امریکہ کا ایرانی تجارتی جہاز پر حملہ، تہران کا جواب دینے کا اعلان

امریکہ اور ایران کے درمیان سیز فائر بدھ کو ختم ہونے جا رہا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں جلد متوقع۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا مذاکراتی ٹیم اسلام آباد بھیجنے کا اعلان، لیکن ایران تاحال فیصلہ نہ کر سکا۔

لائیو اپ ڈیٹس


امریکہ کا ایرانی تجارتی جہاز پر حملہ، ایران کا جواب دینے کا اعلان

ایران کی فوج نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اتوار کو خلیج عمان میں ایک امریکی (ڈسٹرائر) جہاز کی ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز پر فائرنگ کا جواب دے گی۔

یہ ایرانی جہاز امریکی بحری ناکہ بندی سے بچنے کی کوشش کر رہا تھا۔

ایرانی فوج کے مرکزی کمانڈ سینٹر خاتم الانبیا کے ترجمان نے، جس کا حوالہ خبر رساں ادارے ISNA نے دیا، کہا ’ہم خبردار کرتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج جلد ہی اس مسلح قزاقی اور امریکی فوج کے خلاف جواب اور جوابی کارروائی کریں گی۔‘

انہوں نے امریکہ پر الزام لگایا کہ اس نے آٹھ اپریل سے نافذ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ایرانی جہاز ’توسکا‘ نے رکنے کے انتباہات کو نظر انداز کیا، جس کے بعد گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر USS Spruance نے ’ان کے انجن روم میں سوراخ کر کے اسے وہیں روک دیا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹرمپ نے مزید کہا ’اس وقت امریکی میرینز نے جہاز کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے اور اس میں موجود سامان کی جانچ کر رہے ہیں۔‘

یہ واقعہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پیش آیا ہے، جو دنیا کی تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے اور گذشتہ سات ہفتوں سے امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد تقریباً بند رہی ہے۔

ایران نے جمعے کو اس آبنائے کو عارضی طور پر کھولا تھا لیکن اگلے ہی دن اسے دوبارہ بند کر دیا کیونکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والے جہازوں پر اپنی ناکہ بندی برقرار رکھی ہوئی ہے۔

اتوار کو ایک اور پوسٹ میں ٹرمپ نے تہران پر الزام عائد کیا کہ اس نے بدھ کو ختم ہونے جا رہی جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہفتے کو اس اہم بحری گزرگاہ میں حملے کیے۔ اے ایف پی


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *