پولیس نےٹویوٹا موٹرز اسلام آباد کے ایم ڈی اور کاروباری شخصیت عامر اعوان کے قتل کیس میں پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ حکام نے کہا ہے کہ یہ ایک ’منظم بین الصوبائی ڈکیتی گینگ‘ تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی عمریں 20 سے 21 سال کے درمیان ہیں اور ان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔
عامر اعوان کو ان کے گھر کے اندر، بیوی اور بچوں کی موجودگی میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا۔ مقدمہ مقتول کی اہلیہ کی مدعیت میں تھانہ شہزاد ٹاؤن میں درج ہے۔
آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے کہا کہ اس گینگ میں پانچ افراد شامل تھے، جنہیں ’منصور خان گینگ‘ کے نام سے جانا جاتا تھا اور یہ اسلام آباد، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں وارداتیں کرتے رہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’گینگ کے دو ارکان افغان شہری بھی ہیں اور ملزمان واردات کے دوران مزاحمت کی صورت میں جوابی فائرنگ کے لیے اسلحہ ساتھ رکھتے تھے، حتیٰ کہ جاتے ہوئے سکیورٹی گارڈز کا اسلحہ بھی لے گئے۔‘
آئی جی کا کہنا تھا کہ کیس کی تفتیش کے لیے 17 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں جن میں سیلولر ٹیکنالوجی، کیمرا ٹریکنگ، انٹیروگیشن اور ریڈنگ ٹیمیں شامل تھیں، جبکہ ڈی آئی جی آپریشنز اس آپریشن کی نگرانی کر رہے تھے۔ مجموعی طور پر 31 چھاپے مارے گئے، 93 افراد سے تفصیلی پوچھ گچھ کی گئی، 137 کالز کا تجزیہ کیا گیا اور 257 کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ چھ مقامات کی جیو فینسنگ بھی کی گئی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سمیت جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
آئی جی کے مطابق واقعہ ایک ایسے فارم ہاؤس میں پیش آیا جسے محفوظ سمجھا جاتا تھا اور جہاں سکیورٹی کے انتظامات بھی موجود تھے، تاہم پولیس نے تمام شواہد اکٹھے کر کے ملزمان تک رسائی حاصل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کیس پورے ملک میں توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا اور اسے اسلام آباد پولیس کے لیے ایک ٹیسٹ کیس قرار دیا گیا تھا۔
وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ یہ گینگ ’بلٹ پروف جیکٹ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا اور اس قدر خطرناک تھا کہ بعض علاقوں میں مقامی پولیس بھی اس سے خوف زدہ رہتی تھی۔
طلال چوہدری کے مطابق حالیہ برس کے دوران معمولی جرائم میں 78 فیصد جبکہ سنگین جرائم میں 63 فیصد کمی آئی ہے، اور سیف سٹی منصوبے کی تکمیل سے سکیورٹی نظام مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کو پاکستان کا پہلا سمارٹ سٹی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عامر اعوان کا قتل ایک دل دہلا دینے والا واقعہ تھا، تاہم سیف سٹی، ڈیجیٹل نگرانی اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا گیا، اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
