امریکی شہری ملک چھوڑ کر کہاں جانا چاہتے ہیں اور کیوں؟

اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی سخت بیان بازی اور پالیسیوں کے باعث امریکی شہریوں میں متبادل پاسپورٹ یا ’پلان بی‘ کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ سال آباؤ اجداد کی بنیاد پر آئرش شہریت کے حصول کی امریکی درخواستوں میں 63 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق امریکی شہریوں کی جانب سے آئرلینڈ کے فارن برتھ رجسٹر میں دی جانے والی درخواستیں 2024 کی 11601 سے بڑھ کر 2025 میں 18910 ہو گئیں، جو 2013 کے بعد سے سب سے بڑی تعداد ہے۔

وکلا کے مطابق امیگریشن اور ٹرانس جینڈر حقوق پر ٹرمپ کے سخت مؤقف نے امریکی شہریوں کو ہنگامی منصوبے بنانے پر مجبور کر دیا ہے۔

 آئرش وکیل کیرول سینوٹ کے مطابق بہت سے امریکی کلائنٹس محفوظ معاشرے کی تلاش میں ہیں اور ٹرمپ حکومت کے باعث آئرش پاسپورٹ کا حصول ان کی ترجیح بن گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکیوں کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کا ملک اب ان کی اقدار کی عکاسی نہیں کرتا۔

امریکی مردم شماری بیورو کے مطابق 2024 میں تین کروڑ 20 لاکھ سے زائد امریکیوں نے اپنے آباؤ اجداد آئرش بتائے۔ 

امیگریشن ایڈوائس سروس کے ڈائریکٹر اونو اوکیرے گھا کے مطابق ٹیرف میں اضافے، سخت امیگریشن پالیسیوں اور ملک بدری کے اقدامات نے بھی اس ہنگامی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 آئرلینڈ کی یورپی یونین کی مارکیٹ تک رسائی، برطانیہ سے قریبی تعلق اور کاروباری ماحول اسے مزید پرکشش بناتے ہیں۔

امریکیوں کی جانب سے برطانوی شہریت کی درخواستوں میں بھی 42 فیصد اضافہ ہوا ہے جو 2024 کی 6192 سے بڑھ کر 2025 میں 8790 ہو گئیں۔ مینوتھ یونیورسٹی کی محققین میری گلمارٹن اور کلیونا مرفی کے مطابق امریکیوں میں بیرون ملک مواقع تلاش کرنے کا ایک وسیع تر رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ بریگزٹ کے بعد برطانیہ سے بھی آئرش شہریت کی درخواستوں میں 11 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2025 کو ختم ہونے والے سال میں 9,600 امریکی آئرلینڈ منتقل ہوئے، جب کہ اس سے پچھلے سال یہ تعداد 4,900 تھی۔

اس کے علاوہ گذشتہ سال 94 امریکیوں نے آئرلینڈ میں پناہ کی درخواست بھی دی جب کہ 2024 میں یہ تعداد صرف 22 تھی۔ کیرول سینوٹ کے مطابق ٹرمپ کے صدارتی احکامات کے باعث ٹرانس جینڈر افراد کے خلاف مہم اور امتیازی سلوک اس غیر معمولی رجحان کی ایک بڑی وجہ ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *