ اس خیال پر برہم ہیں کہ نتن یاہو نے انہیں بڑے پیمانے پر اس جنگ میں دھکیلا۔
لیکن اس لیے بھی کہ ’سب سے پہلے امریکہ‘، جو کہ ان کے عالمی نقطہ نظر کا ایک واضح خلاصہ ہے، کا مطلب یہ ہے کہ ان کے لیے اندرون ملک بحرانوں کے اثرات ہمیشہ ایک مستقل خارجہ اور سکیورٹی پالیسی سے کہیں زیادہ اہم ہوتے ہیں۔
مثبت پہلو یہ ہے کہ ایک بار جب کسی مقررہ مدت کے لیے جنگ بندی پر عمل کر لیا جائے تو اس میں غیر معینہ مدت کے لیے توسیع کی جا سکتی ہے اور یہ امریکی وقار کی قیمت پر امن لاتا ہے۔
ایک کم روشن (مایوس کن) منظر نامہ یہ ہے کہ ایران نے دیکھ لیا ہے کہ جہاز رانی کے راستوں پر دباؤ ڈالنے سے اس کا طاقتور حملہ آور زیادہ تر خلیجی ممالک کی حمایت کے ساتھ دوبارہ معاہدے کی میز پر واپس آ گیا ہے۔
زیادہ تر پرانے مسائل اب بھی حل طلب ہیں: یہاں ہونے والا کوئی بھی معاہدہ کسی بھی طور پر فتح سے بہت دور ہے۔
این میک ایلوائے پولیٹیکو کی ایگزیکٹیو ایڈیٹر اور پوڈ کاسٹ ’پولیٹکس ایٹ سیم اینڈ اینز‘ کی میزبان ہیں۔
