پی ایس ایل: رنگ بدلتی گیند، مصنوعی آوازیں اور کمزور ٹی وی پروڈیکشن؟

پاکستـان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے گیارہوں ایڈیشن کا آغاز جمعرات کو لاہور میں ہو گیا۔ پی ایس ایل پاکستان کرکٹ کا سب سے بڑا ایونٹ ہے جس کا مداح بے چینی سے انتظار کرتے ہیں۔

اس بار خطے کی کشیدہ صورت حال کے پیش نظر تیل کی قیمتوں میں اضافے پر حکومتی کفایت شعاری مہم کے تحت لیگ تماشائیوں کے بغیر صرف دو مقامات لاہور اور کراچی میں کھیلی جا رہی ہے۔

افتتاحی میچ میں دفاعی چیمیئنز لاہور قلندرز نے نو وارد حیدرآباد کنگزمین کو باآسانی 69 رنز سے ہرا دیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم سوشل میڈیا پر صارفین میچ سے زیادہ سفید گیند کے گلابی پڑ جانے، خالی میدان میں تماشائیوں کی مصنوعی آوازوں اور کمزور ٹی وی پروڈیکشن پر تبصرے کرتے رہے۔

میچ کے دوران ایک عجیب منظر اس وقت دیکھنے میں آیا جب حیدرآباد کی ٹیم فیلڈنگ کر رہی تھی اور کچھ ہی اوورز بعد گیند ہلکے گلابی رنگ کی ہوتی نظر آنے لگی۔

شائقین نے فوراً سوشل میڈیا پر سوال اٹھایا کہ شاید فیلڈنگ ٹیم کی میرون رنگ کی کِٹ نے گیند پر رنگ چھوڑ دیا ہے۔

بیٹرز نے تو اس صورتحال پر کوئی اعتراض نہیں کیا مگر سٹریٹیجک ٹائم آؤٹ کے دوران امپائرز نے گیند تبدیل کر دی۔

کنگز مین کے کپتان مارنس لباشین نے میچ کے بعد پریس کانفرنس میں بتایا کہ انہوں نے دوسرے اوور میں امپائرز کے ساتھ اس مسئلے کو اٹھایا تھا۔

مایوس نظر آنے والے لباشین کا خیال ہے کہ سفید گیند پر رنگ ان کی ٹیم کی کٹ سے لگا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے اس سے قبل ایسی صورت حال نہیں دیکھی۔

ملتان سلطانز کے سابق مالک علی ترین نے ایکس پر کہا ’کنگزمین کی میرون کٹ نے گیند کو گلابی کر دیا۔‘

اس کے علاوہ ناظرین کو پی ایس ایل کے پہلے دن ٹی وی پروڈیکشن کا معیار بھی اچھا نہیں لگا اور انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ میچ کے دوران کیمرے ہل رہے تھے، ویڈیو دھندلی تھی اور ساؤنڈ اور ویڈیو اکثر آؤٹ آف سنک تھے۔

شیری نامی صارف نے اپنی شکایتی ٹویٹ میں لکھا

خالی میدانوں کی وجہ سے نشریاتی ٹیم نے تماشائیوں کی کمی پوری کرنے کے لیے پہلے سے ریکارڈ شدہ سٹیڈیم میں تماشئیوں کا شور تو چلایا، مگر وہ اتنا غیر مناسب تھا کہ پورے میچ میں ایک جیسا شور سنائی دیتا رہا۔

اس کے علاوہ اچانک شور مدہم پڑ جاتا اور پھر یک دم آواز بڑ جاتی، تو دیکھنے اور سننے میں اچھی بھلی محسوس نہیں ہو رہی تھی۔

تحسین قاسم نامی صارف نے اپنی ٹویٹ میں ان آوازوں کو ناخوشگوار قرار دیتے ہوئے انہیں بند کرنے کا مطالبہ کر ڈالا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *