پانڈا بانڈ کیا ہے اور پاکستان نے چین میں ان کا اجرا کیوں کیا ہے؟

وزارت خزانہ نے جمعرات کو کہا ہے کہ پاکستان نے پہلی بار چینی کرنسی یوآن میں بانڈ جاری کیا ہے جس کے ذریعے پہلے مرحلے میں 1.75 ارب یوآن (تقریباً 25 کروڑ ڈالر) جمع کیے گئے ہیں۔ اس بانڈ پر 2.5 فیصد منافع دیا جائے گا۔

یہ بانڈ جنہیں ’پانڈا بانڈ‘ کہا جاتا ہے، کے لیے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب چینی دارالحکومت بیجنگ گئے ہیں۔

’پانڈا بانڈ‘ کا نام چین کے جانور اور قومی علامت پانڈا کے نام پر رکھا گیا ہے، جیسے جاپان میں اس کو ’سامورائی بانڈ‘ اور انڈیا میں ’مصالحہ بانڈ‘ کہا جاتا ہے۔

پانڈا بانڈ جاری کرنا دراصل قرض حاصل کرنے کی ایک قسم ہے، جس میں پاکستان چین میں بانڈ جاری کر کے اسے چین کی مقامی مارکیٹ میں فروخت کرے گا، جس سے پاکستان کو قرضہ ملے گا اور اس کے بعد سود سمیت اسے واپس کیا جائے گا۔

آسان الفاظ میں بات کی جائے تو پاکستان کی جانب سے چین میں پانڈا بانڈ جاری کرنے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان چینی مارکیٹ سے چینی کرنسی یوان میں قرض لیتا ہے اور یہی قرض چین کی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

سرمایہ کار بانڈز خرید کر پاکستان کو چینی کرنسی یوان دیں گے اور اسی یوان کرنسی کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان اپنے درآمدی بل ادا کر سکتا ہے۔

وفاقی وزارت خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق پانڈا بانڈ کا مجموعی حجم ایک ارب ڈالر ہوگا اور پہلے مرحلے میں 250 ملین ڈالر مالیت کے بانڈز جاری ہوں گے، جس سے وزارت خزانہ کے مطابق پہلی مرتبہ پاکستان کو چین کی مقامی سرمایہ کاری کی مارکیٹ تک رسائی ملے گی، جس سے معیشت مستحکم ہو سکتی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سسٹینیبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق دنیا میں پانڈا بانڈ کی مجموعی مالیت 133 کھرب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جس میں 55 فیصد بانڈ امریکہ اور چین نے جاری کیے تھے۔

اعداد و شمار کے مطابق چین کی بانڈ مارکیٹ میں گذشتہ تین سالوں میں 13 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

اسی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق پاکستان نے 2024 میں پانڈا بانڈ میں سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا تھا اور اس کا بنیادی مقصد سنگل کرنسی یعنی ڈالر کے بجائے چینی کرنسی یوان میں تجارت اور سرمایہ کاروں کو راغب کرنا تھا، کیونکہ چینی سرمایہ کار مقامی کرنسی میں تجارت کو ترجیح دیتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ خلیج فارس میں کشیدہ صورت حال کی وجہ سے پاکستانی معیشت استحکام کی جانب بڑھی ہے، حالانکہ کشیدہ صورت حال اور آبنائے ہرمز کی بندش سے معیشت پر بوجھ ضرور پڑا ہے۔

پاکستان عمومی طور پر ڈالر میں تجارت کرتا ہے اور ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ سے مقامی کرنسی پر بوجھ پڑتا ہے، جس سے معیشت پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

شکیل احمد رامے ایشین انسٹی ٹیوٹ اف ایکو سیوک ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے سربراہ ہیں، جن کا کہنا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان مالی تعاون بہت وسیع ہے اور اس کی مثال یہ ہے پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تین بڑی کمپنیاں چین کی ہیں اور ان کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔

انہوں نے پانڈا بانڈ جاری کرنے کے حوالے سے بتایا کہ اس وسیع مالی تعاون کو پانڈا بانڈ مزید مضبوط بنائیں گے۔

شکیل احمد نے بتایا: ’امریکی مارکیٹ اور یورو بانڈ کی شرائط بہت سخت ہوتی ہیں لیکن پانڈا بانڈ کی شرائط اس کے مقابلے میں کم ہیں۔‘

تجارتی تعاون کے حوالے سے شکیل کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ پاکستان کا سب سے زیادہ تجارت کا حجم ہے اور مستقبل میں پانڈا بانڈ کے ذریعے بل سیٹلمنٹ میں آسانی ہوجائے گی۔

تیسری اہم بات شکیل کے مطابق پانڈا بانڈ جاری کرنے کے بعد وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان کا ڈالر پر انحصار بھی کم ہوجائے گا اور طویل المدت فائدہ یہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان کرنسی کے تبادلے میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا: ’سی پیک کے تحت پاکستان میں کام کرنے والی چینی کمپنیاں بھی مستقبل میں ان بانڈز میں حصہ دار یا ان کو پاکستان سٹاک ایکسچینج کے ذریعے بانڈ جاری کرنے کی آفر کر سکتی ہیں۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *