برطانیہ اے ٹی ایم نہیں: غلامی کا ہرجانہ مانگنے والے ممالک کے ویزے بند کرنے کا منصوبہ

برطانیہ کے امورِ داخلہ کے ترجمان ضیا یوسف کا کہنا ہے کہ جو کوئی بھی ’تاریخ کو ہمارے خزانے کو خالی کرنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنا‘ چاہتا ہے اس کے لیے ’بینک بند اور دروازہ مقفل ہے۔‘

ریفارم پارٹی نے ان ممالک کے کسی بھی فرد کو ویزا جاری نہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جو برطانیہ سے غلامی کے عوض ہرجانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ پارٹی کا اصرار ہے کہ برطانیہ اب ’عالمی سطح پر خود کو تماشہ بننے کو مزید برداشت نہیں کرے گا‘۔

ضیا یوسف نے معاوضے کے مطالبات کو ’توہین آمیز‘ قرار دیا اور ہرجانے کا مطالبہ کرنے والے ممالک پر الزام لگایا کہ وہ ’اس حقیقت کو نظر انداز کر رہے ہیں کہ برطانیہ نے غلامی کو غیر قانونی قرار دینے اور اس پابندی کو نافذ کرنے والی پہلی بڑی طاقت بننے کے لیے عظیم قربانیاں دیں‘۔

ڈیلی ٹیلی گراف میں لکھتے ہوئے ریفارم کے امورِ داخلہ کے ترجمان نے کہا کہ جو بھی ’تاریخ کو ہمارے خزانے کو خالی کرنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنا‘ چاہتا ہے، اس کے لیے اب ’بینک بند اور دروازہ مقفل ہے۔‘

یہ لکھتے ہوئے کہ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران ہرجانے کا مطالبہ کرنے والے ممالک کے لوگوں کو 38 لاکھ سے زیادہ ویزے جاری کیے گئے ہیں، یوسف نے مزید کہا: ’ایک طویل عرصے سے برطانوی عوام حیرت اور جائز غصے کے ساتھ دیکھ رہے ہیں کہ ہمارا سیاسی طبقہ اس ملک کے ساتھ ایک عالمی پائیدان (ڈور میٹ) جیسا سلوک ہونے دے رہا ہے۔‘

’ہمیں کہا جاتا ہے کہ ہم شرم سے اپنے سر جھکا لیں، اپنے ماضی پر معذرت کریں، اور سب سے زیادہ اشتعال انگیز بات یہ کہ صدیوں پہلے کیے گئے مبینہ گناہوں کے لیے ’ہرجانے‘ ادا کرنے کے لیے اپنے بٹوے کھولیں۔‘

’برطانیہ کی خود ملامتی کا دور یہاں ختم ہوتا ہے۔ آج ریفارم یو کے ایک حد مقرر کر رہی ہے۔ ہم دنیا کو نوٹس دے رہے ہیں کہ برطانیہ ماضی کی نسلی شکایات کے لیے اے ٹی ایم نہیں ہے، اور ہم اب عالمی سطح پر خود کو تماشہ بننے کو مزید برداشت نہیں کریں گے۔‘

’جمیکا، نائیجیریا اور گھانا جیسے ممالک ہرجانے کے اپنے مطالبات بڑھا رہے ہیں، ویسٹ منسٹر کے نظام نے انہیں نوازا ہے۔ اب بس بہت ہو چکا۔‘

ریفارم یو کے نے اس سے قبل ہرجانے کا مطالبہ کرنے والے ممالک کے لیے بین الاقوامی امداد ختم کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا۔

مسٹر یوسف کے یہ ریمارکس غلاموں کی تجارت کے عوض ہرجانے سے متعلق 2023 کی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آئے ہیں، جسے عالمی عدالتِ انصاف کے سابق جج پیٹرک رابنسن نے تیار کیا تھا۔ اس رپورٹ میں سفارش کی گئی تھی کہ برطانیہ کو 14 ممالک کو مجموعی طور پر 18.8 ٹریلین پاؤنڈ ہرجانہ ادا کرنا چاہیے۔

2024 میں سر کیئر سٹارمر کو سمووا میں دولتِ مشترکہ کے ایک اہم اجلاس میں ہرجانے پر بات چیت شروع کرنے کے بڑھتے ہوئے مطالبات کا سامنا کرنا پڑا۔

وزیرِ اعظم کو دولتِ مشترکہ کے ممالک سے یہ وعدہ کرنے پر مجبور ہونا پڑا کہ برطانیہ ہرجانے پر بحث کرے گا، لیکن وزرا نے کہا ہے کہ مالی معاوضے کے بارے میں کوئی بات چیت نہیں ہو گی۔

دولتِ مشترکہ کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس میں سر کیئر نے کہا کہ اس نسل کو غلامی کی تاریخ کے بارے میں بات کرنی چاہیے، لیکن انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ کو ہرجانے کے بارے میں اپنے موقف میں ’مستقبل پر نظر‘ رکھنی چاہیے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے خیال میں اس نسل کو اپنے آبا و اجداد کے افعال کا ذمہ دار ٹھهرایا جا سکتا ہے، تو وزیرِ اعظم نے بی بی سی کو بتایا: ’میرے خیال میں ہماری نسل یہ کہہ سکتی ہے کہ غلاموں کی تجارت اور یہ عمل قابلِ نفرت تھا، اور ہمیں اپنی تاریخ کے بارے میں بات کرنی چاہیے۔ ہم اپنی تاریخ بدل نہیں سکتے، لیکن ہمیں اپنی تاریخ کے بارے میں بات ضرور کرنی چاہیے۔‘

اس دوران چانسلر ریچل ریوز نے کہا کہ برطانیہ غلاموں کی تجارت میں اپنے کردار کے لیے ہرجانہ ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔

ہرجانے کا مطالبہ کرنے والے ممالک میں اینٹی گوا اور باربوڈا، بہاماس، بارباڈوس، ڈومینیکا، گریناڈا، ہیٹی، جمیکا، سینٹ کٹس اینڈ نیوس، سینٹ لوشیا، سینٹ ونسنٹ اینڈ گریناڈائنز، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو، گھانا، کینیا، نائیجیریا، بیلیز، گیانا، سورینام اور مونٹسریٹ شامل ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *