پاکستان میں عموماً گاڑی خریدنے سے پہلے بکنگ کرانی پڑتی ہے اور بعض کمپنیوں کی جانب سے گاڑی ڈیلیور کرنے کے لیے مہینوں کا وقت دیا جاتا ہے لیکن اب الیکٹرک سکوٹر یا بائیک کے لیے بھی ایسا ہی کرنا پڑے گا کیوں کہ ملک میں پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ای بائیک کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔
پشاور میں بھی ایسی ہی صورت حال ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو کی ٹیم نے پشاور کے مشہور موٹرسائیکل مارکیٹ کے دورے کے دوران یہی نوٹ کیا کہ خریدار یہاں پہلے بکنگ کراتے ہیں جس کے بعد انہیں ڈیلیوری کی تاریخ دی جاتی ہے۔
ای بائیک بنانے والی کمپنی کے پشاور میں شو روم کے مینیجر ارشد خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ گذشتہ ہفتے مارکیٹ نارمل تھی لیکن اب ای بائیک خریداروں میں اضافہ ہو گیا ہے۔
ارشد خان نے بتایا، ’ہمارے پاس سٹاک ختم ہے جب کہ خریدار اب بھی آرہے ہیں لیکن اب ہم نے بکنگ کا طریقہ کار شروع کیا ہے اور بکنگ کرنے کے بعد کچھ ہفتوں میں بائیک ڈیلیور کی جاتی ہے۔‘
مارکیٹ میں ای بائیک کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے ارشد خان نے بتایا کہ ای بائیک کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری کمپنی کراچی میں ہے اوربائیک پشاور پہنچنے میں دو دن لگتے ہیں۔ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے ای بائیک کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔‘
یہی بات ای بائیک بنانے والی کمپنی ’میٹرو‘ کے پشاور میں قائم شو روم کے مینیجر لقمان الدین نے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ بتایا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے میٹرو کی ای بائیک میں پانچ ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سٹاک ختم ہو چکا ہے جس کی وجہ بارشیں ہیں جن کی وجہ سے سٹاک نہیں پہنچا ہے جب کہ ساتھ میں ڈیمانڈ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
لقمان نے بتایا: ’یونیورسٹی کے طلبہ وطالبات اور پشاور کے پوش علاقے حیات آباد کے رہائشی خواتین میں بھی ای بائیک کا رجحان بڑھ گیا ہے اور وہ بھی خریدنے آتے ہیں۔‘
پاکستان میں دستیاب ای بائیک مختلف اقسام کی بیٹریوں، رینج اور بیٹری کی ساخت میں آتی ہیں جس میں لیتھیم بیٹری سے چلنے والی بائیک بھی اب مارکیٹ میں موجود ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ای بائیک کی رینج 70 کلومیٹر سے تقریباً 120 کلومیٹر فی چارج ہے۔ ایسی ای بائیکس کے مختلف ماڈل دستیاب ہیں جنہیں مختلف کمپنیاں تیار کرتی ہیں۔
پشاور کے شوروم میں موجود بزرگ شہری محمد حنیف نے کو بتایا کہ ان کے پاس پیڑول سے چلنے والی موٹرسائکل موجود ہے لیکن اب اس کا خرچہ برداشت نہیں ہو رہا۔
انہوں نے بتایا کہ ’میں تبلیغ کے لیے جاتا ہوں اور اس مقصد کے لیے پیٹرول بائیک استعمال کرتا ہوں لیکن اب الیکٹرک بائیک لے رہا ہوں کیوں کہ اپنی بائیک میں مہنگا پیٹرول نہیں ڈلوا سکتا۔ میری آمدن اتنی نہیں ہے۔‘
محمد حنیف کو ابھی بائیک نہیں ملا اور ان کے مطابق بکنگ کرا دی اور کچھ ہفتے بعد انہیں الیکٹرک بائیک مل جائے گی۔
