کشمیریوں کی ایران کے لیے عطیہ مہم

چھتر گام کی سارہ بیگم اپنی ساری جمع پونجی کے ساتھ تین گھنٹے کا پیدل سفر طے کر کے سری نگر کے زڈی بل علاقے میں پہنچیں جہاں ایران کی امداد کے لیے مختلف علاقوں سے لوگ ہجوم کی صورت میں جمع ہو رہے تھے۔ ابھی عید کے روز ایران کی امداد کرنے کی اپیل کیا ہوئی کہ ہجوم کے ہجوم پہنچ گئے۔

سارہ بیگم کی پوٹلی میں روپے کے نوٹ نہیں تھے بلکہ ایک یا دو روپے کے سیکڑوں پرانے سکے جو انہوں نے کافی عرصے سے جمع کر رکھے تھے اور مناسب وقت پر ایک گائے خریدنے کی خواہش پال رکھی تھی مگر اب وہ کہتی ہیں:

’جب میں نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی بمباری سے ہونے والے نقصانات کی تصویریں دیکھیں، میرا دل دہل گیا اور ان ماؤں بہنوں کے بارے میں فکر مند ہوئی جن کا سارا اثاثہ چند منٹوں میں زمین بوس کر دیا گیا ہے۔ میں نے ارادہ کیا کہ جو بھی میرے پاس جمع پونجی ہے وہ میں ایران کو دوں گی، گائے کی اس وقت اتنی ضرورت نہیں جتنی میری بہنوں کو مدد کی ضرورت ہے۔‘

عطیات یا چندہ دینے میں سارہ کی طرح ہزاروں کشمیری خواتین ایسے مراکز پر لمبی قطاروں میں کھڑی رہتی ہیں جو انجمنوں نے ایران کی امداد کے لیے مختلف اضلاع میں قائم کیے ہیں۔

کشمیر کے بچے بوڑھے، جوان، امیر غریب، مسلمان، ہندو اور سکھ سبھی اس دوڑ میں شامل ہیں اور ایران کے امدادی اکاؤنٹ میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں، لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ سرکار کی ایران پالیسی میں تبدیلی اور پھر بعض عطیات دینے والوں کی پوچھ تاچھ بیشتر لوگوں کے خدشات اور بےچینی کا باعث بھی بنی ہے۔

بڈگام کے رمیز علی (سکیورٹی کے سبب نام تبدیل کیا گیا ہے) کہتے ہیں کہ انہوں نے جب ایک موٹی رقم ایران کے امدادی اکاؤنٹ میں ڈالی تو انہیں پولیس کی جانب سے ٹیلی فون موصول ہوا اور تھانے میں پیش ہونے کے لیے کہا گیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رمیز کہتے ہیں کہ ’اگر ہم ایران کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو وہ بھی سرکار کی مرضی سے کرنا ضروری بن گیا ہے جیسا کہ آمرانہ نظام میں ہوتا ہو گا۔ ہمیں سرکار کی پالیسی سے کوئی مطلب نہیں، وہ اسرائیل کا ساتھ دے، ہم اس کی حمایت نہیں کر سکتے جس نے فلسطین میں نسل کشی کی ہے۔ مرکزی سرکار کی حالیہ پالیسی نے ہمارے جذبات کو مجروح کیا ہے۔‘

کشمیریوں کے جذبے اور عطیات دینے کی مثال کو سراہتے ہوئے دہلی میں ایرانی سفیر نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ کشمیریوں کے اس جذبے کی قدر کرتے ہیں۔ ایرانی سفارت خانے نے عوامی اصرار پر بینک اکاؤنٹ کی تفصیل جاری کی تاکہ امدادی رقم براہِ راست ایران کو دستیاب ہو سکے۔

تہران ٹائمز نے ایک خبر میں ڈرون کی تصویر شائع کی جس کی عبارت میں کشمیریوں کا شکریہ ادا کیا گیا تھا۔

کشمیریوں کو ایران سے اتنا لگاؤ کیوں ہے؟ دراصل کشمیر اور ایران کے تعلقات صدیوں پرانے ہیں، اور فارسی یہاں کی مقبول ادبی و علمی زبان رہی ہے۔ کشمیر کو ایرانِ صغیر بھی کہا جاتا تھا۔

اس کے علاوہ کشمیر اور ایران کا ثقافتی ورثہ بھی مشترک ہے، وہ چاہے فنونِ لطیفہ ہو، دستکاری ہو، زبان یا پکوان ہو۔ ہر شے پر ایران کی مہر لگی ہوئی ہے۔

