سنگاپور کے تعاون سے 11 پاکستانیوں، 20 ایرانیوں کی واپسی میں کامیابی: اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعے کو کہا ہے کہ حکومت پاکستان امریکی کارروائیوں کے دوران سمندر سے تحویل میں لیے گئے 11 پاکستانیوں کے علاوہ ایران کے 20 شہریوں کی سنگاپور کے تعاون سے وطن واپسی میں کامیاب ہو گئی ہے۔

ایکس پر اپنے پیغام میں اسحاق ڈار نے کہا: ’الحمدللہ، مجھے یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم 11 پاکستانی شہریوں کے ساتھ ساتھ اپنے برادر ملک ایران کے 20 شہریوں کی بھی سنگاپور کے ذریعے وطن واپسی میں کامیاب ہو گئے ہیں، جو ان جہازوں پر سوار تھے جنہیں امریکہ نے بلند سمندروں میں قبضے میں لے لیا تھا۔‘

بقول وزیر خارجہ: ’تمام افراد صحت مند اور ان کے حوصلے بلند ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’تمام افراد سنگاپور سے بنکاک پہنچ چکے ہیں اور پہلے ہی اس پرواز میں سوار ہو چکے ہیں جو آج رات اسلام آباد پہنچنے کے لیے شیڈول ہے۔ اس کے بعد ہمارے ایرانی بھائیوں کو ان کے وطن واپسی میں سہولت فراہم کی جائے گی۔‘

اس سلسلے میں انہوں نے سنگاپور کے وزیر خارجہ ویوین بالا کرشنن اور وزیراعظم اور تھائی لینڈ کی حکومت کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے بنکاک کے ذریعے ان افراد کی ٹرانزٹ میں سہولت فراہم کی۔

اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے ’پاکستانی حکومت پر  ایرانی بھائیوں کی وطن واپسی کے لیے اعتماد کیا۔‘

انہوں نے امریکی حکومت اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے 31 پاکستانی اور ایرانی شہریوں کی بحفاظت واپسی میں قریبی رابطہ اور تعاون فراہم کیا۔

اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ ’بیرونِ ملک پاکستانیوں کی فلاح و بہبود، خصوصاً وہ جو مشکلات کا شکار ہوں، ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگرچہ پاکستانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں یہ نہیں بتایا کہ ان افراد کو کب تحویل میں لیا گیا تھا، تاہم 28 فروری کو امریکہ و اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملے کے بعد جب تہران نے جوابی کارروائیوں کے سلسلے میں آبنائے ہرمز کو بھی بند کر دیا تو امریکہ نے ایران کے کئی جہازوں کو نشانہ بنایا تھا۔

4 مارچ کو ایک امریکی آبدوز نے سری لنکا کے ساحل کے قریب ایک ایرانی جنگی بحری جہاز کو ٹارپیڈو سے نشانہ بنا کر غرق کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں سری لنکن حکام کے مطابق کم از کم 87 افراد مارے گئے جب کہ درجنوں لاپتہ ہو گئے تھے۔

بعدازاں پانچ مارچ کو سری لنکن حکام نے کہا تھا کہ حملے کا نشانہ بننے والے ایک اور ایرانی بحری جہاز سے لوگوں کو ریسکیو کیا گیا۔

سری لنکن حکام نے 17 اپریل کو بتایا تھا کہ ایرانی بحریہ کے 238 ارکان کو واپس ایران بھیج دیا گیا ہے۔ ان میں 32 ایسے ایرانی سیلرز بھی شامل تھے، جو اُس ایرانی بحری جہاز کے عملے میں شامل تھے، جسے امریکہ نے بحر ہند میں حملہ کر کے ڈبو دیا تھا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *