صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں پولیس کے مطابق منگل کو سرائے نورنگ میں پھاٹک کے قریب بم دھماکے میں دو ٹریفک پولیس اہلکاروں سمیت نو افراد جان سے گئے جب کہ متعدد افراد زخمی ہیں۔
نورنگ کے ڈپٹی سپریٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) سعید خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ دھماکہ پھاٹک کے قریب ہوا ہے اور جن افراد کی اموات ہوئیں ان میں بیشتر راہگیر تھے۔
سعید خان نے بتایا کہ ’ایمرجنسی صورت حال ہے اور قریب میں بنیادی مرکز صحت موجود، جہاں زخمیوں پہنچایا گیا۔‘
ریجنل پولیس افسر بنوں سجاد خان نے میڈیا کو جاری بیان میں بتایا کہ ابتدائی تحقیق کے مطابق دھماکہ خیز مواد موٹرسائیکل میں نصب تھا۔
انہوں نے بتایا کہ علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکھٹے کیے جا رہے ہیں اور ’دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو ہر صورت کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ریسکیو 1122 لکی مروت کی جانب سے جاری بیان میں بھی بتایا گیا ہے کہ امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
گذشتہ ہفتے کو ضلع بنوں میں فتح میل چوکی میں خود کش حملے میں 15 پولیس اہلکار جان سے گئے تھے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک بیان میں دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے بتایا ہیں کہ ’دہشت گردی کی عفریت کا سر کچلنے کے لیے پوری قوم یک جان ہیں۔‘
خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع بشمول بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، کرک اور وزیرستان گذشتہ تین سالوں سے عسکریت پسندی کے لپیٹ میں ہیں اور سکیورٹی اہلکاروں پر حالیہ برسوں سے تواتر سے حملے ہوتے آئے ہیں۔
