گیٹس فاؤنڈیشن کی مدد سے پاکستان کا پہلا اے آئی مرکز عوامی صحت میں کیا بدلے گا؟

لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز (لمز) میں گیٹس فاؤنڈیشن کی مالی معاونت سے پاکستان کا پہلا قومی مصنوعی ذہانت (اے آئی) مرکز قائم کیا جا رہا ہے، جو مقامی زبانوں میں آگہی فراہم کرنے والا اپنی نوعیت کا منفرد ادارہ ہو گا۔

اس مرکز کا بنیادی ہدف زچہ، نومولود اور بچوں کی صحت کے لیے قومی سطح کے الیکٹرانک ڈیٹا کو یکجا کرنا اور جدید اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے بروقت جان بچانے والے حل فراہم کرنا ہے۔

منصوبے کی سربراہ ڈاکٹر مریم مصطفی نے بتایا کہ یہ مرکز پاکستان کی دو بڑی جامعات لمز اور آغا خان یونیورسٹی کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرے گا۔

 

ان کے مطابق ’یہ قومی اے آئی مرکز اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہ پاکستان کی دو ممتاز تحقیقی جامعات… کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر یکجا کر رہا ہے تاکہ زچہ، نومولود اور بچوں کی صحت کو لاحق اہم چیلنج سے نمٹا جا سکے۔‘

 

مرکز کا مقصد ہسپتالوں اور دیہی مراکز میں حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں کے خطرات کی پیش گوئی کرنے والا اے آئی نظام متعارف کرانا ہے، جو ریفرل، ابتدائی تشخیص اور علاج کے تسلسل کو مؤثر بنائے گا۔

 

ڈاکٹر مریم کے مطابق یہ پروگرام پسماندہ علاقوں میں خواتین کو اپنی مادری زبان میں آگہی دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا ’الیکٹرانک ڈیٹا مرتب کر کے… حاملہ خواتین کو اپنے موبائل یا قریبی مرکز میں موجود سسٹم کے ذریعے ان کی مادری زبان میں آگہی دی جا سکے گی۔‘

 

یہ مرکز نہ صرف صحت کے شعبے میں جدت لائے گا بلکہ ملک بھر کے ڈیجیٹل صحت نظام میں موجود خلا کو بھی پر کرے گا۔

مثال کے طور پر وہ مسئلہ جس کے تحت ایک شہر میں موجود خاتون کا میڈیکل ریکارڈ دوسرے شہر میں قابل رسائی نہیں ہوتا، اسے اے آئی مرکز کے ذریعے حل کیا جائے گا۔

اس بارے میں ڈاکٹر مریم نے کہا ’کوئی خاتون کہیں سے بھی علاج کرانا چاہے گی تو اس کا الیکٹرانک ریکارڈ ہر جگہ دستیاب ہوگا۔‘

پہلے مرحلے میں تین سے پانچ سال تک زچہ و نومولود صحت کے لیے مربوط اے آئی سسٹم تیار کیا جائے گا، جسے بعدازاں دیگر شعبوں تک وسعت دی جائے گی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ ماڈل مستقبل میں تعلیم، پالیسی سازی، گورننس اور دیگر عوامی شعبوں میں بھی استعمال ہو سکے گا۔

گیٹس فاؤنڈیشن کی نمائندہ مبارک امام نے اس منصوبے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا ’مصنوعی ذہانت عالمی معیار کے طبی علم کو ملک کے دور دراز علاقوں، استور سے زیارت تک، فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز تک پہنچا کر اس صورتِ حال کو بدل سکتی ہے۔‘

پاکستان میں زچہ اور نوزائیدہ اموات کی شرح خطے میں بلند ترین ہے۔ ہر ایک لاکھ پیدائش پر 186 خواتین جان سے جاتی ہیں جبکہ ایک ڈاکٹر اوسطاً 7.5 لاکھ آبادی کے لیے دستیاب ہے۔

ایسے میں بروقت تشخیص، خطرات کی نشاندہی اور موثر ریفرل نظام جان بچانے کے لیے ضروری ہیں۔ اے آئی حب اسی خلاء کو پُر کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

عملی طور پر یہ نظام ایک فرسٹ لائن ہیلتھ ورکر کو یہ صلاحیت دے گا کہ وہ اے آئی کی مدد سے خون کی کمی جیسی جان لیوا پیچیدگیوں کی فوری نشاندہی کر سکے اور بروقت ریفرل ممکن بنائے۔ اس طرح زچہ اموات میں نمایاں کمی ممکن ہے۔

ڈاکٹر مریم کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان اور لمز دونوں کے لیے سنگِ میل ہے۔

انہوں نے کہا ’اس مرکز کا آغاز ماں، نوزائیدہ اور بچوں کی صحت کے شعبے سے کیا جا رہا ہے کیونکہ یہی وہ شعبہ ہے جہاں فوری توجہ کی اشد ضرورت ہے۔‘

یہ اقدام نہ صرف صحت کے شعبے میں تبدیلی لائے گا بلکہ پاکستان کے اے آئی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنائے گا اور مستقبل میں دیگر قومی ترجیحی شعبوں میں بھی وسعت اختیار کرے گا۔

یہ کامیابی پاکستان کو ان ممالک کی صف میں کھڑا کرتی ہے جو ذمہ دار قومی سطح کے مصنوعی ذہانت پلیٹ فارمز کے ذریعے بڑے سماجی چیلنجز سے نمٹ رہے ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *