محمد حسنین کا تعلق ضلع اٹک سے ہے. وہ اپنے آٹھ رکنی کمبے کا سہارا بننے کے لیے سعودی عرب جا رہا تھا۔ اس نے قرض حاصل کر کے فیکٹری ورکر کا ویزا حاصل کیا۔ کمپنی نے اس کا ٹکٹ بھی کروا دیا۔
اس نے اپنا سارا سامان پیک کر لیا لیکن پرواز سے چند گھنٹے پہلے بتایا گیا کہ وہ ایئر پورٹ نہ جائے کیونکہ جس کمپنی نے انہیں ملازمت دی تھی اس کی ہدایت آئی ہے کہ صورتحال بہتر ہونے تک کوئی ملازم سفر نہ کرے۔
اب حسنین کی پریشانی صرف بیروزگاری نہیں بلکہ وہ قرض بھی ہے جسے مقررہ وقت پر لوٹانا ہے۔
یہ مسئلہ صرف حسنین کا نہیں بلکہ ان ہزاروں ملازمین کا ہے، جن کی تمام سفری دستاویزات مکمل تھیں مگر انہیں سفر سے روک دیا گیا۔
بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ جو پاکستانی خلیجی ممالک میں پہلے سے کام کر رہے ہیں ان کی تعداد 90 لاکھ سے زیادہ ہے۔ ان کی نوکریاں بھی داؤ پر لگ چکی ہیں۔
یہ جنگ اگر طوالت پکڑتی ہے تو اس کا اثر پاکستانی لیبر مارکیٹ پر کس حد تک پڑے گا اور اس کے نتیجے میں پاکستان کے پاس جو قیمتی زرمبادلہ آتا ہے اس کی ترسیل رک گئی تو اس کے اثرات پاکستانی معیشت پر کتنے تباہ کن ہوں گے؟
پاکستانی معیشت میں ترسیلات زر کا کردار
پاکستان کو گذشتہ مالی سال کے دوران بیرونی ممالک سے جو ترسیلات زر وصول ہوئیں وہ 38.3 ارب ڈالر تھیں۔ یہ اس سے پچھلے مالی سال کے مقابلے میں 26 فیصد زیادہ تھیں۔
اکثر ممالک بیرونی زرمبادلہ کمانے کے لیے تین ذرائع استعمال کرتے ہیں جن میں برآمدات، بیرونی سرمایہ کاری اور ترسیلات زر شامل ہیں۔
پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے جو سالانہ ایک دو ارب ڈالر تک ہی محدود ہے۔
پاکستان کی گذشتہ مالی سال میں برآمدات 32.1 ارب ڈالر رہیں جبکہ اسی مدت میں پاکستان نے 58.38 ارب ڈالر کی درآمدات کیں۔
اس دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ 26.27 ارب ڈالر بنتا ہے، جسے پورا کرنے کے لیے پاکستان ان ترسیلات زر پر انحصار کرتا ہے جو بیرونی دنیا سے اسے وصول ہوتی ہیں۔
اگر یہ چینل متاثر ہوتا ہے تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس کے بعد پاکستان کا معاشی بحران کس سطح پر پہنچ جائے گا۔
روپیہ ڈالر کے مقابلے پر کہاں کھڑا ہو گا اور پاکستان میں مہنگائی کتنی خطرناک حدوں کو چھو جائے گی۔
خلیجی ممالک میں ہماری کتنی لیبر ہے اور وہاں سے سالانہ کتنا زر مبادلہ آتا ہے؟
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (BEOE) کے مطابق 2011-25 کے دوران پاکستان سےتقریباً ایک کروڑ لوگ ملازمتوں کے لیے بیرونی ممالک میں گئے۔
ان میں سے خلیجی ممالک میں 90 لاکھ، 74 ہزار، 208 لوگ ملازمت کے لیے گئے، یعنی 90 فیصد لوگوں کی منزل خلیجی ممالک ہی تھی جہاں انہیں باعزت روزگار ملا اور وہ اپنے خاندان کی کفالت کے قابل ہو سکے۔
پاکستان سے جو لوگ باہر گئے ان میں خلیجی ممالک میں سعودی عرب میں سب سے زیادہ یعنی 54.5، متحدہ عرب امارات میں 31.3، اومان میں 7.5، قطر میں 4.1، بحرین میں 2.1، کویت میں 0.2 اور عراق میں 0.3 فیصد افرادی قوت کو روزگار کے مواقع میسر آئے۔
اسی تناسب سے پاکستان میں جو ترسیلات زر آتی ہیں ان میں بھی خلیجی ممالک سے آنے والی ترسیلات زر کا تناسب 54.1 فیصد ہے۔
یعنی صرف گذشتہ مالی سال کے دوران خلیجی ممالک سے 20.72 ارب ڈالر کی قیمتی ترسیلات زر وصول ہوئیں۔
پاکستان کی گذشتہ سال کی مجموعی ترسیلات زر میں امریکہ، برطانیہ، یورپی اور دیگر ممالک کا حصہ 17.58 ارب ڈالر بنتا ہے۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 2010 میں پاکستان کی لیبر فورس جو پانچ کروڑ 70 لاکھ افراد پر مشتمل تھی وہ 2024 میں بڑھ کر آٹھ لروڑ 30 لاکھ ہو گئی، جس میں سے 80 لاکھ لوگوں کو مشرق وسطیٰ میں ملازمتیں ملیں۔
یہ تعداد گذشتہ 14 سال میں ملازمتوں کے قابل ہونے والے نئے افراد کی تقریباً ایک تہائی بنتی ہے۔
یعنی اس عرصے میں جن ہر تین لوگوں کو نوکریوں کی ضرورت تھی ان میں سے ایک کو نوکری خلیجی ممالک میں ملی۔
اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ خلیجی ممالک میں روزگار کے مواقع اور وہاں سے آنے والی ترسیلات زر پاکستان کا خط حیات ہیں۔
پاکستان نوجوان آبادی کے تناسب کے حوالے سے دنیا میں پہلے نمبر پر ہے جس کی 40.3 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔
ہر سال مزید 20 لاکھ نوجوانوں کو نوکریوں کی ضرورت پڑتی ہے مگر اندرون ملک معاشی سرگرمیوں کی سست روی کی وجہ سے وہ روزگار حاصل نہیں کر پاتے اس لیے انہیں بیرون ملک جانا پڑتا ہے۔
لیبر مارکیٹ پر جنگ کا فوری اثر کتنا ہو سکتا ہے؟
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے مطابق فی الحال ایسے اعداد و شمار تو دستیاب نہیں جن سے اندازہ لگایا جا سکے کہ آگے جا کر کیا ہونے والا ہے؟
تاہم کرونا کی وبا کے دوران یہ شعبہ بری طرح متاثر ہوا تھا اور 2020-21 کے دوران 10 لاکھ لوگ روزگار کے حصول کے لیے بیرونی ممالک کا سفر نہیں کر سکے تھے۔
اگر ہم گذشتہ تین سالوں کے اعداد و شمار دیکھیں تو اس سال محدود تخمینے کے مطابق بھی اس جنگ کی وجہ سے ایک لاکھ ، 14 ہزار سے دو لاکھ ، 28 ہزار افراد باہر نہیں جا سکیں گے اور اگر حالات کچھ زیادہ خراب ہو گئے تو یہ تعداد تین لاکھ 80 ہزار تک بھی پہنچ سکتی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بہت زیادہ خرابی کی وجہ سے یہ تعداد 14 لاکھ کے تشویش ناک ہندسوں کو چھو سکتی ہے۔
پاکستان میں پہلے ہی افغان ٹریڈ روٹ بند ہونے کی وجہ سے سرحدی علاقوں میں بیروزگاری سنگین حدوں کو چھو رہی ہے۔
اگر خلیجی ممالک سے ہمارے کارکن واپس آتے ہیں تو پھر بیروزگاری میں اضافے کے ساتھ ساتھ ہماری ترسیلات زر بھی بری طرح متاثر ہوں گی جو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے مطابق 4.3 ارب ڈالر تک ہو سکتی ہیں۔
پہلے ہی مشرق وسطیٰ کے ممالک میں ہماری برآمدات جنگ کی وجہ سے متاثر ہو چکی ہیں جو پاکستان کی کل برآمدات کا 11 فیصد ہیں۔
اس جنگ کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 50 فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔
اگر آبنائے ہرمز مزید تین ماہ بند رہتی ہے تو تیل کی قیمتیں 120 سے 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔
اس منظر نامے میں پاکستان کی تیل کی برآمدات کا ماہانہ بل 4.5 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے جس سے پاکستان میں مہنگائی کا تناسب جو پہلے ہی سات فیصد ہے وہ 17 فیصد تک پہنچ جائے گا۔
پاکستان کے لیے خطرہ صرف تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہی نہیں بلکہ اس کی معیشت میں ترسیلات زر کا وہ کلیدی کردار بھی ہے جو اس جاری جنگ میں متاثر ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہو چکا ہے۔
نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
