پروفیسرز طالب علموں کو عملی کام کیوں نہیں سکھاتے؟

میں اس سیمسٹر دو کورسز پڑھا رہی تھی۔ ایک انڈر گریجویٹ پروگرام کا کورس تھا اور دوسرا ماسٹرز پروگرام کا تھا۔ انڈر گریجویٹ کورس نیوز رپورٹنگ اور رائٹنگ کا تھا اور ماسٹرز کا خالصتاً تحقیق کا۔ میں نے کورسز ڈیزائن کرتے ہوئے سوچا کہ اپنا زیادہ دھیان ماسٹرز کورس پر رکھتے ہوئے انڈر گریجویٹ کو تھیوری کم پڑھاؤں گی اور پریکٹیکل کام زیادہ کرواؤں گی۔

میں نے اپنے انڈرگریجویٹ طلبہ کو سیمسٹر کے شروع میں ہی بتا دیا کہ انہیں اس سیمسٹر ایک خبر ڈھونڈنی ہے، لکھنی ہے اور کسی اشاعتی ادارے میں چھپوانی ہے۔

وہ ہر مرحلہ میرے لیکچر کی روشنی میں طے کریں گے اور جہاں میری مزید مدد کی ضرورت پڑی مجھ سے رجوع کر سکیں گے۔ سیمسٹر کے اختتام پر ہر طالب علم کے پاس اپنی شائع شدہ خبر ہوگی اور وہ بطور صحافی کام کرنے کا اصل تجربہ کر چکے ہوں گے۔

لیکن جیسے جیسے سیمسٹر آگے بڑھا، مجھے احساس ہوا کہ اس اسائنمنٹ کی وجہ سے میرا اپنا کام بڑھ گیا تھا۔ ہر لیکچر کے بعد طالب علموں کے کئی گروہ مجھ سے اپنے کام کے حوالے سے بات کرتے تھے۔ کچھ گروہ ہفتے کے کسی بھی دن میرے دفتر آ کر اپنی خبر کے حوالے سے بات کرتے تھے۔

میں ان کے آنے کی توقع کر رہی تھی لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وہ ہر بار بغیر کسی تیاری کے آئیں گے۔ مجھے کچھ میٹنگز کے بعد اندازہ ہوا کہ طالب علم نہ لیکچر سن رہے تھے، نہ اسائنمنٹ میں دلچسپی لے رہے تھے، وہ انہیں ایک بیگار لگ رہی تھی، ایک ایسی مصیبت جو میں نے ان پر جان کر ڈال دی تھی۔

انہیں کچھ بھی پتہ نہیں ہوتا تھا اور یوں وہ میرے 15 سے 20 منٹ ضائع کر دیتے تھے۔ بہت سے طلبہ لیکچر میں حاضری لگوا کر اے آئی کی مدد سےکورس کے لیے درکار اسائنمنٹ بنوا کر جمع کروانا چاہتے تھے جبکہ یہاں ان کے رستے میں ایک حقیقی اسائنمنٹ تھی، جس کے لیے انہیں کئی ماہ محنت کرنی تھی اور  وہ اس محنت کے لیے تیار نہیں تھے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے میڈیا کو بھی اپنے آدھے کچے خیالات بھیجنا شروع کر دیے اور جب وہاں سے جواب نہ آیا تومیرے سر ہو گئے۔ دوسری طرف کلاس میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جنہیں کچھ ہفتوں بعد ہی میڈیا کی طرف سے جواب آنا موصول ہو گئے تھے اور سیمسٹر کے اختتام تک ان کی خبریں بھی چھپ چکی ہیں۔ تاہم، ایسے طالب علموں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

کچھ طالب علموں نے ادھوری خبریں مجھے بار بار اس لیے بھیجیں کہ میں ان پر اپنے تاثرات دیتے ہوئے انہیں ٹھیک اور مکمل ہی کر دوں۔ جب مجھے یہ احساس ہوا تو میں نے صاف کہہ دیا کہ ایسے نہیں ہوگا۔ انہیں لیکچر غورسے سننے پڑیں گے اور ان کی روشنی میں کام کرنا ہوگا۔ اگر کام ویسا نہ ہوا تو میں ان کی ادھوری خبروں پر ہی انہیں نمبر دے دوں گی۔

اس اعلان کے بعد ای میلز کا سیلاب تھما اور طلبہ نے اس اسائنمںٹ پر تھوڑا بہت کام شروع کیا لیکن تب تک میں فیصلہ کر چکی تھی کہ اگر اگلے سال میں نے یہ کورس  پڑھایا تو میں یہ اسائنمںٹ نہیں رکھوں گی۔

میں چاہتی تھی کہ کورس کے اختتام پر میرے طلبہ کو نہ صرف خبر ڈھونڈنی آتی ہو بلکہ وہ اسے بنانا اور اس کی اشاعت کروانا بھی جانتے ہوں۔ تاہم، ان کے رویے نے میری بہت حوصلہ شکنی کی۔ میں نے دو پلان شدہ مہمان لیکچر بھی نہیں کروائے۔

اس سیمسٹر کے بعد مجھے سمجھ آئی کہ میرے پروفیسرز نے مجھے ڈگری کے دوران کوئی عملی کام کیوں نہیں سکھایا۔ وہ اپنے تجربے سے سیکھ چکے تھے کہ طالب علموں کی اکثریت جامعہ میں بغیر محنت کیے ڈگری لینے آتی ہے، انہیں سیکھنے سے غرض نہیں ہوتی۔

انہیں سکھانے کی کوشش کی جائے تو وہ الٹا پروفیسروں کو ہی تنگ کرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس رویے کو اکیڈیمک دنیا میں ڈِس انگیجمنٹ کمپیکٹ یعنی بے توجہی کا معاہدہ کہا جاتا ہے۔ یہ اصطلاح 1990 میں ایک ماہرِ تعلیم جارج کوہ نے متعارف کروائی تھی۔

اس اصطلاح سے مراد پروفیسروں اور طالب علموں کے درمیان ایک ایسا خاموش معاہدہ ہے، جس کے تحت پروفیسر طالب علموں کو پڑھائی میں مشغول کرنے سےاحتراز برتتے ہیں۔

وہ نہ انہیں زیادہ پڑھاتے ہیں، نہ ان سے محنت کرواتے ہیں اور ہر اسائنمنٹ اور پیپر میں انہیں اچھے نمبر دیتے ہیں اور بدلے میں طالب علم نہ انہیں تنگ کرتے ہیں اور نہ ہی ان کی کورس ایویلیوایشن میں برے تبصرے لکھتے ہیں۔ پروفیسر اور طالب علم جامعہ کو ’سب اچھا ہے‘ کی رپورٹ دیتے ہیں اور یوں ان کا چار ماہ پر مشتمل تعلق ختم ہو جاتا ہے۔

لیکن اس کا نقصان خود طالب علموں کو ہوتا ہے۔ وہ زیادہ سیکھ نہیں پاتے اور جامعہ سے ایسے ہی گریجویٹ ہو جاتے ہیں۔ انہیں عملی دنیا میں صفر سے شروع کرنا پڑتا ہے۔ تب وہ اپنے پروفیسروں کو برا بھلا کہتے ہیں جنہوں نے انہیں ڈگری کے دوران کچھ نہیں سکھایا ہوتا۔ اس وقت وہ اپنا جامعہ میں رویہ بھول چکے ہوتے ہیں۔

انڈسٹری بھی جامعات کو قصور وار ٹھہراتی ہے۔ جامعات کا قصور بھی ہے۔ وہ پروفیسروں کی کارکردگی طالب علموں کے فیڈبیک کی روشنی میں جانچتی ہے جبکہ طالب علم اس فیڈبیک کو پروفیسروں کے خلاف ایک آلے کی طرح استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔

پروفیسر طلبہ سے کام کروائیں تو وہ انہیں برا فیڈ بیک دیتے ہیں۔ فیڈبیک برا ہو تو پروفیسر طالب علموں کے لیے مشکل پیپر بناتے ہیں اور اس کی سخت چیکنگ کرتے ہیں اور جب اس مقابلے سے تھک جاتے ہیں تو اس معاہدے پر کارآمد ہوتے ہوئے طلبہ کو’تنگ کرنا‘ بند کر دیتے ہیں۔

جامعات کو اس سنگین مسئلے کا ادراک کرتے ہوئے ایک ایسا نظام تشکیل دینا چاہیے، جس کے تحت پروفیسروں اور طالب علموں کی کارکردگی کی آزادانہ جانچ ہو سکے۔ ایک ایسا نظام جہاں کوئی بھی فریق اپنی طاقت کے بل پر دوسرے کو نقصان نہ پہنچا سکے۔

اس کے ساتھ ساتھ پالیسیوں پر بلا تفریق سختی سے عمل ہونا چاہیے تاکہ کوئی طالب علم نظام میں اپنے لیے چھوٹ نہ ڈھونڈ سکے۔

اس کے بعد ہی وہ اپنی پڑھائی کو سنجیدگی سے لیں گے اور پروفیسروں کی محنت کا جواب محنت سے دیں گے وگرنہ وہ نظام کا ایسے ہی فائدہ اٹھاتے رہیں گے اور کورے ذہن کے ساتھ انڈسٹری میں جا کر اپنے پروفیسروں کو برا بھلا کہیں گے اور اکیڈیمیا اور انڈسٹری کے درمیان خلیج ختم کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکیں گے۔

نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *