’زلزلہ آنے کے بعد چند منٹ تک ان کی چیخیں سنائی دیتی رہیں، پھر اچانک خاموشی چھا گئی۔‘
یہ کہنا تھا بدقسمت خاندان کے پڑوسی اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے والے محب اللہ نیازی کا جنہوں نے ہفتے کو اے پی کو بتایا کہ شمالی افغانستان میں گذشتہ شب آنے والے 5.8 شدت کے زلزلے کے بعد کابل کے نواح میں جان سے جانے والے آٹھ افراد ایک ایسے پناہ گزین خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو حال ہی میں ایران سے واپس آیا تھا۔
اس خاندان میں صرف ایک زندہ بچ جانے والا تقریباً تین سالہ بچہ زخمی حالت میں کابل کے ہسپتال میں زیر علاج ہے۔
افغان حکومت کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت نے ہفتے کو بتایا کہ زلزلے سے اموات کی مجموعی تعداد 12 ہے جبکہ مزید 4 افراد زخمی ہوئے۔
ان کے مطابق پانچ گھر مکمل تباہ اور 33 کو شدید نقصان پہنچا، جس سے کابل، پنجشیر، لوگر، ننگرہار، لغمان اور نورستان کے 40 خاندان متاثر ہوئے۔
کابل کے قریب جان سے جانے والا خاندان ان لاکھوں افغان مہاجرین میں شامل تھا جو 2023 میں ایران اور پاکستان میں کارروائیوں کے بعد واپس لوٹے ہیں۔
یہ خاندان 15 دن قبل ہی افغانستان آیا تھا اور محب اللہ نیازی کے گھر کے قریب ایک عارضی پناہ گاہ میں مقیم تھا۔
گزشتہ چند دنوں کی شدید بارشوں کے باعث زمین نرم ہو چکی تھی، جس سے ملک کے مختلف حصوں میں سیلاب بھی آئے۔ زلزلہ آنے پر ایک دیوار گر کر اس خاندان پر آ گری۔
محب اللہ نیازی نے بتایا: ’میری بیٹی نے مجھے آواز دی کہ دیوار ان پر گر گئی ہے۔ ہم سب بھاگے، لیکن بڑے بڑے پتھر تھے۔ ہم نے پوری کوشش کی، مگر یہ چند افراد کا کام نہیں تھا۔‘
پڑوسی فوری طور پر مدد کے لیے پہنچے اور ملبہ ہٹانے کی کوشش کی، جبکہ مقامی طالبان پولیس کو اطلاع دی گئی، جس کے بعد امدادی ٹیمیں اور ایمبولینسز پہنچیں۔
کم عمر بچے کو زخمی حالت میں ملبے سے نکال لیا گیا اور ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ وزارت صحت کے ترجمان شرافت زمان کے مطابق بچے کے سر پر شدید چوٹ آئی ہے اور اس کا علاج جاری ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تاہم خاندان کی 12 سے 23 سال کی عمر کی چار بیٹیاں اور دو بیٹے اور ان کے والدین جان سے گئے اور امدادی کارکن صرف ان کی لاشیں نکال سکے۔
محب اللہ نیازی نے بتایا کہ انہوں نے ایک دن پہلے اس خاندان کو اپنے گھر میں ٹھہرایا تھا اور زلزلے سے آدھا گھنٹہ پہلے بھی انہیں بارش اور سردی سے بچنے کے لیے اپنے گھر آنے کی پیشکش کی تھی، لیکن وہ نہیں آئے۔
یورو-میڈیٹرینین سیسمولوجیکل سینٹر اور امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق جمعے کی رات آنے والے اس زلزلے کا مرکز ہندوکش پہاڑی سلسلے میں تھا، جو شمالی شہر قندوز سے تقریباً 150 کلومیٹر اور کابل سے 290 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔
افغانستان دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں زلزلے کثرت سے آتے ہیں، اور حالیہ برسوں میں ہزاروں افراد اس قدرتی آفت میں جان گنوا چکے ہیں۔
گذشتہ سال اگست میں مشرقی افغانستان کے ایک دور دراز پہاڑی علاقے میں 6.0 شدت کے زلزلے سے 2200 سے زائد افراد مارے گئے تھے جبکہ نومبر میں شمالی صوبہ سمنگان میں 6.3 شدت کے زلزلے سے کم از کم 27 افراد لقمہ اجل بن گئے اور 950 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
اسی طرح سات اکتوبر 2023 کو مغربی افغانستان میں آنے والے 6.3 شدت کے زلزلے اور اس کے آفٹر شاکس نے ہزاروں جانیں لے لی تھیں۔
