صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے پاکستانی شہریوں کے اہل خانہ نے بدھ کو کہا ہے کہ اگر حکومت نے ان کے پیاروں کی بازیابی کے معاملے پر فوری توجہ نہ دی تو وہ بچوں سمیت بھوک ہڑتال شروع کریں گے۔
21 اپریل کو صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں نے ’ایم ٹی آنر 25‘ نامی آئل ٹینکر کو اغوا کر لیا تھا، جس پر سوار 17 رکنی عملے میں 10 پاکستانی شہری بھی شامل تھے، جنہیں قزاقوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔
ان یرغمالیوں میں کاشف عمر، حسین یوسف، محمود احمد، عثمان غنی، عقیل خان، محمد یسین، عمران علی، رفیع اللّٰہ خان، یاسر خان اور امین بن شمس شامل ہیں۔
ان شہریوں کے اہل خانہ نے بدھ کو کراچی میں کے پی ٹی برج پر احتجاج کیا، جہاں خواتین اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں افراد شریک ہوئے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ 23 روز گزر جانے کے باوجود ان کے پیارے تاحال صومالی قزاقوں کے قبضے میں ہیں اور حکومت کی جانب سے انہیں کسی مؤثر پیش رفت سے آگاہ نہیں کیا جا رہا۔
احتجاج میں شریک بچوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر اپنے پیاروں کی واپسی کے مطالبات درج تھے۔ کسی بچے نے لکھا تھا: ’بابا جلدی آ جاؤ،‘ جبکہ بعض پلے کارڈز پر حکومت سے مدد کی اپیل کی گئی تھی۔
احتجاج میں اپنے بچوں کے ہمراہ شریک یرغمالی یاسر خان کی اہلیہ مہوش یاسر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ایک ہفتہ قبل ان کی اپنے شوہر سے بات ہوئی تھی، جس میں معلوم ہوا کہ یرغمال افراد کو صرف ایک وقت ابلے چاول کھانے کے لیے دیے جا رہے ہیں جبکہ پینے کے لیے آلودہ پانی فراہم کیا جارہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا: ’میرے شوہر گھر کے واحد کفیل ہیں۔ ان کے بغیر گھر کا نظام چلانا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ میں بچوں کو تسلی دیتی رہتی ہوں، لیکن میرا چھوٹا بیٹا روز کہتا ہے کہ مجھے بقرعید اپنے پاپا کے ساتھ کرنی ہے۔ اگر ان کے بابا واپس نہ آئے تو میرے بچے کیسے رہیں گے؟‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یرغمالی یاسر خان کے بڑے بیٹے بشارت خان نے ہاتھ میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’مجھے اپنے بابا کی بہت فکر رہتی ہے، پتہ نہیں وہ کس حال میں ہیں۔ مجھے میرے بابا صحیح سلامت واپس چاہییں۔‘
مظاہرے میں یرغمال شہری امین بن شمس کے والد شمس الہدیٰ بھی شریک تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے انہیں کسی قسم کی تسلی یا واضح معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔
بات کرتے ہوئے ان کا ضبط ٹوٹ گیا اور انہوں نے جذباتی انداز میں کہا: ’آپ ہمارے گھروں پر نہیں آئے، لیکن کسی بھی طرح ہماری مدد کریں۔ جب وہاں سے لاشیں واپس آئیں گی، تب آپ دیکھیں گے۔‘
اسی احتجاج میں یرغمال شہری سید یوسف کے بھانجے طالب رضا نے کہا کہ اہلِ خانہ ہر سطح پر آواز اٹھا چکے ہیں، پریس کانفرنسیں بھی کی گئیں، لیکن اب تک کوئی خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ان کے مسئلے پر فوری توجہ نہ دی تو وہ بچوں سمیت بھوک ہڑتال شروع کریں گے۔ ان کا کہنا تھا: ’اب ہمارے پاس آخری راستہ بھوک ہڑتال ہی رہ گیا ہے۔‘
احتجاج میں انصار برنی ٹرسٹ کے روح رواں انصار برنی بھی پہنچے، جہاں انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، جب تک تمام پاکستانی بچے خیریت سے وطن واپس نہیں پہنچ جاتے۔
انہوں نے حکومت سے اس مسئلے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
اس سے قبل 30 اپریل کو بھی یرغمالیوں کے اہلِ خانہ نے کراچی پریس کلب میں حکومتِ پاکستان سے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔
اہلِ خانہ نے شکوہ کیا تھا کہ متعدد بار رابطوں اور اپیلوں کے باوجود انہیں کسی قسم کی واضح پیش رفت یا تسلی نہیں دی جا رہی۔
متاثرہ خاندانوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ اس معاملے کے لیے ایک فوکل پرسن مقرر کیا جائے، جو اہلِ خانہ سے مسلسل رابطے میں رہے اور انہیں پیش رفت سے آگاہ کرے۔
