گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور دیگر چار اہلکار مستونگ سے بازیاب: محکمہ داخلہ بلوچستان

دس روز قبل کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر مستونگ کے مقام سے مبینہ طور پر اغوا ہونے والے گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور پرووائس چانسلر سمیت چاروں اہلکار اتوار کو بازیاب ہو کر گھر پہنچ گئے۔

حکومت بلوچستان کے محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون بابر یوسفزئی نے مغویوں کی بازیابی کی تصدیق کر دی اور انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر اور پرووائس چانسلر ڈاکٹر سید منظور احمد اور دیگر اہلکار گوادر سے کوئٹہ آتے ہوئے لاپتہ ہوئے تھے۔ شبہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ چاروں افراد کو اغوا کیا گیا تھا۔

لاپتہ ہونے والے دیگر اہلکاروں میں پرسنل سٹاف آفیسر ڈاکٹر ارشاد بلیدی اور ڈرائیور حاتم بدل شامل تھے۔ مستونگ پولیس کے مطابق چاروں اہلکار ضلع مستونگ سے ہی بازیاب ہو گئے۔

وائس چانسلر اتوار کی شام اپنے گھر پہنچ گئے۔ خاندانی ذرائع نے بھی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بازیاب ہونے والے افراد صحت مند ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ فی الحال وہ کسی قسم کی گفتگو کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

اس سے قبل 14 مئی کو صوبائی وزارت داخلہ کے ترجمان نے جمعرات کو بتایا تھا کہ ساحلی شہر گوادر کی یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور پرووائس چانسلر سمیت چار افراد کو مسلح افراد نے بدھ کی رات دیر گئے مستونگ کے قریب کھڈ کوچہ سے اغوا کر لیا تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر کو حکومت بلوچستان نے 25 اکتوبر 2021 کو یونیورسٹی آف گوادر کا پہلا وائس چانسلر مقرر کیا تھا۔

انہوں نے 29 اکتوبر 2021 کو عہدے کا چارج سنبھالا تھا اور وہ چار سال سے وائس چانسلر کے عہدے پر تعینات ہیں۔

گوادر میں جنوری 2017 میں یونیورسٹی آف تربت کے سب کیمپس کے طور پر تعلیمی سرگرمیاں شروع ہوئیں اور 25 اکتوبر 2021 کو یہ مکمل خودمختار یونیورسٹی بن گئی۔

اس وقت یونیورسٹی میں 2000 طلبا زیر تعلیم ہیں اور یونیورسٹی آف گوادر میں دو فیکلٹیز کام کر رہی ہیں جن میں  فیکلٹی آف مینیجمنٹ سائنسز، کامرس اینڈ سوشل سائنسز اور فیکلٹی آف سائنسز، انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی شامل ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *