معیشت میں بہتری، 2002 کے بعد پہلی بار مالیاتی سرپلس ریکارڈ: سٹیٹ بینک پاکستان

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے منگل کو جاری کی گئی اپنی ششماہی رپورٹ میں کہا ہے کہ ملکی معیشت نے مالی سال 26-2025 کے پہلے چھ ماہ میں قابلِ ذکر لچک اور رفتار کا مظاہرہ کیا اور پاکستان نے 2002 کے بعد پہلی بار نصف سالہ مالیاتی سرپلس حاصل کیا۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 میں ملک کی حقیقی جی ڈی پی شرح نمو 3.25 سے 4.25 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، جو گذشتہ مالی سال کی 3.1 فیصد شرح نمو سے بہتر ہے ۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اقتصادی بہتری میں سب سے اہم کردار صنعتی شعبے نے ادا کیا، جس نے 8.1 فیصد کی مضبوط ترقی ریکارڈ کی۔

بڑی صنعتوں نے تین سالہ منفی رجحان ختم کرتے ہوئے 4.8 فیصد اضافہ دکھایا، جس کی بڑی وجہ گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ، ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی پیداوار میں تیزی اور پیٹرولیم پیداوار میں اضافہ رہا۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ شدید موسمی حالات اور سیلاب نے کپاس اور مکئی جیسی اہم خریف کی فصلوں کو نقصان پہنچایا، لیکن پھر بھی زرعی شعبہ 2.2 فیصد کی مثبت ترقی حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ اس میں لائیو سٹاک کے شعبے کی بہتر کارکردگی اور گنے اور چاول کی بہتر پیداوار نے اہم کردار ادا کیا۔

مرکزی بینک کے مطابق یہ کامیابی شرحِ سود (مارک اپ) کی ادائیگیوں میں نمایاں کمی اور مالیاتی استحکام کی مسلسل پالیسیوں کے باعث ممکن ہوئی۔ اس مالی گنجائش نے حکومت کو ترقیاتی منصوبوں اور سماجی اخراجات، خصوصاً سیلاب ریلیف سرگرمیوں میں اضافہ کرنے کا موقع دیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رپورٹ کے مطابق عوام کو اس وقت کچھ ریلیف ملا، جب نیشنل کنزیومر پرائس انڈیکس کے مطابق مہنگائی 5.2 فیصد تک کم ہو گئی، جو گذشتہ سال 7.2 فیصد تھی۔

مزید کہا گیا کہ عالمی وانائی کی قیمتوں میں کمی اور بجلی کے نرخوں میں مقامی ایڈجسٹمنٹ نے مہنگائی کو قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، تاہم سیلاب کے باعث خوراک کی قیمتیں نسبتاً بلند رہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس بہتر معاشی صورت حال کے جواب میں سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی  نے دسمبر 2025 میں پالیسی ریٹ میں 50 بیسز پوائنٹس کی کمی کی۔

مزید کہا گیا کہ صنعتی سرگرمیوں میں تیزی کے ساتھ درآمدات میں اضافہ ہوا، جس کے باعث تجارتی خسارہ تقریباً 36 فیصد بڑھ گیا۔

ملک نے صنعتی خام مال، مشینری اور ٹرانسپورٹ آلات زیادہ درآمد کیے جبکہ برآمدات 9.0 فیصد کم ہو کر 15.1 ارب امریکی ڈالر رہ گئیں، جس کی بڑی وجہ عالمی سطح پر چاول کی قیمتوں میں کمی اور بڑھتا ہوا مقابلہ تھا۔

تاہم کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1.4 ارب ڈالر تک محدود رکھا گیا، جس میں ترسیلاتِ زر کا اہم کردار رہا۔

رپورٹ کے مطابق بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے 19.7 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات بھیجیں، جس کے باعث سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر دسمبر 2025 کے اختتام پر 16.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔

اگرچہ مختصر مدت کا منظرنامہ مثبت ہے، تاہم سٹیٹ بینک نے طویل مدتی ساختی اور ماحولیاتی خطرات پر سخت انتباہ جاری کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اب دور کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ ایک فوری معاشی خطرہ بن چکی ہے۔ حالیہ سیلاب اور ہیٹ ویوز نے اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے اور خبردار کیا گیا ہے کہ اگر فوری موسمیاتی موافقت کی سرمایہ کاری نہ کی گئی تو 2050 تک پاکستان کی جی ڈی پی میں 9 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔

مزید برآں مرکزی بینک نے خبردار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات، عالمی شپنگ لاگت میں اضافہ، اور بین الاقوامی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آنے والے مہینوں میں پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے مسلسل خطرہ بنے رہیں گے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *