اقوامِ متحدہ کے امن دستوں کے عالمی دن 2026 کے موقعے پر پاکستانی حکومت اور مسلح افواج نے جمعے کو ’بلیو ہیلمٹس‘ یعنی امن مشنز کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے ’امن میں سرمایہ کاری‘ کے نئے عزم کا اعادہ کیا۔
اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کے ساتھ پاکستان کا تعلق چھ دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ 1960 سے اب تک دو لاکھ 37 ہزار سے زائد پاکستانی امن دستے دنیا بھر میں اقوامِ متحدہ کے مشنز میں خدمات انجام دے چکے ہیں، جبکہ 183 بہادر پاکستانیوں نے اقوامِ متحدہ کی امن کوششوں کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے قدیم ترین امن مشنز میں سے ایک، اقوامِ متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے انڈیا و پاکستان، کی میزبانی کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’اس مشن کی مسلسل موجودگی اور اہمیت اس بات کی توثیق کرتی ہے کہ عالمی برادری جموں و کشمیر تنازع کے منصفانہ اور پائیدار حل کی حمایت کی ذمہ داری رکھتی ہے۔‘
صدر زرداری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے امن دستوں کا کام ’تنازعات اور بے دخلی سے متاثرہ کمیونٹیز کے لیے استحکام اور امید لاتا ہے۔‘
“Pakistan is also host to one of the oldest United Nations peacekeeping missions, the United Nations Military Observer Group in India and Pakistan (UNMOGIP). The continued presence and relevance of this Mission reaffirm the responsibility of the international community to support… pic.twitter.com/A8xpd2QUq9
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) May 29, 2026
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی امن مشن کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سال کا موضوع ’امن میں سرمایہ کاری‘ دنیا بھر میں امن کے لیے ’مسلسل سیاسی عزم اور مالی معاونت‘ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ آج ہی کے دن 1948 میں اقوامِ متحدہ کے پہلے امن مشن نے فلسطین میں اپنی کارروائیاں شروع کی تھیں۔
وزیراعظم کے مطابق 1960 سے اب تک 235,000 سے زائد پاکستانی اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں خدمات انجام دے چکے ہیں، جن میں 500 سے زیادہ خواتین امن اہلکار بھی شامل ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا: ’یہ ہمارے لیے بے حد قومی فخر کی بات ہے کہ پاکستان آج اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں فوجی دستے فراہم کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے۔‘
انہوں نے ان 180 سے زائد پاکستانی امن اہلکاروں کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے مشن کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
امن مشنز کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے لکھا: ’ہماری مسلسل شراکت بین الاقوامی امن و سلامتی اور کثیرالجہتی اصولوں سے پاکستان کے دیرینہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔‘
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif’s Message on International Day of UN Peacekeepers, 29 May 2026.
Today, Pakistan joins the international community in paying rich tribute to the brave men and women serving under the United Nations flag on the occasion of the International… pic.twitter.com/JYSpl15PRY
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) May 29, 2026
پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بھی اقوامِ متحدہ کے امن دستوں کے عالمی دن کے موقعے پر ’بلیو ہیلمٹس‘ کی گراں قدر خدمات اور عظیم قربانیوں کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا کہ ’پاکستانی بلیو ہیلمٹس اس وقت بھی جمہوریہ کانگو اور جنوبی سوڈان جیسے ہائی رسک علاقوں میں تعینات ہیں، جہاں وہ فعال فوجی کارروائیوں سے لے کر موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے نمٹنے تک، کثیرالجہتی آپریشنز انجام دے رہے ہیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بیان میں کہا گیا کہ ’موجودہ دور کے جنگی علاقے تبدیل ہو چکے ہیں اور اب پہلے سے زیادہ غیر مستحکم، پیچیدہ اور غیر متوازن نوعیت اختیار کر گئے ہیں۔
’آج کے امن دستوں کو ہائبرڈ خطرات کا سامنا ہے، جن میں سائبر سکیورٹی کے خدشات، ڈیجیٹل غلط معلوماتی مہمات، سیاسی تقسیم اور موسمیاتی تبدیلیوں سے جنم لینے والی انسانی ہمدردی کی ہنگامی صورت حال شامل ہیں۔‘
آئی ایس پی آر کے مطابق: ’2026 کا موضوع ’امن میں سرمایہ کاری‘ تنازعات کے ردِعمل پر مبنی انتظام سے پیشگی امن کے تحفظ کی جانب ایک اہم تبدیلی کو اجاگر کرتا ہے۔ موجودہ دور میں ’امن میں سرمایہ کاری‘ کے لیے ٹیکنالوجی اور ڈھانچے کی سطح پر ارتقا ناگزیر ہے۔
’ہمیں جدید انٹیلی جنس نظام، شہریوں کے مؤثر تحفظ کے مضبوط میکنزم اور موسمیاتی اثرات سے ہم آہنگ عملی فریم ورک میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی تاکہ کمزور آبادیوں کا مؤثر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔‘
اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کے نظریات اور مقاصد سے اپنی غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ’اس قابلِ احترام اور باعثِ فخر موقعے پر پاکستان اقوامِ متحدہ کے شانہ بشانہ ثابت قدمی سے کھڑا ہے اور عالمی برادری کو یہ یاد دلاتا ہے کہ پائیدار امن کوئی یقینی امر نہیں بلکہ اس کے لیے مسلسل اور اجتماعی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔‘
