نئی دہلی سے متصل انڈین شہر گروگرام (پرانا نام گڑگاؤں) میں، جہاں ایپل، مائیکروسافٹ، گوگل اور ایمزون سمیت تقریباً 500 کمپنیوں کے دفاتر موجود ہیں، مسلمانوں کو نماز ادا کرنے کے لیے شہر کے اطراف دیہات میں واقع مساجد تک پہنچنے کے لیے طویل فاصلے طے کرنے پڑتے ہیں۔
انڈین دارالحکومت نئی دہلی سے تقریباً 25 کلومیٹر جنوب میں واقع اس شہر کو ’ملینیئم سٹی‘ یا ’الیکٹرانک سٹی‘ بھی کہا جاتا ہے۔
یہ ایک جدید ٹیکنالوجی مرکز ہے اور سینکڑوں کمپنیوں کے صدر دفتر یہاں قائم ہیں۔ اس شہر میں مندر اور دیگر عبادت گاہیں تو موجود ہیں لیکن مسجدوں کی شدید قلت ہے۔
شہر کے مسلمان نماز کے لیے اطراف کے دیہات کا رخ کرتے ہیں اور ان چھوٹے قصبوں میں نمازیوں کا اتنا دباؤ رہتا ہے کہ صرف جمعے کی نماز چار یا پانچ بار کرنی پڑتی ہے۔ رمضانوں میں یہ نمبر 10 تک چلا جاتا ہے۔
شہر کی مستقل آبادی کا الگ سے تخمینہ موجود نہیں البتہ یہاں اور اطراف کی مجموعی آبادی کا اندازہ 2026 میں تقریباً 13 لاکھ 20 ہزار لگایا گیا ہے۔
اسلامی تنظیموں کے اندازوں کے مطابق شہر میں تقریباً پانچ لاکھ مسلمان رہتے ہیں، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق محنت کش طبقے سے ہے۔
گروگرام میں قبرستان والی مسجد کے امام مولانا سلیم قاسمی کے مطابق ’2014 میں ہندو نواز حکومت آنے کے بعد حالات بدلنے لگے اور کچھ ہی سالوں میں یہاں صورتحال بدترین ہوگئی۔
’2018 تک یہاں مسلمان 116 مقامات پر جمعے کی نماز ادا کرتے تھے، یہ سب مقامات بلدیہ نے مسلمانوں کو دیے تھے، لیکن دھیرے دھیرے ان سب مقامات کو ہم سے چھین لیا گیا۔
’2019 میں، پھر 2020 میں۔ اس طرح تعداد کم ہوتے ہوتے صفر ہو گئی۔ گڑگاؤں میں جو 116 جگہوں پر نماز ہوتی تھی، اب وہ صرف تین جگہوں تک محدود رہ گئی ہے۔
’یہ بھی تین باضابطہ مسجدیں ہیں، جو سائبر سٹی سے کافی فاصلے پر ہیں۔‘
مولانا سلیم قاسمی نے مزید بتایا کہ ان تنیوں مسجدوں پر نمازیوں کا بہت ہی اوور لوڈ ہے، سیکٹر 57 والی مسجد میں پورے سال میں چار یا پانچ مرتبہ جمعہ کی نماز ادا کی جاتی ہے، جبکہ رمضان میں 12 بار جمعہ کی نماز ادا کی جاتی ہے۔
’دنیا میں آپ کو ایسی کوئی مثال نہیں ملے گی کہ ایک ہی مسجد میں گیارہ، بارہ یا تیرہ مرتبہ جمعے کی نماز، عید کی نماز یا بقرعید کی نماز ادا کی جائے۔
مولانا سلیم کے مطابق ’اب اتنی بڑی مسلم آبادی نماز سے بالکل محروم ہے حالانکہ وہ اسی شہر میں رہتے ہیں اور اسی شہر میں کماتے ہیں۔
’کیا حکومت کی ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ ان مسلمانوں کے بارے میں بھی سوچے؟
’آخر وہ ہفتے میں ایک دن اجتماعی طور پر جمعے کی نماز پڑھتے ہیں اور سال میں دو مرتبہ عید کی نماز ادا کرتے ہیں، تو وہ کہاں پڑھیں گے؟
مسلمان یہاں اپنی جگہ کیوں نہیں خریدتے یا لیز پر حکومت سے لیتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ’ہمیں جگہ نہیں دی جا رہی۔ اگر ہم چاہیں کہ ہم اپنے پیسوں سے کوئی پلاٹ خرید لیں یا کوئی جگہ لے لیں اور وہاں نماز کا انتظام کر لیں تو اس پر بھی فوراً فتنہ کھڑا ہو جاتا ہے۔
’پڑوسی لوگ مخالفت کرنے لگتے ہیں اور ایسا ماحول بنا دیا جاتا ہے کہ آدمی چاہ کر بھی وہاں عبادت نہیں کر سکتا اور نہ جگہ خرید سکتا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’سرکاری طور پر بھی ہر ایک دو سال میں مذہبی مقامات کے لیے جگہیں الاٹ ہوتی ہیں۔ تقریباً دس بارہ سال سے ہم اس کے لیے درخواستیں دیتے آ رہے ہیں۔‘
انہوں نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے مزید کہا ’ہم نے لاکھوں روپے جمع بھی کروائے۔ ہڈا میں سیکٹر 29 میں ہم نے اپلائی کیا، سیکٹر 45 میں اپلائی کرنا ہے، سیکٹر 9 میں بھی اپلائی کیا ہے۔
’اس کے لیے ہم نے سفارشیں بھی لگائیں، ملاقاتیں بھی کیں اور ہر ممکن کوشش کی جو ایک انسان کر سکتا ہے۔ اس کے باوجود ہمیں وہ جگہ بھی نہیں دی گئی۔
ایک کمپنی میں ملازم محمد فاروق نے بتایا کہ مساجد بہت کم ہیں اور جگہ جگہ نماز بند کر دی گئی ہے۔
’حکومت اور کچھ لوگوں کی مخالفت کی وجہ سے نماز کے مقامات بند ہو گئے۔ اس کے بعد مساجد میں تین، تین بار، چار چار بار، کہیں دو بار نماز ادا کی جا رہی ہے۔
’جو لوگ دور سے آتے ہیں، جیسے مانیسر وغیرہ سے، وہاں تو مساجد کا کوئی انتظام ہی نہیں۔ کچھ لوگ فیکٹریوں میں نماز پڑھ لیتے ہیں اور باقی لوگوں کی نماز بھی بند ہو گئی ہے۔
’جب جمعہ آتا ہے تو انہیں پورے دن کی چھٹی لینی پڑتی ہے اور وہ اپنے دفتر یا کام پر نہیں جا پاتے۔
اس حوالے سے پولیس کے ایک سینیئر افسر نے بتایا کہ ’نماز کا معاملہ پرانا ہو گیا ہے، پہلے نماز کے خلاف مقامی طور پر(ہندو تنظیموں کی جانب سے) بہت مظاہرے ہوتے تھے۔
’اس لیے امن بنائے رکھنے کے لیے نماز کی اجازت کئی مقامات سے لے لئی گئیں۔ باقی مسلمان مسجدوں میں نماز پڑھتے ہیں۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے پاس گنی چنی مسجدیں ہیں تو پولیس افسر نے کہا ’وہ ہماری ذمہ داری نہیں، ہماری ذمہ دار امن و امان برقرار رکھنا ہے۔‘
