انڈین ایئرپورٹ سکینر کی غلطی، مسافر کو 57 دن جیل میں گزارنے پڑے

انڈیا میں ایک کاروباری شخصیت کو اس لیے 57 دن جیل میں گزارنے پڑے کیوں کہ ہوائی اڈے پر لگے سکیورٹی آلات نے ان کے کھانا پکانے کے عام مصالحوں کے پیکٹس کو ہیروئن قرار دے دیا۔ عدالت نے انہیں نو ہزار پاؤنڈ ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

مذکورہ شخص وسطی انڈین ریاست مدھیہ پردیش کے بھوپال ایئرپورٹ سے دہلی کے راستے ملائیشیا جا رہے تھے جب دھماکہ خیز مواد کا سراغ لگانے والی مشینوں نے ظاہر کیا کہ دو عام انڈین مصالحوں کے پیکٹس، جن میں پسے ہوئے خوشبودار مصالحوں پر مشتمل گرم مسالا اور خشک آم کا پاؤڈر آمچور شامل تھا، میں ہیروئن اور ایک نشہ آور مادہ موجود ہے۔

مسافر کو انڈیا کے نارکوٹکس ڈرگز اینڈ سائیکوٹروپک سبسٹانسز ایکٹ کے تحت گرفتار کر کے حراست میں رکھا گیا جب کہ نمونے ٹیسٹ کے لیے بھیجے گئے۔ علاقائی فرانزک لیبارٹری نے 10 دن بعد یہ کہتے ہوئے نمونے واپس کر دیے کر کہ اس کے پاس سکینر کی طرف سے ظاہر کیے گئے نشہ آور مادے کا ٹیسٹ کرنے کے لیے آلات موجود نہیں ہیں۔

پھر یہ نمونے حیدرآباد کی سینٹرل فرانزک سائنس لیبارٹری بھیجے گئے، جس نے تصدیق کی کہ ان میں کوئی غیر قانونی چیز موجود نہیں تھی۔ تاہم، اس وقت تک وہ شخص 57 دن جیل میں گزار چکے تھے۔

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے گذشتہ ماہ اس کیس پر فیصلہ سناتے ہوئے، مذکورہ شخص کے بنیادی حق آزادی کی خلاف ورزی پر ریاست کو بالواسطہ طور پر ذمہ دار قرار دیا۔

جسٹس دیپک کھوٹ نے کہا کہ اگرچہ ابتدائی گرفتاری معقول وجوہات کی بنا پر کی گئی تھی، لیکن اگر ریاست کا فرانزک نظام مناسب ہوتا تو کاروباری شخصیت کو بہت جلد رہا کیا جا سکتا تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا: ’جب اس طرح کے کیس تفتیش کے لیے علاقائی فرانزک لیبارٹری بھیجے گئے کوئی رائے نہیں دی گئی، اور بالآخر، جب نمونے سینٹرل لیب بھیجے گئے تو معلوم ہوا کہ ان میں کوئی غیر قانونی چیز نہیں ہے، جس کے دوران سائل کی زندگی کے لگ بھگ 57 دن لگ گئے جو انہوں نے کسی قصور کے بغیر جیل میں گزارے۔‘

سائل نے مؤقف اختیار کیا کہ کینیڈا کی تیار کردہ سراغ لگانے والی مشین کو خوشبودار انڈین مصالحوں ٹھیک طرح سے جانچنے کے لیے درست طریقے سے سیٹ نہیں کیا گیا تھا جس کی وجہ سے شاید اس نے غلط نتیجہ دیا۔

ایئرپورٹ اتھارٹی آف انڈیا نے کہا کہ منشیات کا سراغ لگانے والا  فیچر لازمی نہیں تھا اور نتائج پر کارروائی کرنے کی ذمہ داری سینٹرل انڈسٹریل سکیورٹی فورس اور ایئر لائن آپریٹر سمیت دیگر ایجنسیوں پر عائد ہوتی ہے۔

عدالت نے 10 لاکھ انڈین روپے (9 ہزار پاؤنڈ) ہرجانے کا حکم دیا جو تین ماہ کے اندر ادا کیا جانا ہے، اور واضح کیا کہ کاروباری شخصیت ذمہ داروں کے خلاف نقصانات کے ازالے کے لیے الگ سے دیوانی مقدمہ دائر کرنے کے لیے آزاد ہے۔ یہ کیس 2011 سے عدالت میں زیر سماعت تھا۔

 


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *