فون پر کچھ بیچنے والے کیا تمیز کا رویہ نہیں چاہتے؟

2001 کی بات ہے، نوکری شروع کی تھی ماسٹرز کے دوران، ایک دن ایسا دل برا ہوا کہ سوچا سب کچھ جائے بھاڑ میں اور کچھ نیا کام ڈھونڈوں۔

نوکری نہیں چھوڑی، اُسے بھاڑ میں ڈالنے کے بعد ایک اور بھٹی منتظر ہوتی لیکن وہ سین اب بھی ایسے بالکل سامنے ہے آنکھوں کے۔

میں ایک میڈیکل ریپ تھا۔ اللہ بخشے، سی ایم ایچ سے ریٹائر ایک ڈاکٹر کے چیمبر میں ان کے فارغ ہونے کا انتظار کر رہا تھا تاکہ وہ میری پراڈکٹ پریزنٹیشن سن سکیں اور اس کے بعد اگر انہیں سمجھ آتا ہے تو کوئی تگڑا سا آرڈر دیں تاکہ میری سیل تھوڑی بہتر ہو۔

یہ ٹریننگ کے بعد میرا دوسرا یا تیسرا دن تھا جب میں اکیلا کام کر رہا تھا۔ اس سے پہلے کچھ عرصے میں نے انشورنس بیچی تھی۔

اس نوکری میں لگتا تھا کہ یار اتنی جاندار پراڈکٹ ہاتھ میں ہے، سامنے بھی پڑھا لکھا کلائنٹ ہے، باقاعدہ ڈاکٹر ہے، تھوڑی سی عزت کم از کم ضرور ملے گی۔

وہ فارغ ہوئے اپنے کام سے، بلایا، ابھی میں نے سلام کرنے کے بعد نام بتایا تھا اور کمپنی کا نام، انہوں نے سامنے رکھا میرا فولڈر اٹھا کے دور پھینکا اور کہا بھاگ جاؤ یہاں سے۔

ساتھ ہی لمبی چوڑی فہرست سنائی الزامات کی جن کا خلاصہ یہ تھا کہ انہیں کمپنی ان کا منہ مانگا ڈسکاؤنٹ نہیں دیتی۔

میں ان کی شکل دیکھ رہا تھا، کوئی 10 منٹ کے اس سین میں شاید چار جملے میں نے کہے ہوں گے، جو تھے، سوری سر، اور یہ کہ پہلے ہی سب سے زیادہ ڈسکاؤنٹ اس شہر میں آپ کو مل رہا ہے۔

باقی ساری اونچی آواز، ڈانٹ پھٹکار اور ہر بدتمیزی انہی کی طرف سے تھی۔

انتہائی عزت سے چیمبر کا دروازہ بند کیا، باہر نکلا، باقی ساری کالز کینسل کیں اور سیدھا نجف خان کے گھر گیا۔

وہ پڑھ رہا تھا ابھی، اسے میں نے روتے ہوئے کہا استاد لگتا ہے یہ نوکری اپنے بس کی نہیں۔ اس نے بھی یہی کہا چھوڑ دے۔

ابھی کالج سے نکلے تھے، یونیورسٹی چل رہی تھی، اتھرے گجر قسم کا ایک آدمی ایسی تھرڈ کلاس بے عزتی کے بعد کتنے دل سے کام کر سکتا ہے؟

کام میں کرتا رہا اور اگلے 20 سال اسی کام میں خدا نے بہت روزی دی، جو چاہتا تھا وہ کیا، لیکن عزت نامی فٹ بال ہمیشہ کلائنٹ کی ٹھوکر پہ ہوتی تھی۔

اب میں وہ کام نہیں کرتا۔ اس وقت جہاں بھی ہوں، خدا کا شکر ہے لیکن وہ 20 سالہ زندگی مجھے اچھی طرح یاد ہے۔

اس لیے کوشش کرتا ہوں کہ اگر کوئی فون آئے اور ایک اجنبی بچہ یا بچی مجھے کوئی چیز بیچنا چاہ رہا ہو تو اسے نہایت تمیز سے کہوں بیٹا مجھے اس پیکج یا اس پلاٹ کی ضرورت نہیں، جیب بھی اجازت نہیں دیتی، جب ایسا کچھ چاہیے ہوا آپ کو ضرور فون کروں گا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہی کالز میں فراڈ کرنے والے بھی ہوتے ہیں۔

ان کے ساتھ جو مرضی سلوک کریں لیکن کسی بینک سے، موبائل کمپنی سے، یا کسی پراپرٹی بیچنے والے کا فون آتا ہے تو کوشش کیجیے عزت سے بات کریں اور ان کے نام سے انہیں مخاطب کر کے پیار سے سمجھا دیں کہ اس وقت ضرورت ہے نہ وقت۔ بس۔

اور ہاں، فوڈ رائیڈر، پارسل ڈلیوری یا کیب والے غریب بھی آپ ہی کے بلانے پہ آتے ہیں، وہ بھی سیلز والے ہی ہیں، ان کے بھی ٹارگٹس ہیں، تھوڑا رحم ان پر بھی!

چھوٹے شہروں میں آج بھی معمولی پڑھائی کے بعد پیسے کمانے کے لیے پہلی آپشن سیلز جاب ہوتی ہے۔

ایک بچہ جو دو ہفتے یا دو مہینے کی نوکری سے ہے کوشش کریں کہ آپ کو آنے والی کولڈ کال اس کی آخری کال نہ بنے۔

وہ بیچارے سو کالز کرتے ہیں تو ایک کلائنٹ نکلتا ہے، باقی 99 کیا کرتے ہیں وہ سوال خود اپنے آپ سے کر لیجیے۔

اپنی پوری سیلز نوکری میں آج تک وہ کلائنٹ مجھے یاد ہیں جنہوں نے مجھے عزت دی، تمیز سے بات کی، سیل دینے والے نہیں یاد، ریسپکٹ دینے والے یاد ہیں!

فون پر کسی انجان کو عزت دینا بہت معمولی سی بات ہے، آپ آسانی سے یہ کر سکتے ہیں، لیکن اس کا اثر دیرپا ہوتا ہے۔

آپ کا نرم رویہ سیلز والے بچوں میں انرجی بھر دیتا ہے کہ ہاں یار کوئی ایک انسان کا بچہ تو ہے جو ڈھنگ سے بات کر رہا ہے۔

آخر میں بس یہ بات کہ آپ جو بھی نوکری کر رہے ہیں، آپ کے ایک یا دو باس ہوں گے، لیکن سیلز میں ہر کلائنٹ باس ہوتا ہے۔

سوچیں ۔۔۔ خدا نے آپ کو وقتی باس بنا ہی دیا ہے تو آپ کا رویہ کیسا ہونا چاہیے؟


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *