ڈرون بمقابلہ ڈرون: یوکرین کی نئی حکمت عملی نے جنگ کا نقشہ بدل دیا

روس کی یوکرین سے جنگ شروع ہوئے ابھی ایک سال ہی گزرا تھا جب ایک یوکرینی ڈرون انسٹرکٹر نے ایک ایسا خیال پیش کیا جو فوجیوں کو کسی سائنس فکشن فلم جیسا لگا۔

خیال سادہ تو تھا، مگر ناقابلِ یقین بھی، یعنی چھوٹے کواڈکاپٹر ڈرونز کو فضا میں دشمن کے ڈرونز سے ٹکرا دینا۔

فوجیوں نے اسے فوراً مسترد کر دیا۔ ان کے نزدیک ایک چھوٹے ڈرون کو تیزی سے حرکت کرتے ہوئے ہدف سے ٹکرانا تقریباً ناممکن تھا۔ کچھ نے مذاق میں کہا کہ یہ آئیڈیا پیش کرنے والے انسٹرکٹر یقیناً سائنس فکشن سیریز ’سٹار وارز‘ بہت زیادہ دیکھ رہے ہوں گے۔

لیکن جنگ میں وہی خیالات زندہ رہتے ہیں، جو ناممکن لگتے ہیں اور وقت کے ساتھ یہی تصور یوکرین کے دفاع کا ایک اہم ستون بن گیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

روس کی جانب سے دھماکہ خیز ڈرونز شہروں کو نشانہ بنا رہے تھے، جبکہ یوکرین کے پاس مہنگے میزائل کم ہوتے جا رہے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ حملہ آور ڈرونز دفاعی نظام کو عبور کرتے رہے، بجلی کے نظام تباہ ہوتے گئے اور شدید سردی میں شہریوں کو اندھیرے اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اسی دباؤ نے جدت کو جنم دیا اور یوکرینی انجینیئرز نے چھوٹے کواڈکاپٹرز کو انٹرسیپٹر ڈرونز میں تبدیل کرنا شروع کر دیا، یعنی ایسے ڈرونز جو دشمن کے ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر سکیں۔

یہ سستے تھے، نسبتاً آسان اور مؤثر بھی۔ ایک حملے میں انہی انٹرسیپٹرز نے 150 روسی حملہ آور ڈرونز کو گرا دیا۔ یہ صرف ایک ٹیکنالوجی نہیں تھی، بلکہ ایک نئی حکمت عملی تھی۔ جیسے جیسے خطرہ بڑھتا گیا، ویسے ویسے انٹرسیپٹر ڈرونز کی اہمیت بھی بڑھتی گئی۔

یوکرین اب روزانہ ہزاروں کی تعداد میں ایسے ڈرونز تیار کرنے کا ہدف رکھتا ہے جبکہ دنیا بھر کی افواج اس ماڈل کو مستقبل کے دفاع کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ لیکن یہ سب آسان نہیں۔

ایک انٹرسیپٹر ڈرون کو کامیاب بنانے کے لیے رفتار، درستگی اور مہارت تینوں ضروری ہیں۔ پائلٹ کے پاس صرف چند منٹ ہوتے ہیں کہ وہ ایک تیز رفتار ہدف کو تلاش کرے، اس کا تعاقب کرے اور اسے نشانہ بنائے۔ یہ صرف ایک فرد کا کام نہیں بلکہ ایک مکمل ٹیم کی کوشش ہوتی ہے، جہاں ریڈار آپریٹر اور پائلٹ مل کر کام کرتے ہیں۔

اسی دوران، ٹیکنالوجی بھی تیزی سے بدل رہی ہے۔ مگر مقابلہ یہاں ختم نہیں ہوتا۔ روس اب مزید جدید اور تیز رفتار، جیٹ انجن والے ڈرونز استعمال کر رہا ہے، جو موجودہ انٹرسیپٹرز کے لیے ایک نیا چیلنج ہیں۔

اس کے جواب میں یوکرینی انجینیئرز خاموشی سے اگلے مرحلے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ جنگ اب صرف ہتھیاروں کی نہیں رہی بلکہ یہ رفتار، جدت اور بقا کی جنگ بن چکی ہے۔ اور اس جنگ میں ایک حقیقت واضح ہے اور وہ یہ کہ آج کا جدید حل، کل پرانا ہو سکتا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *