ایران جنگ کے باعث بجلی کی قلت: بنگلہ دیشی گارمنٹس کارخانوں میں پنکھے، کولر بند

کپڑوں کی فراہمی میں دنیا کے دوسرے بڑے ملک، بنگلہ دیش بھر کے کارخانوں میں ایران تنازعے کے باعث ہونے والی بجلی کی قلت کی وجہ سے پنکھے اور کولر بند کر دیے گئے ہیں، جس سے مزدور گرمی سے بے حال ہیں اور پیداواری صلاحیت میں کمی سے اربوں ڈالر کا نقصان ہونے کا خطرہ ہے۔

بنگلہ دیش میں سال کے گرم ترین موسم کے آغاز کے ساتھ ہی دارالحکومت ڈھاکہ کے اطراف میں ملبوسات کی صنعت کے علاقے کو اپریل کے آخر سے کبھی بارش اور کبھی جھلسا دینے والی گرمی کا سامنا ہے۔

شدید حبس کے ساتھ درجہ حرارت 37 ڈگری سیلسئیس تک پہنچ گیا ہے۔

فیشن کے شعبے سے وابستہ آزاد مشیر جہانگیر عالم نے کہا: ’ملبوسات تیار کرنے والے کئی چھوٹے صنعت کاروں کے لیے گرڈ کی بجلی بند ہونے کے دوران جنریٹر چلانا بہت مہنگا پڑتا ہے، اس لیے وہ اکثر پنکھوں اور ٹھنڈک کے دیگر آلات کا استعمال کم کر دیتے ہیں۔‘

مزدوروں کے حقوق کی ایک تنظیم، بنگلہ دیش سینٹر فار ورکر سولیڈیرٹی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کلپنا اختر نے کہا کہ ’اس قدر تکلیف دہ گرمی میں بہت سے مزدور بے تحاشا پسینہ آنے، چکر آنے، متلی، پٹھوں میں کھنچاؤ اور بے ہوش ہونے کے باعث بیمار پڑ رہے ہیں۔‘

بنگلہ دیش اپنی توانائی کی لگ بھگ 95 فیصد ضروریات کے لیے درآمد پر انحصار کرتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے باعث توانائی کی فراہمی میں قلت اور ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

ڈھاکہ کے قریب غازی پور میں متین سپننگ مل کے مینیجر اے کے ایم قمر الزمان کہتے ہیں کہ ’توانائی کی فراہمی میں تعطل کے باعث صنعتیں بمشکل اپنی پیداوار جاری رکھے ہوئے ہیں، مناسب طریقے سے پنکھے، ہوا کی نکاسی اور ٹھنڈک کے آلات چلانا تو دور کی بات ہے۔‘

فروری میں شائع ہونے والے بنگلہ دیش انسٹی ٹیوٹ آف لیبر سٹڈیز کے ایک سروے میں بتایا گیا ہے کہ انٹرویو دینے والے 215 گارمنٹ ورکرز میں سے 78 فیصد نے موسم گرما میں زیادہ گرمی کا سامنا کیا، جبکہ ان میں سے لگ بھگ نصف کا کہنا تھا کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے انہیں کمزور اور بیمار کر دیا ہے۔

طبی جریدے ’دی لانسیٹ‘ کی صحت اور موسمیاتی تبدیلی پر سالانہ رپورٹ، دی لانسیٹ کاؤنٹ ڈاؤن کی 2025 کی ایک ڈیٹا شیٹ میں کہا گیا ہے کہ 2024 میں گرمی کے باعث بنگلہ دیش میں کام کے قریباً 29 ارب ممکنہ گھنٹے ضائع ہوئے، جو 1999-1990 کی اوسط کے مقابلے میں 92 فیصد زیادہ ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ اس سے جڑا آمدنی کا نقصان 24 ارب ڈالر رہا، جو بنگلہ دیش کی جی ڈی پی کے لگ بھگ 5 فیصد کے برابر ہے۔

کارنیل یونیورسٹی کے آئی ایل آر گلوبل لیبر انسٹی ٹیوٹ کی 2023 کی ایک سٹڈی میں کہا گیا ہے کہ کارخانوں میں گرمی کو کم کرنے میں ناکامی اور ان کے ارد گرد سیلاب کے باعث 2030 تک بنگلہ دیش، کمبوڈیا، پاکستان اور ویتنام میں ملبوسات کی صنعت کو 65 ارب ڈالر کی آمدنی اور لگ بھگ دس لاکھ ممکنہ ملازمتوں کا نقصان ہو سکتا ہے۔

گرمی سے بچانے کی کوششیں سست روی کا شکار

مزدور رہنماؤں اور اس شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیٹ ویوز کے دوران مزدوروں کے تحفظ کے اقدامات غیر تسلی بخش رہے اور کارخانوں میں گرمی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے کوئی ٹھوس فریم ورک موجود نہیں ہے۔

سٹینڈ ڈاٹ ارتھ، آکسفیم اور بنگلہ دیش سینٹر فار ورکر سولیڈیرٹی (بی سی ڈبلیو ایس) کی فروری کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پانچ بڑے عالمی برانڈز نے موسمیاتی اثرات سے ہم آہنگ ہونے کی اہمیت کو تو تسلیم کیا ہے، لیکن گرمی کے دباؤ جیسے مسائل سے نمٹنے میں مزدوروں کی مدد کے لیے بہت کم فنڈنگ دستیاب تھی۔

