آپ ڈاکٹروں کے لیے منا بھائی والے سبجیکٹ کب بنے؟

منا بھائی والے سبجیکٹ کی طرح محسوس کیا ہے کبھی آپ نے ڈاکٹروں کے سامنے بیٹھے ہوئے؟

اس کی ایک بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ آپ خود ہر روز نئے ڈاکٹر کے پاس بھاگ رہے ہوتے ہیں۔

فیملی ڈاکٹر کا ایک تصور ہوا کرتا تھا پہلے، اب وہ گلی کے نکڑ پہ بیٹھا ہے، کینٹ میں ہے، جہاں بھی ہے، گھر میں کوئی بیمار ہو گا تو سب سے پہلے اس کے پاس جائے گا۔

اس ڈاکٹر کے لیے آپ سبجیکٹ نہیں ہوتے تھے، وہ گھر کے ہر بندے کو جانتا تھا، اسے یاد ہوتا تھا کہ آپ کی فیملی ہسٹری کیا ہے، اسے آپ کے مزاج اور بیماریوں سمیت حالات کا بھی اندازہ ہوتا تھا، تو وہ سسٹم کیا ٹھیک نہیں تھا؟

اب ہوتا کیا ہے کہ آپ بیمار ہوئے، پہلے کسی جاننے والے ڈاکٹر سے دوا پوچھی، دو دن آرام نہیں آیا تو بھاگ کھڑے ہوئے خود، کان میں درد ہے تو ای این ٹی سپیشلسٹ ڈھونڈا، آنکھ سے پانی بہہ رہا ہے تو آفتھامولوجسٹ کو فون کیا، دوسرے دن جا کے دکھایا، کمر درد ہے تو سیدھے آرتھوپیڈک سرجن کے پاس پہنچ گئے، کیوں بھئی؟ مستقل ایک ڈاکٹر پر یقین کیوں نہیں کر سکتے آپ؟ دو ماہ، تین ماہ، کم از کم اتنا وقت تو بچے کے سر سے جوئیں ختم ہونے میں لگ جاتا ہے، بیماری تو پھر باقاعدہ ایک طبی پیچیدگی ہے، ڈاکٹر اگر ایک چل رہا ہے پہلے سے تو اس پر اعتبار کیوں نہیں کرتے؟

ہاں، خود ڈاکٹر اگر ریفر کرتا ہے آپ کو آگے تو بہترین ہے، جائیں، سپیشلسٹ کو دکھائیں، لیکن اس صورت میں بھی روٹین والے ڈاکٹر کو اپ ڈیٹ کرتے رہیں تاکہ خود سے ہسپتالوں میں گھومتے گھومتے آپ سبجیکٹ نہ ہو جائیں۔

دیکھیں ہم لوگ نائی بیس بیس سال نہیں بدلتے، درزی ساری عمر ایک رہتا ہے، سبزی والا، گوشت والا، دہی والا، سب چیز کے لیے پہلی چوائس وہی دکان ہوتی ہے جہاں ایک مرتبہ اعتبار بن جائے، تو وہ چیز ہم خود اپنی صحت کے لیے کیوں نہیں کر سکتے؟

فیملی ڈاکٹر والا معاملہ واپس آ سکتا ہے اگر آپ خود ڈاکٹر نہ بنیں، خود نت نئے علاج اور ان کو اینڈورس کرنے والے میڈیکل سپیشلسٹ نہ ڈھونڈیں، اور خود اس چیز کے قائل ہوں کہ آپ کی زندگی میں موجود باقی ماہرین کی طرح ڈاکٹر ایک ہی ہونا چاہیے۔

اور اگر بہت بدنصیبی ہے، کسی ڈاکٹر کو اس قابل نہیں سمجھتے آپ کہ اسے ’فیملی ڈاکٹر‘ کے رتبے پر فائز کر سکیں تو ایک کام اور ہو سکتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اپنی میڈیکل فائلز کا پورا ریکارڈ مینٹین کریں، دس سال پرانا آپ کا ایکسرے، دو سال قبل بنی بلڈ رپورٹ، ایک ماہ پہلے والا نسخہ، وہ سب ایک ہی فائل میں آپ کے پاس موجود ہونا اتنے ہی ضروری ہیں جتنا لائسنس اور شناختی کارڈ ہوتا ہے۔

آن لائن ایک فولڈر بنا لیں، جو کچھ ہے اسے آج سے اپ لوڈ کرنا شروع کریں اور خدا نہ کرے جب ضرورت پڑے، وہیں سے پرنٹ نکال کے نئے ڈاکٹر کے سامنے لے جا کر رکھ دیں ۔۔۔ اور کوشش کریں کہ اسے پرانا ڈاکٹر آپ بنا سکیں۔

مریض آدھا ٹھیک تب ہوتا ہے جب اسے ڈاکٹر پر ایمان ہو کہ ڈاکٹر جو ہے یہ میرا دوست ہے، جاننے والا ہے اور مجھے صحیح بات بتائے گا، وہ سین فیملی ڈاکٹروں میں تو ہو جاتا تھا لیکن نئے بندے کے آگے کم از کم آپ ایک پوری فائل رکھیں گے اور اگر وہ اخلاقی طور پہ سکون سے پوری تفصیل دیکھ لے گا تو یقین کریں آپ کے سبجیکٹ ہونے کے چانسز بہت کم رہ جائیں گے۔

ایک نارمل سا ایم بی بی ایس والا مستقل ڈاکٹر آپ کو دربدر کے دھکوں سے بچاتا ہے، وہ آپ کو اس ٹریٹمنٹ سے بچاتا ہے جس کی وجہ سے چڑ کے آپ کہتے ہیں کہ جی ڈاکٹر پیسے کمانے کی مشین بنے ہوئے ہیں، اور وہ اتنا عقلمند ہوتا ہے کہ دانت درد تک کے لیے بنیادی دوائیں آپ کو دے سکتا ہے۔

یاد رکھیں، فیملی ڈاکٹر منا بھائی کی طرح جادو کی جپھی نہیں دیتا لیکن آپ اس کے پاس کمفرٹیبل محسوس کرتے ہیں، اور اسی لیے آدھا ٹھیک آپ خود اپنے اس یقین کی وجہ سے ہو جاتے ہیں کہ آپ سبجیکٹ نہیں ہیں!


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *