’خان زندہ باد، مودی مردہ باد:‘ مراکش میں ایک پاکستانی کے تاثرات

دنیا کے بہت سے حصوں میں مذہب اور مذہب کی زبان ہی پہلا ویلکم ہوتا ہے۔ مسلم برادر پوچھتے ہیں ’انڈیا؟‘ آپ کہو ’پاکستان‘ تو مسکراہٹ گرمجوش ہو جاتی ہے کہ مسلم برادر اور پھر لین دین کے معاملات میں ڈبل چونا لگانے کی داغ بیل مذہب ملانے سے ہی پڑ جاتی ہے۔

مجھے کامل یقین ہے کہ مراکش میں آمد کے بعد اگر ہم وہاں کے دکان داروں کو کہتے ہیں کہ ہم انڈین ہیں تو بھی مقامی بھائی مسکراہٹ گرمجوش کرنے کا کوئی بہانہ مذہب سے سوا گھڑ لیتے اور برف پگھلا کر باہمی مفادات کو پوری کرنے کی راہ ہموار کر لیتے۔

مراکش میں ٹرینوں کی حالت زار، ٹیکسی ڈرائیوروں کا رویہ، دکان داروں کی بارگینگ سب سے یوں اپنائیت ٹپکتی ہے کہ آٹھ گھنٹے کا کمر توڑ سفر کر کے نہ آئے ہوتے اور ارد گرد لوگ عربی نہ بول رہے ہوتے تو ہم مکمل ’ایٹ ہوم‘ محسوس کرتے۔

اک اور خوش آمدیدی مطابقت اس تضاد کی بھی ہے جس کے ساتھ مشرق اور افریقہ دونوں جی رہے ہیں۔

ایک ہی صحرائی دورے میں یہ تضاد کیا زبردست طریقے سے ابھر کے آیا تھا۔ افریقی گائیڈ اتنا خیال کرنے والا ملا کہ میرے جوتے گیلے رہنے کے خیال سے اک کریانہ سٹور سے گتا اور لائیٹر لے آیا کہ صحرا میں داخلے سے پہلے خشک کرنا ضروری ہے۔

دوپہر کے کھانے پہ ہوٹل والوں نے باورچی خانے یا کسی بھی گرم جگہ تک رسائی نہ دی کہ جوتے کچھ سوکھ جائیں۔ کھانے کے بعد کچھ دور جا کر ڈرائیور نے گاڑی روکی اور اک کریانہ سٹور میں گھس گیا۔

باہر آیا تو ہمراہ کچھ لکڑی کی پھٹیاں اور گتے کے ٹکڑے تھے۔ سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ یہ کس واسطے ہیں۔

چند منٹ بعد فیزنا کے مقام پہ ٹھہری جو صحرا میں اک نخلستان ہے اور 700 سال پرانا آبپاشی کا نظام لیے ہوئے ہے۔

یہاں ڈرائیور نے کہیں سے اک کچرے والی ریڑھی ڈھونڈھی اور لکڑیاں اس پہ رکھ کر آگ جلا کر ہمیں بلایا کہ جوتے سکھا لو۔

فرط جذبات سے ہماری آنکھوں کے گوشے نم ہو گئے کہ سات سمندر پار افریقہ میں کوئی اس مادرانہ شفقت سے ہمارا کس قدر خیال رکھ رہا ہے۔

افریقہ کی اس عنایت کو 24 گھنٹے بھی نہ گزرے تھے کہ دوسرا رخ سامنے تھا۔

صحرا سے واپسی اونٹوں پہ طے تھی مگر میزبانوں نے کہا کہ 200 درہم دو تو واپسی جیپ سے ہو گی اور الجیریا کی سرحد اور اک خانہ بدوشوں کا گاؤں بھی دکھایا جائے گا۔

صبح خانہ بدوشوں کے گاؤں کی سواریاں زیادہ تھیں اور ٹرانسپورٹ کم تھی۔ فقط اک جیپ اور اک ڈالا تھا۔

ہمیں حکم دیا کہ دو اور سواریوں کے ساتھ ڈالے کے پیچھے بیٹھ جاؤ اور کمبل اوڑھ لو۔

خون منجمد کر دینے والی سردی ہے تو کیا ہوا، 15 منٹ کا ہی تو راستہ ہے۔

بہت چوں چرا کی، دیے گئے پیسوں کا حوالہ بھی دیا، انہیں چور ڈاکو بھی کہا مگر وہ نہ مانے اور کہنے لگے کہ جانا ہے تو بیٹھو وگرنہ یہاں صحرا میں ہی رہو۔

یوں ماتھے پہ آنکھیں ایسی رکھیں کہ کوئی شناسائی ہی نہ ہو۔ چار و ناچار دو گوروں اور اک پاکستانی کے ساتھ پیچھے لد کے ملگجا سا گلابی کمبل اوڑھ لیا۔

یوں لگا کہ کوئی اغوا کر کے خرکار کیمپ لے جا رہا ہے۔

جن خانہ بدوشوں کو ہم دیکھنے جا رہے تھے، ان کو تو پیسے دے کر ہم ایسے سیاحوں کو دیکھنا چاہیے تھا۔

نجانے یہ چلن مسلم ملکوں کا خاصہ ہے یا غریب ملکوں کا؟ کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا؟

فاس کے صدیوں پرانے شہر کی تنگ گلیوں میں جہاں کچھ چوڑا علاقہ آتا ہے، ریڑھی والے بھی موجود ہوتے ہیں۔

اک صاحب نے گنے اور مالٹے کے جوس کی ریڑھی لگا رکھی تھی۔ دور سے ہماری زبان میں آواز لگائی کہ ’گنے اور ادرک کا جوس، انڈیا؟ نریندر مودی زندہ باد‘۔

ہم پہلے تو اپنی زبان سن کر چونک سے گئے اور پھر دور سے ہی جواب دیا ’پاکستان‘ تو بولا ’نریندر مودی مردہ باد، عمران خان زندہ باد‘۔

مالٹے کا رس بیچنا مقصود ہے چاہے خان صاحب کے کندھے سے ہو یا مودی جی کی وساطت سے۔

یہاں بہت سے لوگ علیک سلیک کے فوراً بعد کہتے تھے ’یو لک مور موروکن‘۔ صرف ہمیں ہی نہیں ہر دراز قد اور براؤن انسان کو ایسے ہی کہتے تھے۔ وہی شناسائی بڑھا کر اشیا بیچنے کا ڈھنگ کہیے۔

پر دیکھا جائے تو کسی حد تک صداقت بھی لگتی ہے۔ عینی آپا قبر سے اٹھ کر آئیں تو کچھ اجداد کی بات کر کے افریقیوں اور ہمارا گاؤں ملائیں۔ یا ارتقا والوں کا خون جوش مارے تو کوئی منطقی ربط نکالیں اس مماثلت کا۔

ٹور گائیڈ ہو کہ ٹیکسی ڈرائیور کہ ساتھی سیاح، ہر بندہ پوچھتا ہے کہ کہاں سے ہو، جواب پاکستان ملنے پر پھر سے وضاحت مانگتے ہیں کہ ’رہتے بھی پاکستان میں ہو؟‘

مراد ان کی یہ ہوتی تھی کہ پاکستان تو غریب ملک ہے اور اس کے رہنے والوں کی کہاں اتنی سکت ہو گی کہ افریقہ کے صحراؤں کی خاک سیاحت کے نام پہ چھانتے رہیں۔

ہاں وہ پاکستانی جو یورپ یا امریکہ کے شہری ہو چکے ہیں ان سے ضرور یہ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ اس کی استطاعت رکھتے ہوں گے۔

کیا زمانہ آ گیا ہے کہ میڈیا اور سوشل میڈیا پہ اتنی منفی عکاسی ہوتی ہے وطن عزیز کی کہ سیاحت بھی بے یقین اور مشکوک ٹھہر جاتی ہے۔

عزت ہے بھی تو اس پاکستانی کی جو بیرون ملک جا بسا ہے۔

ہم نے بھی یہی احساس مراکش کے لوگوں پر پروجیکٹ کیا کہ یہ بھی غریب مسلمان افریقی ملک ہے تو کہاں کبھی پاکستان کی سیاحت کا سوچا ہو گا اور یہاں گرمجوش ہو کر ان کو وطن عزیز آنے کی دعوت دینا بھی عبث ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

درمیان کے فاصلے، دو طرفہ غربت اور پھر ہمارا دنیا میں منفی تاثر، کچھ بھی تو ایسا نہ تھا کہ مراکش کے شہریوں کی ہنزہ کی پہاڑیوں پر موجودگی کو ممکن بناتا۔

منطق اور امکانات کئی دفعہ دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ شیفشوون نامی نیلے شہر میں یہ امکان یکسر رد ہو گیا۔

فاس سے چار گھنٹے دور اس قصبہ نما شہر کی اک مقامی نوادرات کی دکان میں دکاندار نے معمول کے مطابق پوچھا کہ کہاں سے ہو۔

جواب پاکستان ملنے پہ بے حد جوش میں آ کر کاؤنٹر پہ گیا اور موبائل فون پہ یو ٹیوب کھول کر اپنے دوست کے پاکستان کے وی لاگ دکھانے لگا جو شمالی علاقہ جات میں گھوم پھر رہا تھا۔

کچھ دیر میں یہ جوش کم ہو گیا اور پھر وہی برادر مسلم کا راگ الاپ کر بات کنزیومرازم پہ ختم ہوئی۔

ایک طرف ہم کہتے ہیں کہ دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے اور سوشل میڈیا سے سب کو سب کا پتہ ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔

آج کے دور میں بھی سفر انسانی ذہن پہ مختلف حالات میں رہنے والے انسانوں کی معاشرت اور ثقافت کے بہت سے باب کھول کر یہ یقین دلاتا ہے کہ مذہب اور قومیت کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ہے جس نے بنی نوع انسان کو جوڑ رکھا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *