پراسرار محافظ جِن، ویران راستوں میں ’گور‘، چترال کے توہمات

چترال کی بلند و بالا وادیوں، گہری خاموش راتوں اور صدیوں پرانی تہذیبی یادداشت میں ایک ایسی دنیا آباد ہے جس میں حقیقت اور تخیّل کے درمیان حدِ فاصل دھندلا جاتی ہے۔

یہ وہ دنیا ہے جہاں ہر سایہ بظاہر کسی موجودگی کا پتہ دیتا ہے، ہر آواز کسی غیر مرئی وجود کی خبر لاتی ہے اور ہر غیر معمولی واقعہ اکثر کسی نادیدہ مخلوق کی کارستانی سمجھا جاتا ہے۔

ان تصورات نے نہ صرف خوف کو جنم دیا بلکہ روزمرہ زندگی کے معمولات کو ایک پراسرار ترتیب بھی عطا کی۔

گھریلو زندگی میں ’خانگی‘ کو ایک ایسے پر اسرار محافظ جِن کے طور پر دیکھا جاتا تھا جو ہر مکان کی دیواروں کے اندر موجود رہتا۔

کبھی وہ سانپ کی صورت میں دکھائی دیتا، کبھی کسی بزرگ یا اجنبی عورت کے روپ میں اور کبھی محض ایک انجانی موجودگی کی صورت میں محسوس ہوتا۔

اس کی خاموش ناراضی برتنوں کے ٹکرانے، دروازوں کے زور سے بند ہونے اور مکان کے کسی گوشے سے پاؤں کی آہٹ کی صورت میں ظاہر ہوتی۔

لیکن کبھی کبھی ایسے مواقع پر گھر والے گھبراہٹ اور عقیدت کے ملے جلے احساس کے ساتھ خوش بو دار چیزوں کی دھونی کے ساتھ اسے منانے کی کوشش کرتے۔

اور یہی ہستی جب راضی رہتی تو گھر میں ایک عجیب سا سکون قائم رہتا، جیسے کسی ان دیکھے محافظ نے سب کچھ سنبھال رکھا ہو۔

پن چکیوں کی دنیا میں ’خوراوانگ‘ کا تصور جنم لیتا ہے، جو آٹے کی گردش اور پانی کی روانی کے درمیان چھپا ہوا ایک نگران سمجھا جاتا تھا۔

رات کے سناٹے میں چکی کے پتھروں کی غیر معمولی آوازیں یا اچانک بدلتی رفتار اس کی موجودگی کی علامت سمجھی جاتی۔

روایات کے مطابق خوراوانگ ایک حساس مزاج نگہباں تھا۔ اکثر ایک عجیب سی سنسنی اور انجانے خوف کا مرکز بھی بن جاتی۔

اگر پن چکی کے ماحول میں بے ادبی یا خلل پیدا ہو تو اناج بکھر جاتا، آٹا خراب ہو جاتا اور مشینری بگڑ جاتی، گویا کوئی ان دیکھی طاقت اپنی ناراضی کا اظہار کر رہی ہو۔

ایسے حالات میں چکی پر موجود افراد خوف اور احتیاط کے ملے جلے احساس کے ساتھ اس ناراضnaی کو دور کرنے کی کوشش کرتے۔

خوش بودار اشیا کی دھونی دی جاتی، جیسے فضا میں معافی اور احترام کا پیغام چھوڑا جا رہا ہو۔ جب آہستہ آہستہ سب کچھ معمول پر آ جاتا تو یہ سمجھا جاتا کہ خوراوانگ کی ناراضی ختم ہو گئی ہے۔

نیند کے نازک لمحوں میں ’خاپھیسی‘ یعنی ناک کٹے جِن کا خوف جنم لیتا، جو چت لیٹے انسان پر آ کر اسے جکڑ لیتا، جیسے گلا دبا دیتا اور حرکت کی تمام صلاحیت چھین لیتا۔

اس کی گرفت میں آ کر انسان مکمل بے بسی کا شکار ہو جاتا۔ کیوں کہ اس کا ہر عضو، انسان کے اسی عضو پر آ ٹھہرتا ہے، گویا ایک سایہ جسم پر چپک گیا ہو، ایک ایسا سایہ جو سانس کو روک دینا چاہتا ہو مگر مکمل طور پر کامیاب نہ ہو سکے۔

یہاں اس کی ناک کٹی ہونے کا تصور ایک عجیب سی معنویت اختیار کر لیتا ہے: چوں کہ اس کے پاس ناک نہیں ہوتی، اس لیے انسان کی ناک اس کی گرفت سے محفوظ رہتی ہے۔

صرف ناک کے ذریعے سانس کی ایک باریک ڈور باقی رہتی، جو زندگی اور موت کے درمیان آخری ربط کی علامت سمجھی جاتی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ویران راستوں اور سنسان کھنڈرات میں ’گور‘ کا تصور انسانی خوف کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔

سرخ بالوں، الٹے پاؤں اور خوفناک دانتوں والی یہ چڑیل اکیلے انسان کو اپنا شکار بناتی اور اس کا خون چوس لیتی۔

مگر اس کے ساتھ یہ عقیدہ بھی جڑا تھا کہ اگر انسان اس کے خوف پر غالب آ جائے تو وہ اس سے محفوظ رہ سکتا ہے، گویا خوف خود ہی اس کا سب سے بڑا ہتھیار ہو۔

دلچسپ اور قدرے ہولناک پہلو یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ گور صرف ویرانوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ بعض اوقات انسانی ہجوم میں بھی در آتی ہے۔

کسی کی وفات پر تعزیت ہو یا کسی گھر میں خوشی کا موقع، شادی یا بچے کی پیدائش جہاں لوگ اکٹھے ہوں، وہ موقع پا کر کسی کمزور یا تنہا فرد کو نشانہ بنا سکتی ہے۔

مگر اس کا اصل راج پھر بھی رات کی تنہائی ہے، جب سناٹا اپنے عروج پر ہو اور انسان خود کو سب سے زیادہ غیر محفوظ محسوس کرتا ہے۔

انسانی آبادیوں سے دور پہاڑوں، غاروں اور دریاؤں کے کنارے ’نہانگ‘ اور خاص طور پر ’کانُو نہانگ‘ (اندھا جِن) کا تصور ایک ایسے اندھے مگر بے رحم جن کی کہانی سناتا ہے جو انسان اور جانور دونوں کو نگل جانے کی طاقت رکھتا ہے۔

اندھا ہونے کے باوجود اسے سب سے زیادہ سفاک اور بے رحم تصور کیا جاتا، گویا اس بینائی کی کمی نے اس کی درندگی کو اور بھی بڑھا دیا ہو۔

وہ ہمیشہ ان دیکھے خطرے کی صورت میں موجود رہتا ہے، جسے کسی نے حقیقت میں نہیں دیکھا مگر سب نے محسوس ضرور کیا ہے۔

آتش دان کی آگ میں ’پھیروٹھیس‘ کا وجود گھر کی حرارت اور نظام کا نگہبان سمجھا جاتا تھا۔ جب تک وہ خوش رہتا، آگ اپنی روانی کے ساتھ جلتی رہتی۔

 کھانا بہ خوبی تیار ہوتا اور گھر کے معمولات بغیر کسی خلل کے جاری رہتے۔ مگر اس کی ناراضی سے آگ بے قابو یا بے اثر ہو جاتی، کھانا جل جاتا اور فضا میں غیر معمولی آوازیں پیدا ہوتیں۔

اس کی رضا حاصل کرنے کے لیے خوش بو اور دھونی کا استعمال کیا جاتا، گویا آگ کے ساتھ ایک خاموش معاہدہ قائم رکھا جاتا ہو۔

مویشی خانوں میں ’شالوشیری‘ کو ایک نادیدہ محافظ کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ کہا جاتا تھا کہ شالو شیری مویشی خانے کا مستقل مکین ہے۔

اس کی موجودگی مویشیوں کی صحت اور افزائش سے جڑی ہوئی تھی۔ اگر مویشی خانے میں کوئی ناپسندیدہ واقعہ پیش آتا، مثلاً صفائی میں کوتاہی، بے احتیاطی یا کسی قسم کی بے ادبی تو یہ سمجھا جاتا کہ شالوشیری ناراض ہو گیا ہے۔

اس ناراضی کے مبینہ اثرات جلد ہی ظاہر ہونے لگتے: مویشی بیمار پڑ جاتے، دودھ کی پیداوار کم ہو جاتی، یا اچانک کسی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا۔

یوں لگتا جیسے کسی ان دیکھے نگہبان نے اپنی رضا واپس لے لی ہو۔ جب کہ تیل کی دھونی اور روغنِ اخروٹ کی مخصوص خوراک کے ذریعے اسے راضی کیا جاتا۔

پریوں کے لیے ’شوانان‘ کا لفظ احتراماً استعمال ہوتا تھا۔ گویا ان کے وجود میں حسن کے ساتھ ایک غیر مرئی وقار بھی شامل ہو۔

شکاری سفر کے دوران انھیں خوش رکھنے کے لیے روٹی پیش کرتے اور بلند آواز میں ان کی رضا طلب کرتے، تاکہ شکار کے دوران کسی خطرے سے محفوظ رہ سکیں۔

اس عمل کو ’شوانان شینجیک‘ یعنی پریوں کو خوش رکھنے کا عمل کہا جاتا تھا۔ اسی طرح ’دوخنہ لکھِک‘ یعنی دھونی دینے کا عمل ممکنہ آفات کو دور کرنے کا ایک روحانی طریقہ سمجھا جاتا تھا۔

زندگی کے آغاز اور اختتام پر ’ہَلمستی‘ کا خوف سب سے زیادہ گہرا تھا۔ کتے کی شکل کا یہ بظاہر جن نومولود بچوں اور مردوں کے قریب رہتا اور انہیں اٹھا لے جانے کی کوشش کرتا۔

اسی لیے زچہ و بچہ اور میت کے گرد مسلسل نگرانی رکھی جاتی اور قبرستان تک میں روشنی کا انتظام کیا جاتا، گویا اندھیرے کے خلاف ایک مسلسل جنگ جاری ہو۔

مویشی خانے کے ایک اور پہلو میں ’جشتان‘ ایک بونے جن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے لیکن اس کی کارستانیاں بڑی سمجھی جاتی تھیں۔

وہ خاموش سے گھروں میں در آتا، اناج کو نقصان پہنچاتا اور مویشیوں کو بے سبب پریشان کرتا۔ اسے بھگانے کے لیے اجتماعی رسومات ادا کی جاتیں جسے ’جشتان ڈیکئیک‘ کہا جاتا۔

اس رسم میں درختوں کی ٹہنیوں سے گاؤں کے کونے کونے کو علامتی طور پر مارا جاتا اور جشتانوں کو پہاڑوں کی طرف دھکیلنے کا تصور کیا جاتا۔

بعض اوقات اس عمل میں ملنے والا ’جشتان دُوغُور‘ یعنی جشتان کا ناخن خوش قسمتی کی علامت سمجھا جاتا۔

اسی طرح ایک مشہور مثل بھی زبان زدِ عام تھی: ’جشتان تان کھویو بندی‘یعنی جشتان اپنی ٹوپی کا قیدی ہے۔

اس کہاوت کے مطابق اگر کوئی شخص کسی طرح جشتان کی ٹوپی حاصل کر لے تو جشتان اس کا مطیع بن جاتا ہے۔

وہ اس کے حکم کے بغیر کہیں نہیں جا سکتا اور اس کی ہر خواہش پوری کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ یوں ایک معمولی انسان بھی اس پراسرار مخلوق پر غلبہ پا کر اپنی تقدیر بدل سکتا ہے۔

پریوں اور جنگل کی فضا میں ’مرغاٹِھیپی‘ ایک پروں والی بلا کے طور پر سامنے آتی ہے جو رات کے وقت بھاری اور کرخت آوازوں کے ساتھ درختوں پر منڈلاتی ہے۔

اس آواز سے عجیب سا خوف پیدا ہوتا اور راہ گیر اکثر اپنی رفتار تیز کر لیتے اور بعض اوقات راستہ بدلنا ہی بہتر سمجھتے۔

یہ تنہا مردوں کے لیے خطرہ سمجھی جاتی، مگر عورتوں سے دور رہتی، کیوں کہ انھیں اس کی کمزوری تصور کیا جاتا تھا۔

یوں چترال کی یہ توہماتی دنیا محض خوفناک کہانیوں کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی تجربے، فطرت کے مشاہدے اور اجتماعی تخیّل کا ایک پیچیدہ نظام ہے۔

اس میں ہر خوف کے ساتھ ایک احتیاط، ہر خطرے کے ساتھ ایک رسم اور ہر غیر مرئی وجود کے ساتھ ایک معنوی جواز جڑا ہوا ہے۔

یہ بظاہر وہ دنیا ہے جہاں حقیقت صرف آنکھ سے نہیں بلکہ عقیدے اور روایت سے بھی دیکھی جاتی ہے اور جہاں کہانیاں صرف سنائی نہیں جاتیں بلکہ جی جاتی ہیں۔

حوالہ جات: شہزادہ تنویرالملک ۔ (سنِ اشاعت: اگست ۲۰۱۵)۔ موڑکھو: تاریخ کے آئینے میں ۔ پشاور: ڈائریکٹریٹ آف کلچر، حکومتِ خیبر پختونخوا۔

مولا نگاہ ۔ (تاریخ نامعلوم) آڈیو پیغام [غیر مطبوعہ صوتی ریکارڈنگ]۔

زین الملوک چترال سے تعلق رکھتے ہیں اور انہوں نے یونیورسٹی آف پشاور سے پولیٹیکل سائنس اور اردو میں ایم اے اور آغا خان یونیورسٹی کراچی سے ایجوکیشنل لیڈرشپ اینڈ مینجمنٹ میں ایم ایڈ کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔

نوٹ: اس تحریر کو شائع کرنے کا مقصد ان توہمات کا فروغ نہیں بلکہ موجودگی پر بحث ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *