مجھ پر ایپسٹین سے تعلق کا الزام ’سیاسی اور من گھڑت‘: میلانیا ٹرمپ

امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے ایک غیر معمولی خطاب میں جیفری ایپسٹین سے کسی بھی قسم کے تعلق یا ان کے جرائم کا علم ہونے کی تردید کی ہے۔

خاتون اول نے اپنے خلاف ’سیاسی مقاصد رکھنے والے افراد اور اداروں‘ کی جانب سے ’بے بنیاد اور من گھڑت‘ اور ’جھوٹے الزامات‘ کی مذمت کی جنہوں نے ’مالی فائدہ حاصل کرنے اور سیاسی طور پر آگے بڑھنے‘ کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات کا سلسلہ ’رکنا چاہیے۔‘

یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ کس چیز نے خاتون اول کو یہ غیر معمولی خطاب کرنے پر مجبور کیا، لیکن جمعرات کو ان کا پانچ منٹ کا عوامی بیان بدنام زمانہ جنسی مجرم اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت طاقتور اور بااثر شخصیات کے ساتھ ان کے تعلقات پر حکومتی اور حزب اختلاف کے ارکان کی بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد سامنے آیا ہے۔

خاتون اول کا یہ بیان ایپسٹین اور ان کی ساتھی گلین میکسویل، جو سمگلنگ کے جرم میں 20 سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں، کے خلاف وفاقی تحقیقات سے جڑی لاکھوں دستاویزات کے منظر عام پر آنے کے بعد بھی سامنے آیا ہے، جب کہ محکمہ انصاف اور ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکاروں کو اس تحقیقات سے نمٹنے کے حکومتی طریقہ کار پر کانگریس ارکان کی جانب سے متوازی تحقیقات کا سامنا ہے۔

گذشتہ نومبر میں کانگریس سے منظور ہونے اور ٹرمپ کے دستخط سے قانون کا درجہ پانے والی قانون سازی کے تحت، محکمہ انصاف کو 19 دسمبر تک ایپسٹین کی تحقیقات سے جڑی تمام فائلیں عام کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

قانون نافذ کرنے والے وفاقی  اداروں کی تحویل میں موجود تمام مواد کو مکمل طور پر منظر عام پر لانے کی مقررہ تاریخیں گزر جانے کے باوجود، محکمہ انصاف اس کے بعد سے ایپسٹین سے منسلک لاکھوں دستاویزات اور تصاویر شائع کر چکا ہے، جس نے صدر اور ان کے اتحادیوں کے لیے سیاسی بوجھ کی شکل اختیار کر لی ہے۔

خاتون اول نے جمعرات کو کہا کہ وہ کبھی ایپسٹین کی متاثرہ نہیں رہیں۔ انہوں نے نوجوان خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ ان کی زیادتیوں کے بارے میں کسی بھی قسم کے علم کی تردید کی۔

انہوں نے کہا کہ ’میرا کبھی ایپسٹین یا ان کی ساتھی میکسویل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رہا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں کبھی ایپسٹین کی دوست نہیں رہی۔ ڈونلڈ اور مجھے وقتاً فوقتاً انہی پارٹیوں میں مدعو کیا جاتا تھا جن میں ایپسٹین ہوتے تھے کیوں کہ نیویارک سٹی اور پام بیچ میں سماجی حلقوں کا آپس میں ملنا جلنا ایک عام بات ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’میں ایپسٹین کے کسی بھی جرم کے حوالے سے کوئی گواہ یا نامزد گواہ نہیں ہوں۔ ایپسٹین کے معاملے سے متعلق عدالتی دستاویزات، حلفیہ بیانات، متاثرین کے بیانات یا ایف بی آئی کے انٹرویوز میں میرا نام کبھی نہیں آیا۔‘

خاتون اول نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا، ’مجھے ایپسٹین کی جانب سے ان متاثرین کے ساتھ زیادتی کا کبھی کوئی علم نہیں رہا۔ میں کبھی کسی بھی حیثیت میں ملوث نہیں رہی۔ میں کسی بھی چیز کا حصہ نہیں تھی، کبھی ایپسٹین کے طیارے میں سوار نہیں ہوئی، اور کبھی ان کے نجی جزیرے پر نہیں گئی،‘

خاتون اول کا کہنا تھا کہ کہ ایپسٹین نے انہیں ان کے شوہر سے نہیں ملوایا تھا۔ ان کے بقول اس ملاقات کا ذکر ان کی کتاب میں بھی ہے، جو 1998 میں کٹ کیٹ کلب میں اس وقت ہوئی تھی جب وہ ایک ماڈل تھیں اور انہیں پاؤلو زامپولی نے دریافت کیا تھا، جنہوں نے بعد میں انہیں ٹرمپ سے ملوایا۔

 نیویارک کے ماڈلنگ کے حلقوں سے زمپولی کے روابط نے انہیں ایپسٹین کے قریبی تعلق میں رکھا تھا، اور محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات کے بڑے ذخیرے میں زمپولی کا نام کئی بار آیا ہے۔

میلانیا ٹرمپ نے کہا کہ ان پر ’ایپسٹین کی جانب سے جنسی سمگلنگ، نابالغوں کے ساتھ تعلقات اور دیگر گھناؤنے رویوں کے سلسلے میں کبھی قانونی طور پر کسی جرم کا الزام نہیں لگایا گیا اور نہ ہی انہیں مجرم ٹھہرایا گیا ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن انہوں نے اپنے خلاف ’جھوٹے الزامات‘ کا ذمہ دار ’بدطینت اور سیاسی مقاصد رکھنے والے ان افراد اور اداروں کو قرار دیا جو مالی فائدہ حاصل کرنے اور سیاسی طور پر آگے بڑھنے کے لیے میری نیک نامی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، (اور کہا کہ) یہ سلسلہ رکنا چاہیے۔‘

انہوں نے مزید کہا، ’میرے وکلا اور میں نے ان بے بنیاد اور من گھڑت جھوٹوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے اور ہم بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنی اچھی شہرت کو برقرار رکھیں گے۔‘

انہوں نے خاص طور پر دی ڈیلی بیسٹ، سیاسی حکمت عملی ساز اور مبصر جیمز کارویل اور پبلشر ہارپر کولنز یو کے کا نام لیا، جن سے وہ پہلے ہی الفاظ کی واپسی اور معافی نامے وصول کر چکی ہیں۔

نام نہاد ایپسٹین فائلوں میں صدر کا نام ہزاروں بار آیا ہے۔ صدر کا 1990 اور 2000 کی دہائیوں کے دوران ایپسٹین کے ساتھ سماجی میل جول رہا، اور ایپسٹین نے ایک بار خود کو صدر کا ’قریب ترین دوست‘ قرار دیا تھا۔ فائلوں میں نام آنا کسی غلط کام کا ثبوت نہیں ہے۔

دستاویزات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ خاتون اول نے 2002 میں میکسویل کو ایک ای میل بھیجی تھی جس کے آخر میں ’محبت، میلانیا‘ (Love, Melania) لکھا تھا۔

خاتون اول کے مطابق، ان کے پیغام کو ’ایک عام خط و کتابت سے زیادہ کچھ قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘

انہوں نے کہا، ’مجھے شرمناک جیفری ایپسٹین کے ساتھ جوڑنے والے جھوٹ آج ختم ہونے چاہییں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اب کانگریس کے عمل کرنے کا وقت ہے۔ ایپسٹین اکیلا نہیں تھے۔ میں کانگریس سے مطالبہ کرتی ہوں کہ وہ ایپسٹین کا شکار ہونے والی خواتین کو عوامی سطح پر سماعت کا موقع فراہم کرے۔ ہر خاتون کو موقع ملنا چاہیے کہ اگر وہ چاہے تو سرعام اپنی کہانی بیان کر سکے، اور پھر اس کی گواہی کو مستقل طور پر کانگریس کے ریکارڈ میں شامل کیا جائے۔‘

ایپسٹین کیسز سے نمٹنے کے حکومتی طریقہ کار کی تحقیقات کرنے والی ہاؤس اوور سائیٹ کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ نمائندے رابرٹ گارسیا نے رپبلکن چیئرمین جیمز کامر پر زور دیا کہ وہ ’فوری طور پر عوامی سماعت کا شیڈول طے کریں۔‘

کمیٹی کی ایک اور رکن، رپبلکن نمائندہ نینسی میس نے مزید کہا کہ ’اب کانگریس کے عمل کرنے کا وقت ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ایپسٹین اکیلا نہیں تھے۔ اس معاملے پر بڑے پیمانے پر سیاست ہونے کے بعد کئی نامور مرد ایگزیکٹیوز نے اپنے طاقتور عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ یقیناً، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کا جرم ثابت ہو گیا، لیکن ہمیں پھر بھی سچائی کو سامنے لانے کے لیے کھلے عام اور شفافیت کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔‘

لیکن خاتون اول کے بیان نے بظاہر متاثرین کو حیرت میں ڈال دیا۔ متاثرین اور ان کے حامیوں کو علم نہیں تھا کہ انہوں نے ان سے خطاب کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

ماریا اور اینی فارمر نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم دیگر متاثرین کی طرف سے بات نہیں کر سکتیں، لیکن ہم جو چاہتے ہیں وہ احتساب، شفافیت اور انصاف ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اگر وفاقی حکومت واقعی متاثرین کی حمایت کے لیے پرعزم ہے، تو وہ ہم سے پوچھے گی کہ ہم کیا چاہتے ہیں اور اسے حقائق کی پیروی کرنی چاہیے چاہے وہ جہاں بھی لے جائیں۔‘

صدر نے بارہا کسی بھی غلط کام کی تردید کی ہے اور اس بات پر اصرار کیا ہے کہ انہوں نے بچوں سے جنسی زیادتی کے مرتکب اس امیر مجرم کے خلاف تحقیقات شروع ہونے سے برسوں پہلے اس سے تعلقات توڑ لیے تھے۔ ایپسٹین نے جنسی سمگلنگ کے الزامات میں مقدمے کی سماعت کے انتظار کے دوران نیویارک شہر کی ایک جیل کی کوٹھری میں خودکشی کر لی تھی۔

ٹرمپ نے مکمل فائلیں جاری کرانے کی کوششوں کو ڈیموکریٹک حکام کی جانب سے اپنے ایجنڈے سے توجہ ہٹانے کے لیے رچایا گیا ایک ’ڈھونگ‘ قرار دیا ہے، اور ٹرمپ نے ایپسٹین کے نام ایک مبینہ خط کی اشاعت پر دی وال سٹریٹ جرنل کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے، جس خبر کو انہوں نے ’جھوٹی، بدنیتی پر مبنی اور ہتک آمیز‘ قرار دیا تھا۔

نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی خاتون اول پر کسی مجرمانہ غلط کام کا الزام لگایا گیا ہے، اور ایپسٹین فائلوں میں کسی کا نام آنا اس کے مجرم ہونے کی نشاندہی نہیں کرتا۔

خاتون اول کا یہ بیان سابق اٹارنی جنرل پام بونڈی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی سامنے آیا ہے، جنہیں وفاقی حکومت کی جانب سے ایپسٹین فائلوں کو سنبھالنے کے طریقہ کار اور ان کے شریک ملزموں کے خلاف مقدمات نہ چلانے کے دفاع میں ان کی جارحانہ گواہی کے چند ہفتوں بعد صدر نے برطرف کر دیا تھا۔

گذشتہ سال وائٹ ہاؤس میں انتہائی دائیں بازو کے انفلوئنسرز کو دی جانے والی ایپسٹین دستاویزات کی ایک طویل عرصے سے منتظر اشاعت میں زیادہ تر عوامی سطح پر دستیاب معلومات ہی شامل تھیں، اور گرمیوں تک، محکمہ انصاف اور ایف بی آئی نے اعلان کر دیا کہ ایپسٹین سے متعلق مزید دستاویزات جاری کرنے کا ’کوئی جواز‘ نہیں ہے، جس سے حکومت کی جانب سے ان طاقتور عوامی شخصیات کو بچانے کے لیے وسیع پیمانے پر پردہ پوشی کے الزامات نے جنم لیا جنہوں نے کم سن لڑکیوں کا استحصال کیا اور ان کے ساتھ زیادتی کی تھی۔

بدھ کو محکمہ انصاف، جو اب قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ کی سربراہی میں کام کر رہا ہے، نے کہا کہ چوں کہ بونڈی اب انتظامیہ کے لیے کام نہیں کر رہیں، اس لیے وہ ہاؤس اوور سائیٹ کمیٹی کے سامنے ایپسٹین کے حوالے سے اپنی گواہی کے سمن کی تعمیل نہیں کریں گی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *