تاریخ میں قبیلوں، سلطنتوں اور قوموں کے درمیان معاشی، سیاسی اور مذہبی جذبات کے تحت جنگیں ہوتی رہی ہیں۔ جن میں عام لوگوں سے جان دینے کی روایت ہے تا کہ جنگ میں فتحیاب ہو سکیں۔
تاریخ میں جنگ کے نظریات بدلتے رہے ہیں۔ بدلتے نظریات کے ساتھ ہی فوجیوں میں لڑنے کے لیے جذبات کی نئی شکل بھی ابھرتی رہی ہے۔ ابتدائی دور میں جب قبائل کے درمیان جنگیں ہوتی تھیں تو ان کا مقصد شکست یافتہ قبائل کی زمینوں پر قبضہ کرنا، ان کے جمع شدہ مال و دولت کو لوٹنا اور انہیں غلام بنا کر ان سے محنت و مشقت کرانا تھا۔
جب دو قبائل کے درمیان جنگ ہوتی تھی تو دونوں جانب سے فوجیں اپنے دیوی دیوتاؤں کو میدانِ جنگ میں لاتی تھیں تا کہ وہ ان کو فتحیاب کروا سکیں۔ شکست کھانے والا قبیلہ اسے دیوتاؤں کی ناراضگی سمجھتا تھا، اور فتحیاب اسے دیوتاؤں کی خوشنودی۔ لہٰذا دونوں جانب سے جنگ میں دیوتاؤں کی شرکت ہوتی تھی۔
جنگ کا نظریہ اس وقت مزید بدلا جب بڑی سلطنتیں قائم ہوئیں، جیسے ایران اور روم کی سلطنتیں۔ اب فوجوں کی تعداد بھی بڑھ گئی۔ مہلک ہتھیار بھی ایجاد ہونے لگے۔ فوج میں نظم و ضبط کی تربیت کی جانے لگی۔ جنگ کی نئی اخلاقی قدریں مقبولِ عام ہوئیں، جس میں بہادری سے لڑنا اور عزت کی خاطر جان دینا شامل تھا، جبکہ جنگ سے فرار بزدلی قرار پایا۔
ایک جنگ میں جب ایرانی سیتھین سے لڑ رہے تھے، تو وہ حملے کی شدت کی وجہ سے فرار ہو کر اپنے کیمپ کی طرف آئے جہاں عورتیں مقیم تھیں۔ عورتوں نے ان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’کیا تم وہیں جانا چاہتے ہو جہاں سے ہم نے تم کو پیدا کیا تھا؟‘ اس پر فوجی شرمندہ ہوئے اور دوبارہ لڑ کر فتحیاب ہوئے۔
جنگِ یرموک میں بھی جب مسلمان بزنطینیوں سے لڑ رہے تھے تو کچھ فوجی فرار ہو کر اپنے کیمپ کی طرف آئے جہاں عورتوں نے ان کو ڈنڈے مار کر دوبارہ جنگ میں بھیج دیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کے نظریے میں اب عزت، وفاداری اور جرات کے جذبات تھے جو فوجیوں کو جان دینے پر آمادہ کرتے تھے۔
بڑی سلطنتوں کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ ان کی فوج میں وہ اقوام بھی شریک ہو جاتی تھیں جنہیں وہ شکست دے چکے ہوتے تھے۔ اس لیے ان افواج میں لڑنے کے لیے جو جذبات تھے وہ سلطنت کے مفادات کے لیے تھے۔ اس میں سے ان کو بھی لوٹ مار کا ایک حصہ مل جاتا تھا۔ رومی اپنی فوج میں نظم و ضبط قائم کرنے کے لیے فوجیوں کو سخت سزائیں بھی دیتے تھے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یورپی عہدِ وسطیٰ میں رومی زوال کے بعد فیوڈلزم کا دور آیا۔ اس عہد میں جو جنگیں ہوتیں ان میں افواج فیوڈل لارڈز کی وفادار ہوتیں، اور اس وفاداری کو نبھاتے ہوئے اپنی جانیں قربان کر دیتی تھیں۔
گیارہویں صدی عیسوی میں صلیبی جنگوں کا آغاز ہوا۔ اب جنگ مذہبی لحاظ سے مقدس ہو گئی۔ پوپ کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا کہ جو اس جنگ میں جائے گا اس کے گناہ معاف ہو جائیں گے، اور قتل ہونے کی صورت میں وہ جنت کا حقدار ہو گا۔ یہ صلیبی جنگیں تقریباً 300 سال جاری رہیں، جن میں ہزارہا لوگ مارے گئے۔ چرچ کی جانب سے ان عیسائی فرقوں کے خلاف بھی جنگ جاری رہی جنہوں نے چرچ سے بغاوت کی تھی۔
جب لوتھر نے کیتھولک فرقے کو چیلنج کرتے ہوئے پروٹسٹنٹ فرقے کی ابتدا کی تو یورپ میں جنگیں فرقہ وارانہ ہو گئیں۔ ان میں سب سے بڑی جنگ جرمنی میں ہونے والی 30 سالہ مذہبی جنگ تھی جو کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فرقوں کے درمیان ہوئی۔ جب 1648 میں ویسٹ فیلیا کے معاہدے کے تحت جرمنی کی ریاستوں کو ان فرقوں کے درمیان تقسیم کر دیا گیا، تو طے یہ پایا کہ جو حکمران کا فرقہ ہو گا، رعایا اسی کی پیروی کرے گی۔ اس کی وجہ سے عام لوگ بھی فرقوں میں تقسیم ہو گئے اور ہجرت کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔ کیتھولک فرقے والے کیتھولک ریاست میں گئے اور پروٹسٹنٹ ماننے والے پروٹسٹنٹ ریاست میں آ گئے۔
جنگ کے نظریے میں اس وقت بڑی تبدیلی آئی جب 1789 میں فرانس میں انقلاب آیا۔ فرانس نے قومی ریاست کی بنیاد ڈال کر انقلاب اور قوم پرستی کا جذبہ پیدا کیا۔ جب فرانس پر دوسرے یورپی ملکوں نے حملے کیے تو وہاں پہلی مرتبہ عام لوگوں کو فوجی تربیت دے کر ان میں یہ جذبہ پیدا کیا گیا کہ وہ اپنے ملک کا دفاع کریں۔ ایک لحاظ سے یہ جنگیں انقلابی اور قومی تھیں، جن میں مذہب کو دخل نہیں تھا۔
جن فوجی افسروں نے ان جنگوں کے بارے میں یادداشتیں لکھی ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرانسیسی فوجی انقلاب کے تحفظ کے لیے خوشی سے اپنی جانیں دے رہے تھے۔ عام لوگوں کی اس فوج نے تربیت یافتہ یورپی افواج کو شکستیں دیں اور کھل کر اپنے قومی جذبات کا اظہار کیا۔
فرانسیسی انقلاب کے بعد جنگیں نہ صرف قومی ہوئیں بلکہ سیکیولر بھی ہو گئیں۔ جنگی جذبات پر اب مذہب اور چرچ کا اثر نہیں رہا۔ پہلی جنگِ عظیم نے جنگ کے نظریے کو مزید تبدیل کر دیا۔ اس جنگ کے فوجیوں کے جو خطوط سینسر ہو گئے تھے، اب انہیں مورخوں کے لیے فراہم کر دیا گیا ہے۔ ان خطوط سے ظاہر ہوتا ہے کہ خندقوں میں لڑنے والے یہ فوجی نہ تو قوم کی خاطر لڑ رہے تھے نہ وطن کی خاطر۔ خندقوں میں انہیں اپنے بیوی بچوں اور خاندان کی فکر تھی۔
یہی صورت حال ان ہندوستانی فوجیوں کی تھی جنہیں زبردستی فوج میں بھرتی کر کے جنگی محاذوں پر بھیج دیا گیا تھا۔ ان کا اس جنگ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس لیے جنگ کو قومی بنانا ایک سیاسی حربہ تھا، تا کہ فوجیوں کو یہ دھوکا دیا جائے کہ وہ سامراج اور سرمایہ داری کے مفادات کے لیے نہیں بلکہ اپنی قوم کی خاطر جانیں دے رہے ہیں۔
یہی صورت حال تقریباً ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کی ہے۔ ماضی میں یہاں جو جنگیں بھی لڑی گئیں وہ حکمراں طبقوں، آمروں کے مفادات اور سرمایہ داروں کے تحفظ کے لیے تھیں، جبکہ عام شہریوں کو ہمیشہ قوم اور وطن کے نام پر ملی نغموں، گانوں اور تقریروں کے ذریعے مشتعل کیا جاتا ہے اور ان سے جان و مال کی قربانی طلب کی جاتی ہے۔
اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ جنگ کے نظریات کا مطالعہ کرتے ہوئے اس کی وضاحت کی جائے کہ اس سے کون فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس سے فائدہ اٹھانے والی اسلحہ ساز فیکٹریاں، فوج کو رسد پہنچانے والے اور وردیاں مہیا کرنے والے ٹھیکیدار ہوتے ہیں، جن کی آمدنی کے لیے فوج اور جنگ کا ہونا ضروری ہو جاتا ہے۔
