ہمارے ایک ہزار سپاہی کینیڈا میں حملوں کے لیے تیار ہیں: انڈین گینگ

انڈیا کے ایک گینگ نے کینیڈین پولیس کو خط لکھ کر خبردار کیا ہے کہ اس کے پاس ملک بھر میں حملے کرنے کے لیے ایک ہزار ارکان تیار ہیں۔

یہ بات ایک مقامی عدالت کو بتائی گئی کیونکہ اوٹاوا اس وقت بھتہ خوری کے بڑھتے ہوئے سنگین بحران سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایک پولیس افسر نے جمعرات کو عدالت کو بتایا کہ لارنس بشنوئی گینگ نے، جسے گذشتہ سال کینیڈا میں ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا تھا اور جو امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا اور متحدہ عرب امارات میں بھی سرگرم ہے، اگست 2025 میں برٹش کولمبیا کے شہر ایبٹس فورڈ کے ایک پولیس سٹیشن کو یہ خط بھیجا تھا۔

گروپ نے تحفظ کے بدلے رقم وصول کرنے کے دھندے (پروٹیکشن ریکیٹ) کو ’ٹیکس‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کینیڈین کاروباری اداروں نے ادائیگی سے انکار کیا تو انہیں تشدد کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس خط کے مندرجات کا کچھ حصہ کانسٹیبل کیون سینٹ لوئس نے ملک بدری کے ایک کیس کی سماعت کے دوران ’امیگریشن اینڈ ریفیوجی بورڈ‘ کے سامنے ظاہر کیا۔

انہوں نے کہا ’اس مخصوص خط میں بنیادی طور پر ان کی مجرمانہ تنظیم کا خاکہ پیش کیا گیا تھا، جہاں انہوں نے بات کی تھی کہ ان کے پاس 1,000 سے زیادہ ایسے افراد موجود ہیں جو اس گروپ کے حصے کے طور پر ان فائرنگ کے واقعات کو انجام دینے کے لیے تیار ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا ’یہ اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ کس طرح ہر کاروباری ادارے کو اپنا ٹیکس ادا کرنے کی ضرورت ہے، جو میرے خیال میں واضح طور پر اس مالی فائدے کو ظاہر کرتا ہے جو یہ گروپ ان بھتہ خوریوں کے نتیجے میں حاصل کرنا چاہتا ہے۔‘

سارجنٹ پال واکر نے کینیڈا کے ’گلوبل نیوز‘ کو بتایا کہ جاسوس خط کے ماخذ اور اس کے مندرجات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا ’خط کی تفصیلات کینیڈا بھر میں بھتہ خوری کے بحران سے نمٹنے میں مصروف ہمارے قانون نافذ کرنے والے شراکت داروں کے ساتھ شیئر کی گئی ہیں۔

’میں اس خط میں موجود کسی بھی تفصیلات یا اس کے بعد کیے گئے تحقیقاتی اقدامات پر مزید تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔‘

کینیڈا کے قانون نافذ کرنے والے ادارے منظم جرائم، فائرنگ کے واقعات اور بھتہ خوری کے نیٹ ورکس سے نمٹنے میں مصروف ہیں جن میں جنوبی ایشیائی کمیونٹی کے ارکان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

کینیڈا میں انڈین نژاد یا انڈین شہریوں کی تعداد تقریباً 33.8 لاکھ ہے، جو ملک کی مجموعی آبادی کا تقریباً 8.3 فیصد بنتی ہے۔

لارنس بشنوئی گینگ کا آغاز شمالی انڈیا سے ہوا تھا اور اس کا نام اس کے مبینہ سرغنہ کے نام پر رکھا گیا۔

انڈیا میں 2015 سے جیل میں ہونے کے باوجود حکام کا الزام ہے کہ لارنس بشنوئی اپنے ساتھیوں اور خفیہ مواصلاتی ذرائع کے ذریعے سلاخوں کے پیچھے سے اپنی کارروائیاں چلا رہا ہے۔

اس گینگ پر بھتہ خوری، سپاری دے کر قتل کروانے، فائرنگ، منشیات اور اسلحے کی سمگلنگ اور کاروباری مالکان و عوامی شخصیات کو ڈرانے دھمکانے میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

انڈین سکیورٹی ایجنسیوں نے اس گروپ کو کئی ہائی پروفائل قتل کے واقعات سے جوڑا ہے، جن میں 2022 میں پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کا قتل شامل ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جاسوس نے گواہی دی کہ یہ گینگ کینیڈا میں موجود ان انڈینز کو ملازمت دے کر رقم بٹورتا ہے جنہیں ٹارگٹڈ اموات اور فائرنگ کی کارروائیاں کرنے کے لیے ’معمولی‘ رقوم ادا کی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جن مردوں کو ہائر کیا جاتا ہے وہ کمیونٹی میں ایک پہچان یا تعلق کا احساس بھی تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا ’میرے خیال میں ان میں سے بہت سے لوگ اسے ایک طرح سے کسی تنظیم یا گروپ کا حصہ بننے کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا ’ان میں سے بہت سے لوگوں کو سکولوں میں نشانہ (بھرتی) بنایا جا رہا ہے۔‘

مبینہ طور پر بھتہ خور گینگ جنوبی ایشیائی کاروباری مالکان اور رہائشیوں کو نشانہ بناتے ہیں اور ان سے خطیر رقم کا مطالبہ کرتے ہیں۔

افسر کے مطابق جو لوگ ادائیگی سے انکار کرتے ہیں انہیں اپنے گھروں اور کاروباری مقامات پر انتقامی فائرنگ کے خدشات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا ’اس تفتیش کے دوران ہم نے جس بھی فرد کی شناخت کی وہ ایک عارضی غیر ملکی کارکن (ٹیمپریری فارن ورکر) ہے یا سٹوڈنٹ ویزا پر ہے اور کینیڈا میں نسبتاً نیا ہے۔‘

پولیس افسر نے بتایا کہ بھتہ خوری کے مطالبات عام طور پر وٹس ایپ پر کیے جاتے تھے اور ان میں اکثر لارنس بشنوئی یا اس کے سابق قریبی ساتھی گولڈی برار کے ناموں کا سہارا لیا جاتا تھا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *