روزانہ دس ہزار قدم یا صرف 500، سائنس صحت مند رہنے کے لیے کیا بتاتی ہے؟

چلنا دنیا کی سب سے کم تجویز کی جانے والی مگر سب سے مؤثر ’دواؤں‘ میں سے ایک ہے۔ پیروں کی ساخت اور حرکت کے ماہر ڈاکٹر کورٹنی کونلی کے مطابق، ’چلنا ہر ڈاکٹر کے نسخے کا حصہ ہونا چاہیے۔ یہ طب کا ہمہ گیر علاج ہے۔‘

وہ اپنی نئی کتاب Walk: Your Life Depends On It میں شریک مصنف ڈاکٹر ملیکا میک ڈوول کے ساتھ کہتی ہیں کہ چلنا کھانے، سونے، دانت صاف کرنے اور سانس لینے جیسی روزمرہ کی ناگزیر عادت ہے۔ یہ کمر، گھٹنوں اور کولہوں کے درد کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے، ذہنی دباؤ اور ڈپریشن سے لڑتا ہے، خون میں شوگر کی سطح کو متوازن رکھتا ہے اور دماغی صحت بہتر بنا کر ڈیمنشیا کے خطرے کو کم کرتا ہے۔

ڈاکٹر میک ڈوول کہتی ہیں: ’جب ہم چلتے ہیں تو اس کا اثر جسم کے تقریباً ہر نظام پر پڑتا ہے۔ دنیا کے تقریباً 98 فیصد لوگ چلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس لیے اس کے فوائد سے فائدہ اٹھانے کی بے پناہ گنجائش موجود ہے۔‘

لیکن سوال یہ ہے کہ سائنس کے مطابق ہمیں روزانہ کتنے قدم چلنا چاہیے؟

روزانہ 10 ہزار قدم: ایک غلط فہمی؟

ماہرین کے مطابق روزانہ 10 ہزار قدم چلنے کا تصور ایک ’مکمل اصول‘ نہیں بلکہ ایک عام غلط فہمی ہے۔

ڈاکٹر میک ڈوول کہتی ہیں: ’زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ روزانہ 10 ہزار قدم ہی مثالی ہدف ہے، لیکن یہ ایک ایسا تصور ہے جسے توڑنے کی ضرورت ہے۔ آپ اپنے مقصد اور حالات کے مطابق مختلف اہداف منتخب کر سکتے ہیں۔‘

ان کے مطابق اگر کوئی شخص بہت کم حرکت کرتا ہے تو اس کے لیے بنیادی پیغام یہی ہے کہ ’کچھ نہ کرنے سے کچھ بھی بہتر ہے۔‘

500 قدم: صرف پانچ منٹ کی واک

تقریباً پانچ منٹ میں مکمل ہونے والی 500 قدم کی تیز واک کو ڈاکٹر کونلی ’مائیکرو واک‘ کہتی ہیں۔

ڈاکٹر میک ڈوول کے مطابق: ’صرف پانچ منٹ کی واک دماغ میں خون کی روانی بہتر کرتی ہے، سوچنے کی صلاحیت بڑھاتی ہے، تخلیقی سوچ میں اضافہ کرتی ہے، موڈ بہتر بناتی ہے اور بے چینی و ڈپریشن کی علامات کم کرتی ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ اگر آپ روزمرہ کے معمولات میں چند مختصر واک شامل کر لیں تو جسم اور ذہن دونوں کو فائدہ ہو گا۔

2500 قدم: کم از کم حد

ڈاکٹر میک ڈوول کے مطابق: ’اگر کوئی شخص روزانہ 2500 قدم سے کم چلتا ہے تو بیماری اور موت کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ان کے تجربے میں 2500 قدم یا اس سے کم چلنے والے تقریباً ہر مریض میں اداسی یا ڈپریشن کی علامات موجود ہوتی ہیں۔

3000 سے 3500 قدم: نمایاں فرق

ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص اپنے روزانہ قدموں کی تعداد 2500 سے بڑھا کر 3000 کر لے تو موت کے مجموعی خطرے میں سات فیصد کمی آتی ہے، جبکہ 3500 قدم پر یہ کمی 15 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔

ڈاکٹر کونلی کہتی ہیں کہ 3800 قدم روزانہ چلنا ڈیمنشیا کے خطرے میں کمی کے لیے واک کے زیادہ سے زیادہ فوائد کا تقریباً 50 فیصد فراہم کرتا ہے۔

5000 قدم: کینسر اور ڈپریشن کے خلاف مدد

تحقیقی مطالعات کے مطابق 5000 قدم روزانہ چلنے والے افراد میں کینسر کے خلاف حفاظتی اثرات اور ڈپریشن کی علامات میں کمی دیکھی گئی ہے۔

7000 قدم: ’گولڈ اسٹینڈرڈ‘

ماہرین کے مطابق روزانہ 7000 قدم چلنا صحت کے لیے ایک مؤثر اور حقیقت پسندانہ ہدف سمجھا جاتا ہے۔

2025 میں دی لینسٹ میں شائع ہونے والے ایک تجزیے کے مطابق، روزانہ 7000 قدم چلنے والے افراد میں:

ڈپریشن کی علامات کا خطرہ 22 فیصد کم

ڈیمنشیا کا خطرہ 38 فیصد کم

مجموعی اموات کا خطرہ 47 فیصد کم

دل کی بیماری کا خطرہ 25 فیصد کم دیکھا گیا۔

اس کے علاوہ کینسر سے اموات میں 37 فیصد، ٹائپ ٹو ذیابیطس میں 14 فیصد اور گرنے کے خطرے میں 28 فیصد کمی دیکھی گئی۔

9800 قدم: ڈیمنشیا کے خطرے میں نصف کمی

2022 میں جاما نیورولوجی میں شائع ایک تحقیق کے مطابق روزانہ تقریباً 9800 قدم چلنے سے ڈیمنشیا کا خطرہ نصف تک کم ہو سکتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ تیز رفتار چلنا اضافی فائدہ دیتا ہے۔

صحیح طریقے سے چلنا بھی ضروری

ڈاکٹر میک ڈوول کے مطابق صرف چلنا ہی کافی نہیں بلکہ مؤثر انداز میں چلنا بھی اہم ہے۔

وہ چار بنیادی نکات بتاتی ہیں:

سیدھا چلیں: سر اوپر رکھیں تاکہ جسمانی توازن اور پوسچر بہتر رہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نرم قدم رکھیں: زور سے قدم مارنے کے بجائے نرم انداز اپنائیں تاکہ جسم پر دباؤ کم ہو۔

تیز رفتار اختیار کریں: عام رفتار 90 سے 100 قدم فی منٹ ہوتی ہے، جبکہ تیز واک 120 قدم فی منٹ یا اس سے زیادہ ہوتی ہے۔

کبھی کبھار الٹا چلیں: یہ جسم کے ان پٹھوں کو متحرک کرتا ہے جو عام طور پر کم استعمال ہوتے ہیں، خصوصاً گھٹنوں کے درد میں مفید ہے۔

صرف چلنا کافی نہیں

ماہرین کے مطابق واک کے ساتھ ہفتے میں کم از کم دو بار طاقت بڑھانے والی ورزشیں بھی ضروری ہیں۔

ڈاکٹر میک ڈوول کہتی ہیں: ’روزانہ چلیں اور ہفتے میں کم از کم دو بار اسٹرینتھ ٹریننگ کریں۔ فارمولا بہت سادہ ہے، بس مستقل مزاجی چاہیے۔‘

ان کے مطابق خاص طور پر خواتین کے لیے طاقت بڑھانے والی ورزشیں ہڈیوں کی مضبوطی، جسمانی استحکام اور بڑھتی عمر میں حرکت برقرار رکھنے کے لیے بے حد اہم ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *