غزہ پر اسرائیلی حملوں پر مبنی دستاویزی فلم، جسے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے نشر کرنے سے گریز کیا تھا، بافٹا ایوارڈز 2026 میں کرنٹ افیئرز کی کیٹیگری میں فاتح قرار پائی۔
دستاویزی فلم ’غزہ: ڈاکٹرز انڈر اٹیک‘ میں غزہ کے فلسطینی طبی عملے کے براہ راست بیانات شامل ہیں جسے لندن کے رائل فیسٹیول ہال میں ایوارڈ سے نوازا گیا۔
اس فلم کو بی بی سی نے غیرجانبداری سے متعلق خدشات کی بنا پر نشر کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
فلم کے پروڈیوسر بین ڈی پیئر نے یہ ایوارڈ دو صحافیوں ایوارڈ جابر بدوان اور اسامه العشى کے نام کیا جنہوں نے ان کے لیے فیلڈ میں کام کیا۔ انہوں نے ایوارڈ وصول کرتے ہوئے کہا کہ ’انہوں (صحافیوں) نے یہ سب ایک ایسے قتل عام کے دوران کیا جس میں غزہ میں ان کے 250 سے زائد ساتھی صحافی جان سے گئے۔‘
انہوں نے سٹیج پر سے ہی بی بی سی سے سوال کیا کہ: ’آپ نے ہماری فلم ڈراپ کر دی، تو کیا آپ آج رات بافٹا کی سکریننگ سے ہمیں بھی نکال دیں گے؟‘
برطانوی صحافی، دستاویزی فلم ساز اور مصنفہ رمیتا ناوائی نے ایوارڈ وصول کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اب تک غزہ میں 47 ہزار سے زائد بچوں اور خواتین کو قتل کر چکا ہے۔ جبکہ غزہ کے تمام ہسپتالوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، 1700 سے زائد فلسطینی ڈاکٹروں اور طبی عملے کو قتل جبکہ 400 سے زائد کو قید کیا گیا، جسے اقوامِ متحدہ نے ’میڈیسائیڈ‘ (طبی عملے کا منظم قتل) قرار دیا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا کہ یہ ان کی تحقیق کے نتائج ہیں، جس کی مالی معاونت بی بی سی نے کی تھی، لیکن اسے نشر کرنے سے انکار کر دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا: ’ہم خاموشی اور سنسرشپ کے آگے جھکنے سے انکار کرتے ہیں۔‘
انہوں نے یہ ایوارڈ 80 سے زائد فلسطینی ڈاکٹروں اور طبی عملے کے نام کیا جو ان کے مطابق اس وقت حراستی مراکز میں قید ہیں، جنہیں بعض انسانی حقوق کی تنظیمیں تشدد کے کیمپ قرار دیتی ہیں۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق بی بی سی نے براڈکاسٹ کے دوران رمیتا ناوائی کے بعض ریمارکس اپنی کمپلائنس ٹیم سے مشاورت کے بعد ایڈٹ کر دیے۔
رپورٹ کے مطابق بی بی سی نے اس پروجیکٹ کو نشر ہونے سے قبل روک دیا تھا، بعد ازاں یہ دستاویزی فلم چینل 4 پر نشر کی گئی۔
بی بی سی کے مطابق ’غزہ: ڈاکٹرز انڈر اٹیک‘ کے میں خدشہ تھا کہ اس سے ’جانبداری کا ایسا تاثر پیدا ہو سکتا ہے جو اس اعلیٰ معیار کے مطابق نہیں جس کی توقع عوام بی بی سی سے کرتی ہے۔‘
بی بی سی نے اس موقع پر یہ بھی کہا تھا کہ وہ غزہ میں جاری تنازع کی کوریج کے لیے پرعزم ہے اور اس نے اس حوالے سے مؤثر اور اہم رپورٹنگ کی ہے۔
