گلگت بلتستان: تالیداس گاؤں میں ’پراسرار دھماکوں‘ کی آوازیں: معاملہ کیا ہے؟

گلگت بلتستان کے ضلع غذر کے علاقے تالیداس میں گذشتہ ایک ہفتے سے مقامی لوگوں کے مطابق قریبی قراقرم کے پہاڑی سلسلے سے ’پر اسرار دھماکوں‘ کی آوازوں نے وہاں کے رہائشیوں کو خوف میں مبتلا کر رکھا ہے۔

تالیداس کے رہائشی سجاد سانجو نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ زوردار دھماکے ہو رہے ہیں اور زمین ایسے لرز جاتی ہے، جیسے زلزلہ آیا ہو۔

انہوں نے بتایا کہ علاقے کے رہائشی شدید خوف میں مبتلا ہیں اور اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکتے اور ان دھماکوں سے بعض مکانات کو جزوی نقصان بھی پہنچا ہے۔

حامد احمد چترال میں یونائیٹڈ نیشنل ڈیولپمنٹ فنڈ کے گلیشیئر پراجیکٹ کے فیلڈ افسر رہ چکے ہیں۔ ان کے مطابق گلگت بلتستان اور چترال کے پہاڑی سلسلے میں جیولوجیکل سرگرمیاں ہوتی رہتی ہیں اور یہاں بہت ساری فالٹ لائنز موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس پہاڑی سلسلے میں گلیشیئرز بھی موجود ہیں، تاہم ابھی درجہ حرارت اتنا بڑھا نہیں ہے کہ ان دھماکوں کا گلیشیئر پھٹنے کے ساتھ کوئی تعلق ہو۔

حامد احمد نے بتایا: ’یہاں یہ مسئلہ بھی ہے کہ بعض لوگ بغیر اجازت نامے کے کان کنی بھی کرتے ہیں جب کہ شکار بھی کیا جاتا ہے تو دھماکوں کی یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے۔‘

ماضی میں بھی گلگت بلتستان کے کچھ علاقوں میں اس قسم کے پر اسرار دھماکوں کی رپورٹس سامنے آئی تھیں۔ 2017 میں غذر اور دیامر کے علاقے میں اس قسم کے دھماکے سنے گئے تھے۔

اس وقت گلگت انتظامیہ نے بتایا تھا کہ یہ مبینہ طور پر شہاب ثاقب تھا، جسے بعض مقامی افراد نے دیکھا بھی تھا اور وہ واخان کوریڈور کی طرف چلا گیا تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شہاب ثاقب خلا سے گرنے والا پتھر ہوتا ہے، جو بہت تیزی سے زمین کے مدار میں داخل ہوتا ہے اور تیز رفتاری کی وجہ سے یہ دھماکے جیسی آواز پیدا کرتا ہے۔

دھماکوں کی اس قسم کی پراسرار آوازیں گذشتہ سال گلگت بلتستان کی وادی ہنزہ کے علاقے چیپورسن میں بھی سنی گئی تھیں، جو رات کے وقت سنائی دیتی تھیں۔

اسی طرح 2022 میں بھی مقامی میڈیا ادارے پامیر ٹائمز کے مطابق ہنزہ کے علاقوں شیشکٹ اور گلمت میں بھی ایسے پر اسرار دھماکوں کی آوازیں مقامی لوگوں کو سنائی دیں، جن سے زمین لرزتی ہوئی بھی محسوس ہوتی تھی۔

فیاض کا تعلق ضلع غذر کے گاؤں تالیداس سے ہے اور ان کے مطابق گذشتہ سال گلیشیئر پھٹنے کی وجہ سے راوشن گاؤں پورا تباہ ہو گیا تھا اور اس کے بعد ایک مصنوعی جھیل بن گئی ہے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس گلیشیئر کے پھٹنے کے چند ماہ بعد دھماکے شروع ہوگئے اور اب کچھ دن سے دھماکوں میں شدت آ گئی ہے۔

فیاض کے بقول: ’دھماکوں نے علاقے کے لوگوں کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے اور اب وہ علاقے سے نکل کر دیگر جگہوں پر پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔‘

حکومت کا مؤقف

گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان شبیر میر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں اور متعلقہ محکموں کے مطابق یہ گلگت بلتستان کے زلزلہ زون پر واقع ہونے کی وجہ سے ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ علاقے فالٹ لائن پر واقع ہیں، اسی وجہ سے دھماکے اور زلزلے آتے ہیں اور اس پر ماضی میں مختلف تحقیق بھی ہوئی ہے۔

شبیر میر نے بتایا: ’اب بھی جو دھماکے ہو رہے ہیں تو غالب امکان یہی ہے کہ زیر زمین زلزلہ سرگرمی ہو رہی ہے کیوں کہ یہ علاقہ فالٹ لائن پر واقع ہیں۔‘

خورشید احمد ماہر ارضیات ہیں اور ان کے مطابق اس علاقے کا دورہ اور وہاں باقاعدہ سٹڈی کے بغیر اس حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، تاہم دھماکوں کی وجہ زیر زمین زلزلہ سرگرمی ہو سکتی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *