امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ایرانی ناکہ بندی کو کھولنے کے لیے شروع کیا جانے والا پروجیکٹ فریڈم پاکستان کے کہنے پر روکا۔
امریکی خبر رساں ادارے این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ’پروجیکٹ فریڈم کو روکنے کی وجہ پاکستانی درخواست تھی۔ پاکستانیوں نے ہم سے کہا اگر آپ پروجیکٹ فریڈم روک دیتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے ہم ایک ڈیل تک پہنچ سکتے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’امریکی صدر نے ایران کے ساتھ مسئلے کے حل کے لیے سفارت کاری کو ترجیح دینے کا عندیہ دیا ہے۔ وہ اس معاملے کا سفارتی حل چاہتے ہیں، اسی لیے ہم نے فیصلہ کیا کہ اپنی کارروائی روک دیں۔‘
مارکو روبیو کے مطابق ’ہم نے فیصلہ کیا کہ کارروائی روک دیں۔ ہمارے ڈسٹرائرز خلیج میں موجود تھے۔ ہم نے کہا ٹھیک ہے، ہم انہیں واپس لے جا رہے ہیں۔ لیکن ایرانیوں نے ان پر فائر کیا۔ یہی وہ سرگرمی ہے جو آپ نے گذشتہ ہفتے دیکھی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’امریکہ اب بھی سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے اور اس پر کام جاری رکھے گا۔‘
ان کے مطابق ’ایران کو ہر موقع دیا گیا ہے کہ وہ کسی معاہدے پر پہنچے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایران اندرونی طور پر تقسیم کا شکار ہے۔ اس تقسیم کی وجہ سے امریکہ کو ان کی طرف سے واضح جوابی تجاویز حاصل کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔‘
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 6 مئی کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ’پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر پروجیکٹ فریڈم (آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمدورفت) کو مختصر مدت کے لیے معطل کیا جا رہا ہے۔‘
تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس دوران آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رہے گی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
امریکی صدر نے ابتدا میں آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا اور چند روز قبل بحری جہازوں کو وہاں سے نکالنے کے لیے ’پروجیکٹ فریڈم‘ شروع کرنے کا کہا تھا جسے بعد میں ایرانی حکام نے ’پرواجیکٹ ڈیڈلاک‘ قرار دیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا تھا کہ ایران کے نمائندوں کے ساتھ ایک ’مکمل اور حتمی معاہدے کی جانب عظیم پیش رفت‘ ہوئی ہے۔
اس کے جواب میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا تھا کہ صدر ٹرمپ کا ’فراخدلانہ ردعمل اس حساس دور میں خطے میں امن، استحکام اور مفاہمت کے فروغ میں نہایت معاون ثابت ہوگا۔‘
ایران نے 28 فروری، 2026 کو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد آبنائے ہرمز کے سمندری راستے کو بند کر دیا تھا جبکہ بعد میں کچھ جہازوں کو اپنی ساحلی حدود کے قریب متبادل راستوں سے گزرنے کی اجازت دی، جس کے عوض فیس بھی وصول کی گئی۔