17ویں صدی کے عظیم فارسی شاعر غنی کاشمیری، جن کی شعری مہارت کی قدر نہ صرف ایران، بلکہ افغانستان اور وسطی ایشیا میں کی جاتی ہے، سری نگر کے رہنے والے تھے اور یہیں ان کا مقبرہ واقع ہے۔

کشمیر کی بیشتر مستند تواریخ اور ادبی شاہکار بھی فارسی میں تحریر شدہ ہیں جن کا مطالعہ کرنے کے لیے مورخ ایران کا رخ کرتے ہیں اور یہ سلسلہ آج تک قائم ہے۔

کشمیریوں کا تعلق ایران سے ہمیشہ گہرا رہا ہے جس نے پر آشوب دور میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر کئی بار آواز اٹھائی اور عالمی فورمز میں کشمیر کے مسئلے کے پرامن حل کی حمایت کی۔

ماضی میں انڈیا کی حکومت کے ساتھ ایران کے گہرے تعلقات رہے ہیں، مگر اب بظاہر مودی سرکار نے اسرائیل کی محبت میں ایران کے ساتھ تعلقات کو پسِ پشت ڈال دیا ہے اور ایران پر امریکی اسرائیلی حملے کے بارے میں زبان بند رکھی ہوئی ہے۔ جنگ شروع ہونے سے صرف دو دن قبل مودی کا اسرائیل کا دورہ بھی معنی خیز ہے۔

غزہ میں ڈھائی برس سے جاری اسرائیلی نسل کشی کے خلاف ایرانی حمایت نے کشمیریوں میں ایران کے تئیں جذبہ قربت کو مزید گہرا کر دیا اور سرکار کی سختیوں کے باوجود حالیہ اسرائیل امریکہ جارحیت کے مذمتی جلسے جلوسوں سے ایران کی بھرپور حمایت کی۔

گو کہ وادی میں فرقہ واریت اور انتشار بھڑکانے کی کئی عناصر نے کوشش کی جس کے لیے کئی مسلکی مولویوں کی خدمات حاصل کی گئی تھیں لیکن کشمیریوں نے اس کی بھرپور مذمت کر کے ان عناصر کے عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔

عوامی جذبے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انڈیا میں 25 کروڑ مسلم آبادی کے باوجود سرکار نے اسرائیل کی حمایت کا کھل کر مظاہرہ کیا۔ کشمیریوں کی جانب سے بڑھ چڑھ کر ایران کے لیے عطیات جمع کرنے کی مہم مودی سرکار کی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کا ایک طریقہ بھی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ایران کی حمایت میں عوامی جنون اس قدر عیاں ہے کہ ایک گاؤں میں ایک دن میں ایک کروڑ کے برابر عطیات کی اشیا برآمد ہو گئیں۔

یہ پہلا موقع ہے کہ عوامی سطح پر اس وسیع پیمانے پر ایران کے حق میں عوام نے نہ صرف جلوس نکالے بلکہ منظم طریقے سے عطیات جمع کرنے کی ایک بڑی مہم چلائی اور اربوں روپے جمع کر کے ایرانی سفارت خانے کو دے دیے۔

عطیات جمع کرنے والی انجمن سے وابستہ آغا مجتبیٰ کہتے ہیں کہ ’نقدی عطیات کو براہِ راست دہلی میں ایرانی سفارت خانے کے اکاؤنٹ میں جمع کیا جا رہا ہے جبکہ سونا، چاندی یا دوسری اشیا کو فروخت کر کے اس سے حاصل رقم کو اکاؤنٹ میں ڈالا جاتا ہے۔‘

گو کہ سرکار نے ایران کے حق میں جلسے جلوسوں پر خاموشی سے پابندی لگا دی ہے مگر عطیات جمع کرنے کے عمل پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔ بعض رپورٹوں کے مطابق بیشتر عطیہ دینے والوں کی سرزنش بھی کی گئی ہے جس کا برملا اظہار سوشل میڈیا پر ہوا ہے اور ہراساں کرنے کی اس پالیسی کی مذمت کی گئی ہے، مگر آغا مجتبیٰ کہتے ہیں کہ عوام نے کسی کی پرواہ کیے بغیر ایران کی امدادی مہم میں حصہ لیا۔

چند لوگوں نے شکایت کی کہ ان سے پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے اور سرکار کے مطابق یہ امن و عامہ کو برقرار رکھنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

پرتشدد حالات کے پیشِ نظر جموں و کشمیر کی معیشت انتہائی کمزور ہو چکی ہے اس کے باوجود عوام نے اپنا پیٹ کاٹ کر ایرانی عوام کی امداد میں کوئی پس و پیش نہیں کیا اور خطیر رقم بطور امداد جمع کی ہے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *