تازہ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ روزانہ چند منٹ کی شدید جسمانی سرگرمی جیسے بس کے لیے دوڑنا یا تیزی سے سیڑھیاں چڑھنا سنگین صحت کے مسائل مثلاً گٹھیا، دل کی بیماری اور الزائمر کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مختصر مگر شدت والے کام، جیسے بچوں کے ساتھ کھیلنا یا کام کے دوران تیزی سے چلنا صحت پر بڑے مثبت اثرات ڈال سکتے ہیں۔
چینی محققین کے اس مطالعے میں یو کے بائیوبینک سٹڈی کے 96,408 شرکا کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔
ہر فرد نے ایک ہفتے کے دوران اپنی سرگرمی ریکارڈ کرنے والا ڈیوائس پہنا۔ سات سال کے عرصے میں ماہرین نے اس سرگرمی کے ڈیٹا کو موت یا آٹھ مخصوص بیماریوں کے امکان سے جوڑا۔
ان میں دل کی بیماری، غیر معمولی دل کی دھڑکن، ٹائپ ٹو ذیابیطس، جگر کی بیماری، دائمی پھیپھڑوں کی بیماریاں، گردے کی بیماری، الزائمر اور گٹھیا اور سوزشی امراض جیسے سورائسس شامل تھے۔
نتائج سے ظاہر ہوا کہ جو افراد اپنے ورزش کے وقت کا بڑا حصہ شدید سرگرمی میں صرف کرتے تھے ان میں ان بیماریوں کا خطرہ سب کے لیے کم تھا۔
خاص طور پر الزائمر کا خطرہ ان لوگوں کے مقابلے میں 63 فیصد کم تھا جو کوئی شدید ورزش نہیں کرتے جبکہ ذیابیطس کا خطرہ 60 فیصد کم تھا۔
محققین کے مطابق شدید ورزش کا فائدہ اس وقت بھی باقی رہتا ہے جب اس میں صرف معمولی وقت صرف کیا جائے۔
ہنان میں سینٹرل ساؤتھ یونیورسٹی کے پروفیسر منژو شین نے کہا ’شدید جسمانی سرگرمی جسم میں وہ مخصوص ردعمل پیدا کرتی ہے جو ہلکی سرگرمی پوری طرح پیدا نہیں کر سکتی۔
’شدید جسمانی سرگرمی کے دوران، وہ جس سے سانس پھولنے لگے، آپ کا جسم طاقت ور انداز میں ردعمل دیتا ہے۔
’آپ کا دل زیادہ مؤثر طریقے سے خون پمپ کرتا ہے، آپ کی خون کی نالیاں زیادہ لچک دار ہو جاتی ہیں اور آپ کا جسم آکسیجن استعمال کرنے کی صلاحیت بہتر کرتا ہے۔‘
مطالعے میں یہ بات سامنے آئی کہ سوزشی امراض جیسے گٹھیا اور سورائسس کے خطرے کو کم کرنے کے لیے شدت زیادہ اہم ہے جبکہ ذیابیطس اور دائمی جگر کی بیماری جیسے مسائل کے لیے ورزش کا وقت اور شدت دونوں اہم ہیں۔
پروف شین نے مزید کہا ’شدید سرگرمی سوزش کو بھی کم کرتی ہے۔ یہ شاید وضاحت کرے کہ ہم نے سوزشی امراض جیسے سورائسس اور گٹھیا کے ساتھ مضبوط تعلق دیکھا۔
’یہ دماغ میں کیمیکلز کو بھی متحرک کر سکتی ہے جو دماغ کے خلیات کو صحت مند رکھتے ہیں اور شاید یہی الزائمر کے کم خطرے کی وجہ ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پروفیسر شین نے کہا کہ لوگ روزمرہ زندگی میں شدید ورزش شامل کرنے کے لیے جم کی رکنیت کے محتاج نہیں۔
’روزانہ زندگی میں تھوڑی شدید سرگرمی شامل کریں جو سانس پھولنے کا سبب بنے، جیسے تیزی سے سیڑھیاں چڑھنا، کام کے دوران تیز چلنا یا بچوں کے ساتھ کھیلنا، واقعی فرق ڈال سکتی ہیں۔
’صرف 15 سے 20 منٹ فی ہفتہ، یعنی روزانہ چند منٹ، اس طرح کی کوشش کے ساتھ صحت پر نمایاں مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔‘
این ایچ ایس کے مطابق بالغ افراد کو ہر ہفتے کم از کم 150 منٹ معتدل ورزش کرنی چاہیے۔
پروفیسر شین کے مطابق یورپین ہارٹ جنرل میں شائع ہونے والے ان کے نتائج بتاتے ہیں کہ ’ورزش کی نوعیت اہم ہے اور یہ مختلف بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں مختلف اثر ڈالتی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’یہ فرد کے مخصوص صحت کے خطرات کی بنیاد پر زیادہ ذاتی نوعیت کی ورزش کی سفارشات کے دروازے کھول سکتا ہے۔
شدید سرگرمی ہر کسی کے لیے محفوظ نہیں ہو سکتی، خاص طور پر بزرگ افراد یا بعض طبی حالات والے لوگوں کے لیے۔
’ان کے لیے کسی بھی قسم کی حرکت فائدہ مند ہے اور ورزش فرد کے مطابق ہونی چاہیے۔‘
