خبر رساں ادارے اے ایف پی نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ نے جمعرات کو جنوبی ایران میں نئے فضائی حملے کیے ہیں۔
یہ کارروائی اُس وقت سامنے آئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو خبردار کیا کہ اگر اس نے امن معاہدے پر اتفاق نہ کیا تو امریکہ ’کام مکمل‘ کر دے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق جمعرات کی صبح بندر عباس شہر میں تین زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ یہ حملے اس ہفتے کے آغاز میں ہونے والی امریکی کارروائیوں کے بعد کیے گئے ہیں۔
ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے اہلکاروں نے آبنائے ہرمز کے قریب خطرہ بننے والے ایران کے چار ڈرونز کو مار گرایا۔
امریکی فوجی اہلکار کے مطابق امریکی فورسز نے بندر عباس میں ایک زمینی کنٹرول سٹیشن کو بھی نشانہ بنایا، جہاں سے پانچواں ڈرون لانچ ہونے والا تھا۔
پیر کی رات ہونے والے حملوں کے باوجود ایران نے بدھ کو کہا تھا کہ جنگ کا دوبارہ آغاز بعید لگتا ہے، تاہم اس کا کہنا تھا کہ اس کی فوج مکمل طور پر تیار حالت میں ہے۔ ان متضاد بیانات نے 28 فروری کو شروع ہونے والی اس جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں ایک اجلاس کے دوران کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن اب تک وہ اس میں کامیاب نہیں ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ موجودہ پیشرفت سے مطمئن نہیں، تاہم یا تو معاہدہ ہوگا یا پھر فوجی کارروائی مکمل کی جائے گی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مذاکرات کا ایک اہم نکتہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی بھی ہے، جسے ایران نے عملی طور پر بند کر رکھا ہے، جس کے باعث عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
دوسری جانب لبنان میں اسرائیل نے جنوبی شہر صور کے رہائشیوں کو انخلا کا حکم دیا اور حزب اللہ کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا۔ ٹرمپ نے عمان کو بھی خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز عالمی پانی ہے اور اسے سب کے لیے کھلا رہنا چاہیے۔
ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ایک اہلکار نے کہا کہ دشمن کی کمزوری کے باعث جنگ کا امکان کم ہے، لیکن اگر حملہ ہوا تو ایران کی فوج مکمل تیاری کے ساتھ جواب دے گی۔