غازی پور کے ایک مزدور منیر سکدر نے تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کو بتایا: ’کچھ کارخانے تو بیمار ہونے والوں کو نمکول اور طبی امداد تک فراہم نہیں کرتے۔‘

سکدر نے کہا کہ ’لیکن گھر پر صورت حال اس سے بھی بدتر ہے جہاں ہمیں اکثر دن بھر میں صرف چند گھنٹے ہی بجلی ملتی ہے۔‘

مزدوروں اور کم آمدنی والے رہائشیوں کو گرمی سے بچانے کی کوششیں سست روی سے آگے بڑھی ہیں۔

ڈھاکہ نارتھ سٹی کارپوریشن اور ڈھاکہ ساؤتھ سٹی کارپوریشن نے 2024 میں کلائمیٹ ایکشن پلانز متعارف کروائے جن میں مزدوروں سمیت لوگوں کو گرمی کے اثرات سے بچانے کے لیے کئی اقدامات کی فہرست دی گئی، جیسا کہ پیشگی انتباہ، گرمی سے متعلق بیماریوں سے نمٹنے کے لیے شہر کے صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو مضبوط بنانا اور عمارتوں اور کچی آبادیوں میں ٹھنڈی چھتیں بنانا۔

پائیداری پر کام کرنے والی مقامی حکومتوں کے ایک عالمی نیٹ ورک، آئی سی ایل ای آئی کے بنگلہ دیش کے کنٹری نمائندے محمد زبیر راشد نے کہا: ’لیکن ان منصوبوں پر زیادہ پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔‘ آئی سی ایل ای آئی نے ان منصوبوں کی تیاری میں سٹی کارپوریشنوں کی مدد کی تھی۔

ڈھاکہ نارتھ سٹی کارپوریشن کا مقصد درخت لگانے اور کم آمدنی والے رہائشیوں میں شعور بیدار کرنے جیسے اقدامات کے ساتھ ایک ہیٹ ایکشن پلان تیار کرنا بھی تھا۔

ڈھاکہ نارتھ سٹی کارپوریشن میں بطور چیف ہیٹ آفیسر کام کرنے والی بشریٰ آفرین کا کہنا تھا کہ ’لیکن 2024 میں اس سیاسی ہنگامہ آرائی کے بعد ہیٹ ایکشن پلان پر کام رک گیا جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔‘

ڈی کاربنائزیشن کو ترجیح 

حکومت نے 31-2026 کے لیے صحت کا ایک قومی ایڈاپٹیشن پلان (مطابقتی منصوبہ) اپنایا ہے، جبکہ شہر کی جنوبی میونسپلٹی نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ پانچ برسوں میں تین لاکھ درخت لگائے گی۔

براک جیمز پی گرانٹ سکول آف پبلک ہیلتھ کی ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر فرزانہ میشا نے کہا کہ ان کی ٹیم ڈھاکہ بھر میں گرمی کی صورت حال کا نقشہ بنانے اور ایک ہیٹ ہیلتھ ایکشن پلان کا مسودہ تیار کرنے کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے، جس میں گرین زونز بنانا، ٹھنڈک کے شیلٹرز تعمیر کرنا اور مقامی سطح پر پیشگی انتباہ جیسے علاقے کی مناسبت سے مخصوص اقدامات شامل ہوں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میشا نے کہا کہ بنگلہ دیش میں کارخانوں کے اندر ہوا کی نکاسی، پینے کے پانی اور ابتدائی طبی امداد کے اصول تو موجود ہیں، لیکن گرمی کے دباؤ سے بچاؤ کے مخصوص حفاظتی اقدامات جیسے درجہ حرارت کے ایک مقررہ حد سے تجاوز کرنے پر لازمی وقفے دینا اور تھکاوٹ اور گرمی کے دباؤ کو کام کی جگہ پر صحت کے خطرات کے طور پر تسلیم کرنے کا اب بھی فقدان ہے۔

موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی گرمی سپلائی چین کا بھی ایک مسئلہ ہے، لیکن برانڈز کے تعمیل کے نظاموں میں اسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

گرمی سے متعلق آگاہی پر کام کرنے والی ایک بین الاقوامی این جی او ہیٹ واچ کی بانی اپیکشتا ورشنے نے کہا کہ ’میں نے اب تک ایسا کوئی سپلائی چین آڈٹ فریم ورک نہیں دیکھا جس میں مزدوروں پر گرمی کے اثرات کا ذکر ہو۔‘

سٹینڈ ڈاٹ ارتھ، آکسفیم اور بی سی ڈبلیو ایس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بہتر کولنگ سسٹم، صاف پانی، کارخانے کی سطح پر صحت کی سہولیات اور ٹریڈ یونین کی زیر قیادت اقدامات، مزدوروں کو گرمی سے ہم آہنگ ہونے میں مدد دینے کے حوالے سے اہم اقدامات ہیں۔

تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کی جانب سے رابطہ کیے جانے پر کئی عالمی برانڈز نے گرمی سے مطابقت پیدا کرنے کے حوالے سے تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔

اپیکشتا ورشنے نے کہا کہ برانڈز کے پائیداری بجٹ میں عام طور پر مزدوروں کی مطابقت کے بجائے ڈی کاربنائزیشن کو ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے موسمیاتی عمل کے تحت موسمیاتی فنڈنگ کے وعدے کارخانوں کے اندر کام کرنے والے گارمنٹ ورکرز تک نہیں پہنچے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں مزدوروں کو گرمی کے دباؤ کے مطابق ڈھالنے میں مدد کے لیے رقم کی ضرورت ہے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *