پرانی دہلی میں جامع مسجد کے سامنے واقع تاریخی اردو بازارآہستہ آہستہ اپنی رونق کھوتا جا رہا ہے اور اب اس کے ختم ہو جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ جو بازار کبھی ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز تھا، آج اسے شہر کی ثقافتی وراثت کا ایک مدھم ہوتا ہوا نشان کہا جا رہا ہے۔
1980 کی دہائی میں یہاں تقریباً 80 سے 100 کتابوں کی دکانیں ہوا کرتی تھیں، لیکن آج صرف دو کے قریب مخصوص کتابوں کی دکانیں باقی رہ گئی ہیں۔ یہ علاقہ اب بڑی حد تک ’کھانے کا بازار‘ بن چکا ہے، جہاں کتابوں کی جگہ کباب، بریانی اور دیگر کھانوں کی دکانیں نظر آتی ہیں۔
اردو بازار کبھی ادب، شاعری اور علمی مباحث کا مرکز ہوا کرتا تھا، جہاں ملک بھر سے قارئین اور اہلِ علم آتے تھے۔ یہاں غالب اور فیض جیسے عظیم شعرا کی کتابیں آسانی سے دستیاب ہوتی تھیں۔
اب مکتب جامعہ لمیٹڈ اور کتب خانہ انجمن ترقی اردو جیسی چند دکانیں ہی باقی ہیں، جو انتہائی کم فروخت کے ساتھ اپنی بقا کی جدوجہد کر رہی ہیں۔
اردو بازار، جسے کتاب بازار یا اردو مندر بھی کہا جاتا تھا، 1920 کی دہائی میں چند دکانوں سے شروع ہوا اور جلد ہی اردو ادب کا ایک اہم مرکز بن گیا۔ یہاں شعرا، طلبہ اور قارئین جمع ہو کر غالب کو پڑھتے، چائے پیتے اور مشاعروں میں شریک ہوتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ پنڈت جواہر لال نہرو بھی یہاں آ کر مشاعروں میں شرکت کرتے تھے۔
1960–1980 کی دہائی میں یہاں 80 سے زیادہ کتابوں کی دکانیں تھیں، جہاں زبان اور ادب پر بحثیں ہوتی تھیں۔
مکتب جامعہ کے مالک محمد محفوظ عالم، جو گذشتہ 36 برسوں سے یہاں کاروبار کر رہے ہیں، کہتے ہیں کہ حکومتی عدم توجہ اس زوال کی بڑی وجہ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’پہلے یہاں دو ہزار سے زیادہ کتابیں شائع ہوتی تھیں، اب بہت کم کتابیں چھپتی ہیں۔‘
محفوظ عالم کے مطابق، پہلے پاکستان سمیت دیگر مقامات سے لوگ یہاں کتابیں خریدنے آتے تھے، لیکن اب یہ روایت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ بہت سے کتاب فروش اپنا کام چھوڑ چکے ہیں، اور کچھ لوگ رکشہ چلانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ کتابوں کی دکانوں کی جگہ اب کھانے پینے کی اشیا کے سٹالز نے لے لی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وہ مزید کہتے ہیں کہ سکولوں اور یونیورسٹیوں میں اردو کی کمی نے بھی قارئین کی تعداد گھٹا دی ہے۔ ’پہلے دہلی آنے والے لوگ اردو بازار ضرور آتے تھے، لیکن اب ان کی دلچسپی ختم ہوتی جا رہے۔‘
ڈاکٹر ضیاالمصطفیٰ مصباحی، جو ایک محقق اور اردو کے مصنف ہیں، بھی اس زوال پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’جو جگہ کبھی کتابوں کے لیے مشہور تھی، آج کھانے کے لیے جانی جاتی ہے۔ لوگ اب یہاں بریانی، کباب اور شربتِ محبت کے لیے آتے ہیں۔ یہ صرف ایک کھانے کا بازار بن کر رہ گیا ہے۔‘
وہ حکومت کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہیں: ’جب حکومت کسی زبان کو فروغ دیتی ہے تو وہ ترقی کرتی ہے، جیسے ہندی کے ساتھ ہوا۔ اردو کو وہ حمایت نہیں ملی، اسی لیے یہ پیچھے رہ گئی ہے۔‘
وہ اردو کے اہلِ علم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس زبان کے فروغ کے لیے آگے آئیں، ورنہ آنے والے وقت میں اردو کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
ماضی کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’پہلے اردو بازار کی گلیاں شعرا، طلبہ اور کتابوں کے شائقین سے بھری رہتی تھیں۔ آج جیسے کتابوں کی دکانوں کے بورڈ چھوٹے اور پرانے ہوتے جا رہے ہیں، ویسے ہی اردو پڑھنے والوں کی تعداد بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔
