ٹرمپ کا مجوزہ امن فارمولا: امریکہ کی پسپائی کے اشارے

زیادہ تر لوگوں میں فطری طور پر ’مذاکرات کو جنگ‘ پر ترجیح دینے کا رجحان ہوتا ہے اور وہ امریکہ کی جانب سے ایران پر مزید حملوں سے پیچھے ہٹنے کے کسی بھی اشارے کو مثبت سمجھتے ہیں۔

تاہم، خواہ اس میں کچھ حد تک خوش فہمی بھی شامل ہو، امریکہ اور ایران کی حالیہ صورت حال یہ ظاہر کرتی ہے کہ واشنگٹن اپنی پوزیشن سے کافی پیچھے ہٹ رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی مستقبل میں ایک ایسے معاہدے کا امکان پیدا ہو رہا ہے جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ’ڈیل‘ کہہ سکتے ہیں۔

گذشتہ چند دنوں میں ٹرمپ کے دو قریبی ساتھیوں، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مختلف انداز میں کہا ہے کہ ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے ابتدائی مقاصد حاصل کر لیے گئے ہیں۔

جس آپریشن میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کی گئی تھی، اسے صرف دو دن بعد ہی روک دیا گیا تھا، اور خود ٹرمپ نے بھی ایران کے ساتھ مذاکرات میں ’اچھی پیش رفت‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک ’معاہدہ‘ ممکن ہے۔

اس پیش رفت کا کچھ حصہ ایک ایک صفحے پر مشتمل 14 نکاتی دستاویز میں ظاہر ہوتا ہے، جس کے بارے میں امریکی خبر رساں ادارے ’ایکسِیوز‘ نے رپورٹ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ مفاہمتی یادداشت امریکہ کا تازہ ترین مؤقف ہے اور اس پر ایران غور کر رہا ہے۔ ایرانی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ وہ امریکی تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں اور پاکستان کی ثالثی کے ذریعے جواب دیں گے۔

اگر اس دستاویز کا وجود حیران کن تھا تو اس کے مندرجات اس سے بھی زیادہ حیران کن نظر آتے ہیں، کیونکہ اس میں کئی ایسے امریکی مطالبات شامل نہیں جو فروری میں شروع ہونے والی فوجی کارروائیوں کے آغاز پر غیر متنازع (ناقابل گفت و شنید) سمجھے جا رہے تھے۔

درحقیقت، اب جو بنیادی شرط باقی رہ گئی ہے وہ یہ ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرے، یورینیم افزودگی کو 3.6 یا 3.7 فیصد تک رکھے یعنی فوجی استعمال سے بہت کم سطح پر اور یہ حد کم از کم 10 (یا ممکنہ طور پر 15 یا 30) سال تک برقرار رکھے، ساتھ ہی بین الاقوامی معائنہ قبول کرے۔

اس کے بدلے میں حالیہ سمندری پابندیاں بتدریج ختم کی جائیں گی اور امریکہ اپنی معاشی پابندیاں آہستہ آہستہ اٹھائے گا، جن میں وہ پابندیاں بھی شامل ہیں جو ایران کے اسلامی انقلاب کے دور سے چلی آ رہی ہیں۔

مجموعی طور پر یہ شرائط 2015 کے ’مشترکہ جامع منصوبہ‘ (JCPOA)  کے بہت قریب ہیں، جسے ایران جوہری معاہدہ بھی کہا جاتا ہے اور جو براک اوباما کے دور میں طے پایا تھا اور اقوام متحدہ کی حمایت سے نافذ ہوا تھا۔

یہی وہ معاہدہ تھا جس سے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں 2018 میں امریکہ کو الگ کر لیا تھا۔ اگرچہ دیگر فریقین اور ابتدا میں ایران بھی اس پر قائم رہا لیکن امریکہ کی حمایت کے بغیر یہ معاہدہ عملاً ختم ہو گیا۔

اس مفاہمتی دستاویز میں جو چیزیں شامل نہیں ہیں، ان کی فہرست کافی طویل ہے۔

اس میں ایران کے تمام یورینیم افزودگی پروگرام کو ختم کرنے کا کوئی مطالبہ نہیں۔ نہ ہی ایران میں حکومت کی تبدیلی کا ذکر ہے، نہ موجودہ نظام میں کسی تبدیلی کی شرط۔ قیدیوں کی رہائی کا بھی کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا۔

ایران کے بیلسٹک میزائلوں کا ذکر بھی موجود نہیں اور نہ ہی حزب اللہ یا حماس جیسے اتحادی گروہوں کی حمایت ختم کرنے کی کوئی شرط شامل ہے۔

اب یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ ایران کی قیادت کے ایک بڑے حصے کے قتل کو عملی طور پر حکومت کی تبدیلی کے برابر سمجھا جا سکتا ہے۔

 اگرچہ اسلامی نظام اب بھی برقرار ہے یا یہ کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں نے ایران کے اتنے میزائل تباہ کر دیے ہیں کہ مسئلہ کافی حد تک ختم ہو گیا ہے اور یہ بھی کہ غزہ اور جنوبی لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں ایران کے پراکسی اثر کو کم یا ختم کر رہی ہیں۔

اسی طرح یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانا تھا۔

تاہم امریکہ کے نقطۂ نظر سے بھی اگر اس معاہدے کو بہتر سے بہتر انداز میں دیکھا جائے اور یہ مان لیا جائے کہ یہ محض مزید مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک ہے تب بھی اسے کسی واضح امریکی پسپائی کے علاوہ کچھ اور کہنا مشکل ہے۔

آخرکار جو شرائط اب زیر غور ہیں وہ تقریباً وہی ہیں جو اس وقت پیش کی جا رہی تھیں جب امریکہ نے مذاکرات ختم کر کے جنگ شروع کی تھی۔

پیٹ ہیگستھ اور مارکو روبیو جتنے زور سے اپنے اہداف کی تکمیل کا دعویٰ کریں، زمینی حقیقت میں امریکہ کے لیے اسے کسی واضح فتح کے طور پر پیش کرنا مشکل ہے۔

یقیناً یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کوئی حتمی معاہدہ ہو گیا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے امن عمل کی طرح یہاں بھی یہ اصول غالب ہے کہ ’جب تک سب کچھ طے نہ ہو جائے، کچھ بھی طے نہیں ہوتا‘ اور اس نے کئی امن کوششوں کو ناکام بنایا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنے کے دورانیے پر بھی اختلافات برقرار ہیں۔

ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کے بارے میں بھی کوئی واضح انتظام نہیں (اگر وہ موجود ہیں)، اگرچہ روس کی طرف سے ثالثی کی پیشکش کی اطلاعات ہیں۔

یہ بھی واضح نہیں کہ ایران آبنائے ہرمز میں ٹیکس وصول کرنا چھوڑے گا یا نہیں کیونکہ اسے جنگی نقصان کی مرمت کے لیے مالی وسائل درکار ہیں۔

تاہم یہ اختلافات عام مذاکرات کا حصہ ہیں، انہیں ناقابل حل نہیں کہا جا سکتا اور سمجھوتے کا امکان موجود ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اصل سوال یہ ہے کہ امریکہ نے اتنی بڑی پسپائی کیوں اختیار کی؟

کیا اس نے ایران کی صلاحیتوں، اس کی مزاحمتی طاقت، یا اس کے جوابی ردعمل کو غلط انداز میں سمجھا؟

یا یہ کہ عالمی معیشت، امریکی صارفین، اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو نظر انداز کیا گیا، جو نومبر کے وسط مدتی انتخابات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں؟

ممکن ہے ایسا ہو۔ لیکن ایک اور اہم پہلو مشرق کی طرف چین کی صورت میں موجود ہے۔

ٹرمپ نے مارچ میں چین کا ایک اہم دورہ ایران کی صورت حال کے باعث ملتوی کر دیا تھا اور یہ دورہ اب 14 سے 17 مئی کے درمیان طے ہے، جسے دوبارہ مؤخر کرنا سیاسی طور پر نقصان دہ ہوگا۔

چین اس دوران ایران اور روس سے بھی بات چیت کر رہا ہے اور جنگ بندی کی حمایت کر رہا ہے۔

امریکہ ایران مذاکرات کی 14 نکاتی دستاویز میں 30 دن کی ڈیڈلائن رکھی گئی ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات کے لیے کافی وقت ہے جس کے بعد یا تو امریکہ اور چین کے تعلقات میں نئے دور کا اعلان ہو سکتا ہے یا اگر پیش رفت ناکافی رہی تو ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ بھی شروع ہو سکتی ہے۔

یہ ٹرمپ کے لیے ایک ممکنہ راستہ ہے اور ایران کے لیے ایک انتباہ بھی۔

لیکن تمام اشارے اس بات کی طرف ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ ترین حلقے، اگرچہ ابھی صدر تک یہ احساس پوری طرح نہیں پہنچا، یہ سمجھ چکے ہیں کہ فوجی طاقت کے ذریعے ایران کے نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش ایک حد سے زیادہ بڑا اور ناقابل عمل منصوبہ تھا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *