صدر ٹرمپ کے بعد روس کے صدر بیجنگ میں، باہمی تعاون کے معاہدوں پر دستخط متوقع

چین کے صدر شی جن پنگ نے بدھ کو بیجنگ میں روس کے صدر ولادی میر پوتن کا استقبال کیا۔ یہ ملاقات دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے اور ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب چند ہی روز قبل امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی چین کا دورہ کر چکے ہیں۔

شی جن پنگ نے گریٹ ہال آف دی پیپل میں پروقار تقریب کے ساتھ پوتن کا استقبال کیا۔ بعد ازاں دونوں وفود کے درمیان دوطرفہ مذاکرات ہوئے، جس کے بعد تعاون کے معاہدوں پر دستخط کی تقریب متوقع ہے۔

ماہرین کے مطابق پوتن کا یہ دورہ، ٹرمپ کے حالیہ دورے کے بعد، چین کی ایک بااثر عالمی طاقت کے طور پر حیثیت کو مزید مضبوط دکھانے کی کوشش ہے۔

خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کے مطابق لندن یونیورسٹی کے چائنا انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر سٹیو سانگ نے کہا کہ ’یہ واضح پیغام ہے کہ چین جس طاقت کے ساتھ چاہے دوستی اور سٹریٹجک شراکت قائم رکھ سکتا ہے، اور امریکہ ان میں سے صرف ایک ہے۔’

روسی اور چینی رہنما توانائی، سلامتی اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کریں گے۔ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق دونوں ممالک نے 2001 میں ہونے والے دوستی کے معاہدے میں توسیع پر بھی اتفاق کیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد چین روس کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا۔ چین نے خود کو اس تنازع میں غیر جانبدار قرار دیا، تاہم اس نے امریکی اور یورپی پابندیوں کے باوجود روس کے ساتھ تجارتی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

چین، روسی تیل اور گیس کا سب سے بڑا خریدار ہے اور ماسکو کو توقع ہے کہ ایران میں جنگ کے باعث طلب میں مزید اضافہ ہو گا۔ چین نے مغرب کے اس مطالبے کو بھی نظرانداز کیا کہ وہ روس کی دفاعی صنعت کو ہائی ٹیک پرزہ جات کی فراہمی بند کرے۔

یوری اوشاکوف نے بتایا کہ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں روس کی چین کو تیل کی

پوتن نے اس ماہ کے شروع میں کہا تھا کہ ’روس اور چین نے تیل اور گیس کے شعبے میں تعاون کو ایک اہم سطح تک پہنچا دیا ہے۔ تقریباً تمام اہم معاملات طے ہو چکے ہیں۔ اگر اس دورے کے دوران ہم انہیں مکمل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو مجھے بے حد خوشی ہوگی۔‘

پوتن نے دونوں ممالک کے تعلقات کو عالمی سطح پر استحکام اور توازن کے لیے اہم قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ’چین اور روس جیسے ممالک کے درمیان تعاون یقیناً عالمی نظام میں توازن اور استحکام کا باعث بنتا ہے۔‘

چین اور روس کے صدور کے درمیان یہ ملاقات اس لیے بھی توجہ کا مرکز ہے کہ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی چین کا دورہ کیا تھا اور اس لیے

 اس لیے شی جن پنگ اور ولادی میر پوتن کی اس ملاقات کے انداز اور نتائج پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *